"AHC" (space) message & send to 7575

حسینی سیاست اور سائنس

''سبحان اللہ‘‘ کا وِرد ہم انسان بھی کرتے ہیں اور یہی ورد آسمان بھی کرتے ہیں۔ زمین بھی یہ ورد کرتی ہے‘ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو مخلوقات ہیں وہ بھی یہ ورد کرتی ہیں۔ ذرات سے کہکشائوں تک سبھی یہ ورد کرتے ہیں۔ حضرت دائود علیہ السلام جب سبحان اللہ کا ورد کرتے تھے تو پہاڑوں کا ذرہ ذرہ‘ درختوں کا پتا پتا ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا تھا۔ پرندے بھی حضرت دائود علیہ السلام کے ہمراہ ہو کر ان کے ہم آہنگ ہو جایا کرتے تھے۔ یاد رکھیں فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک کا جو وقت ہے اس وقت میں کوئل کوکو کرتی ہے‘ چڑیاں چہچہاتی ہیں۔ ان کی آوازیں ہمارے کانوں میں رس گھول کر دماغ کے نیورونز تک پہنچتی ہیں تو یہ آوازیں ان ویووز (waves) کو دفع کرتی ہیں جو دماغ میں پریشانی اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ان ویوز کو ''بیٹا ویوز‘‘ کہا جاتا ہے۔ پرندوں کی تسبیح میں اللہ تعالیٰ نے عجب سکون رکھا ہے کہ ان سے ''ایلفا اور تھیٹا‘‘ ویووز کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔ سائنسی تجربات سے یہ حقائق ثابت ہو چکے ہیں۔ صحیح مسلم میں اللہ کے رسولﷺ کی حدیث ہے ''جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں جیسے ہیں‘‘۔ جی ہاں! ایسے دل بھی ہیں جو درندوں جیسے ظالم ہیں‘ ایسے لوگ سبحان اللہ کا ورد کرتے بھی رہیں تو ان کا ورد کائنات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ چڑیوں‘ بلبلوں‘ فاختائوں اور کوئلوں کی کوکو کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں سختی گھر کر چکی ہوتی ہے۔ ان کا ''سبحان اللہ‘‘ کہنا اللہ کے پُررحمت نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پاتا لہٰذا دربارِ الٰہی میں اس کی کوئی وقعت نہیں نظر آتی۔ قرآن مجید بتاتا ہے آسمان کپڑے کی طرح بنا ہوا ہے۔ آئن سٹائن اور دیگر سائنسدانوں کی ریسرچ بھی یہی ہے کہ آسمان ''وقت اور خلا‘‘ کے (تانے بانے) ویووز سے بنا ہوا ہے۔ ماضی‘ حال اور مستقبل کی حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگ ماضی کی غلطیوں کے پچھتاوے پر وقت گزارتے ہیں مگر اصلاح نہیں کرتے۔ مستقبل کے خوف کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتے ہیں۔ جو لوگ ماضی اور مستقبل سے اپنے آپ کو آزاد کرکے ''حال‘‘ میں زندگی گزارتے ہیں ان کے سبحان اللہ کی بات ہی کوئی اور ہے۔ جو شکر کی حالت میں زندہ رہتے ہیں ان کی زندگی کے کیا کہنے!
