29جولائی 2024ء کے روز برطانیہ کے شہر سٹاک پورٹ میں ایک لرزہ خیز واردات میں 17سالہ نوجوان نے چاقو کے پے در پے وار کر کے تین معصوم بچیوں کو قتل اور دس لوگوں کو زخمی کیا تو پورے ملک میں کہرام برپا ہو گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یہ جھوٹی اور من گھڑت خبر عام کر دی گئی کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث فرد کا تعلق برطانیہ میں مقیم پناہ گزینوں سے تھا جس پر ملک کے طول و عرض میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ شہر بہ شہر توڑ پھوڑ‘ نسلی فسادات اور جلاؤ گھیراؤ نے نو منتخب لیبر حکومت کو ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا کیونکہ تاریخی اعتبار سے لیبر پارٹی بائیں بازو کی سیاست کرتے آئی ہے اور روایتی طور پر اسے تارکینِ وطن کی حامی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا دائیں بازو کی جماعت کنزرویٹو پارٹی‘ جسے شکست دے کر لیبر پارٹی برسر اقتدار آئی تھی‘ نے اس تلاطم خیز ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کیئر سٹارمر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک طرف ملک میں عدم تحفظ کا احساس زور پکڑنے لگا تو دوسری طرف ہر گزرتے دن کے ساتھ ہنگاموں میں تیزی آنے لگی جس کے باعث برطانیہ بھر میں بسنے والے تارکینِ وطن کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ‘ یورپ اور برطانیہ میں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت انگیز جذبات کو فروغ ملا ہے جس کا احساس ان ہنگاموں میں مزید زور پکڑنے لگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک میں بسنے والے کئی قریبی دوست احباب فون کالز اور میسجز کے ذریعے میری خیرو عافیت دریافت کرتے رہے۔ میرے بچوں کو اس ہیجان انگیز ماحول کی تپش محسوس ہوئی تو وہ بھی انجانے خوف میں مبتلا ہو گئے۔ اس خوف و اضطراب کی کیفیت میں مجھ سمیت تقریباً تمام تارکینِ وطن کو یہ محسوس ہونے لگا کہ جیسے برطانیہ میں مزید رہنا ممکن نہیں رہے گا اور ہمیں اپنے اپنے آبائی ملکوں میں ہی واپس لوٹنا پڑے گا۔
مگر لیبر پارٹی کی حکومت‘ جسے اقتدار سنبھالے محض چند ہفتے ہی گزرے تھے‘ فوری طور پر حرکت میں آئی اور وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بے مثال جرأت و بہادری سے اس ہنگامی صورتحال سے آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے قانون و انصاف کے نظام کو متحرک کیا‘ پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ وہ ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ان ہنگاموں میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا تفریق و امتیاز پبلک آرڈر ایکٹ 1986ء کے تحت قانونی کارروائی کرے اور گرفتار کرکے انہیں مقامی عدالت کے سامنے پیش کرے۔ عدالتیں 24 گھنٹوں کیلئے کھول دی گئیں اور عدالتی کارروائی کو میڈیا پر براہِ راست دکھانے کے احکامات جاری کیے گئے۔ بی بی سی سمیت تمام قومی اور بین الاقوامی میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر گرفتاریوں اور عدالتی فیصلوں کے بعد سزا پانے والوں سے متعلق اعداد و شمار نشر کیے گئے تاکہ قانون و انصاف کا بول بالا ہو‘ عام شہریوں میں تشویش و عدم تحفظ کے احساس کو کم کیا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری ہنگاموں میں ملوث عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست 2024ء سے لے کر 18اگست تک ان ہنگاموں پر قابو پانے کیلئے شروع کیے گئے آپریشن میں لگ بھگ 45 ہزار پولیس افسران اور جوانوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے تین سو سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور کم و بیش تین درجن مختلف ہسپتالوں میں علاج معالجے کی غرض سے داخل ہوئے۔ اس آپریشن میں ایک ہزار سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور دو ہفتوں میں کل 474 ملزمان کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ایک سال سے تین سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی۔ درجنوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد محض 72 گھنٹوں میں عدالتی انصاف کے ذریعے پس زنداں ڈالا گیا۔ اگرچہ یہ آپریشن اگلے چھ ماہ جاری رہا اور جنوری 2025ء تک کل اٹھارہ سو سے زائد افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی مگر قانون و انصاف کی فراہمی اور بروقت کارروائی کی بدولت کیئر سٹارمر حکومت نے چند ہفتوں میں ہی اس شورش پر مکمل قابو پا لیا تھا۔ ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا یکسر تبدیل ہو گئی اور امن عامہ کی صورتحال دوبارہ تسلی بخش ہو گئی کہ جیسے یہاں کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران جب برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل کو جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کی افواج کی برطانیہ کی طرف بڑھتی ہوئی پیش قدمی سے آگاہ کیا گیا تو اس نے استفسار کیا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں انصاف مہیا کر رہی ہیں؟ اپنے سوال کا جواب اثبات میں ملنے پر اس نے بڑے اطمینان سے یہ کہا تھا کہ پھر برطانیہ کو ہٹلر کی افواج سے کوئی خطرہ نہیں۔ قانون و انصاف کا یہی مضبوط و مربوط نظام برطانیہ کو دنیا بھر سے نقل مکانی کرنے والے تارکینِ وطن کیلئے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سٹوڈنٹ ویزا میں سختی کے باوجود سالانہ تقریباً چار لاکھ سے زیادہ طالبعلم اس کی مختلف جامعات میں تعلیم و تحقیق کی غرض سے آتے ہیں تو دوسری جانب سیر و سیاحت کیلئے دنیا بھر سے چار کروڑ سے زائد افراد سالانہ برطانیہ کا سفر کرتے ہیں۔ صرف لندن میں روزانہ ستر سے اسی ہزار بین الاقوامی سیاح داخل ہوتے ہیں جن کی تعداد سالانہ دو کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ لندن میں سب سے زیادہ سیاح برٹش میوزیم کا رخ کرتے ہیں۔ 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق سیاحت کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 147 ارب پاؤنڈز کی خطیر رقم برطانوی معیشت میں شامل ہوتی ہے جو مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً پانچ فیصد ہے۔ قانون کی عملداری کے باعث ہی برطانیہ کی تمام شاہراہیں محفوظ ہیں جن پر بلا خوف و خطر دن رات سفر کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر پولیس بہت کم نظر آتی ہے مگر کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جرم کے ارتکاب کی صورت میں پولیس کافوری ردِعمل سامنے آتا ہے۔ برطانیہ بھر کے ٹرین سٹیشنز اور دیگر پبلک مقامات پر پولیس کے ہنگامی ٹیلیفون نمبر درج ہیں جن کے ساتھ پولیس کی جانب سے دیا گیا مختصر پیغام بھی موجود ہے جس میں کسی بھی مشکوک سرگرمی سے متعلق فوری اطلاع کی تاکید ہے۔ اس کے بعد حسبِ قانون کارروائی کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
قانون و انصاف کی حکمرانی کے پیشِ نظر برطانیہ میں کوئی تحریر کردہ آئین نہیں بلکہ ملکی عدالتوں کی طرف سے کیے گئے فیصلے ہی آئین کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ان عدالتی فیصلوں کی روح سے کشید کی گئی اخلاقی اقدار اور سماجی روایات کی پاسداری برطانیہ کے اندر تمام سرکاری اداروں اور عہدیداروں پر لازم ہے۔ کسی بھی خلافِ قانون عمل کے نتیجے میں وہ شخص سب سے پہلے اپنے سرکاری عہدے سے استعفیٰ دیتا ہے اور خود کو حسبِ ضابطہ کارروائی کیلئے پیش کر دیتا ہے بصورتِ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور جرم کا ارتکاب کرنے والے فرد کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کرکے اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جہاں قانون کے مطابق سزا سنائی جاتی ہے۔ برطانوی نظام انصاف کی بنیاد معروف قانون دان اے وی ڈائسی نے 1885ء میں رکھ دی تھی جس نے اس کے تین کلیدی اصول وضع کر دیے تھے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی جان و مال کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا جب تک وہ کسی جرم کا مرتکب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ قانون کا اطلاق ہر کس و ناکس پر بلا تفریق و بلاامتیاز ہو گا اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ تیسرا نمایاں اصول قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے جو عدالتی فیصلوں سے جھلکے گا اور عدالتی انصاف ہی آئین کا متبادل تصور ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں کامن لاء ہی آئین کی اساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں آج بھی کسی باقاعدہ تحریری آئین کی عدم موجودگی کے باوجود عدالتی فیصلوں اور معاشرتی اقدار وروایات کو قانون و انصاف کے نظام کی بنیاد اور ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ قانون و انصاف کے نظام میں ہم آج کہاں کھڑے ہیں‘ یہ آپ بہتر جانتے ہیں۔