اللہ تعالیٰ زمان ومکان کا خالق ہے۔ اب اسکا کوئی بندہ زمان ومکان میں رہتے ہوئے حق کی خاطر تمام حالتوں سے آزاد ہو جائے تو اسکا ''سبحان اللہ‘‘ اور ''الحمدللہ‘‘ اللہ کے فرشتوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ عرش کے گرد طواف کرنے والے فرشتوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ زمان و مکان کے بہائو میں اللہ کے آخری رسولﷺ کی حکمرانی کا زمانہ‘ رحمت کا زمانہ تھا۔ اسکا نام حضورﷺ نے ''نبوت و رحمت‘‘ رکھا۔ حضورﷺ نے اپنے بعد والے زمانے کا نام بھی رکھ دیا۔ اسے ''خلافت و رحمت‘‘ کا نام دیا۔ تیس سال مدت بھی بتلا دی۔ یہ مبارک زمانہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علی حیدرِ کرارؓ، حضرت حسن مجتبیٰؓ کا زمانہ ہے۔ اب اگلا زمانہ کیسا ہے اس کی ایک جھلک اللہ کے رسولﷺ کی ایک حدیث شریف سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہ حدیث حافظ شہاب الدین البوصیری جو حافظ ابن حجر عسقلانی کے شاگرد ہیں‘ اپنی کتاب ''اتحاف الخیرۃ المھرۃ‘‘ میں لائے ہیں۔ اس کتاب میں وہ احادیث درج ہیں جو دوسری صدی ہجری میں تابعین اور تبع تابعین کی کتابوں سے لی گئی ہیں۔ ہر صحابی کے نام سے درج ان کتابوں کو مسانید کہا جاتا ہے۔ حافظ شہاب الدین کی کتاب کو ریاض کے مکتبہ دارالوطن نے شائع کیا ہے۔ حافظ بوصیری نے اپنی کتاب حافظ ابن حجر عسقلانی کی رہنمائی میں مرتب کی۔ یاد رہے زیر نظر حدیث مختلف مترادف اور اضافی لفظوں کے ساتھ شیخ ناصر الدین البانی اپنی کتاب ''سلسلہ صحیحہ‘‘ میں بھی لائے ہیں۔ میں دونوں احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ترجمہ و تفہیم قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بارش کے فرشتے نے اپنے رب سے گزارش کی کہ وہ حضورﷺ کی زیارت کرنا چاہتا ہے لہٰذ اسے اجازت دی جائے۔ اسے اجازت دے دی گئی۔ یہ دن ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کا دن تھا کہ حضورﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ خیال کرنا کوئی کمرے میں نہ آئے۔ چنانچہ وہ دروازے پر بیٹھ گئیں۔ حضرت حسینؓ گھر میں آ گئے۔ اِدھر اُدھر کھیلتے رہے۔ فرماتی ہیں کہ کسی غرض کی وجہ سے میرا دھیان ہٹا تو حضرت حسینؓ اندر کمرے میں داخل ہو گئے اور لپک کر حضورﷺ کے شکم مبارک پر جا بیٹھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت حسینؓ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور چومنے لگ گئے۔ بارش کا فرشتہ اجازت لے کر اندر آ چکا تھا۔ (ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اندر آئے تھے) حضرت ام سلمہ ؓ بتاتی ہیں کہ یکایک حضورﷺ کے رونے کی آواز آئی تو میں (بھاگی بھاگی) اندر گئی۔ (یاد رہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے جو لفظ استعمال کیا وہ ''نحیب‘‘ ہے۔ لسان العرب وغیرہ کے مطابق یہ ایسی آواز ہے جو لمبی اور پھیلی ہوئی ہو۔ اس میں غم اور بہت دکھ ہو۔ یہ آواز گلے سے کم اور ناک سے زیادہ نکلتی ہے) حضرت ام سلمہؓ نے رونے کا سبب پوچھا تو اللہ کے رسولﷺ نے بتایا: جناب جبرائیل (یا بارش کا فرشتہ) آئے تھے۔ انہوں نے حسینؓ کے ساتھ میرا لاڈ پیار دیکھا تو پوچھا کہ آپ کو اس بچے سے بڑی محبت ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: آپ کی اُمت اس کو قتل (شہید) کر دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دیتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے؛ چنانچہ آپﷺ کو وہ میدان دکھلا دیا گیا۔ سرخ رنگ کی مٹی بھی دکھلا دی گئی۔ فرشتے نے مٹی حضورﷺ کے ہاتھ میں دے دی۔ حضورﷺ رونے لگ گئے۔ آپﷺ نے یہ مٹی حضرت ام سلمہؓ کو دے دی۔ انہوں نے اسے اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لیا۔ (حضرت ثابتؓ کہتے ہیں ہم اس مقام کو کربلا کہا کرتے تھے)۔ حضورﷺ نے (اپنے لختِ جگر) سیدنا حسینؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ میرے بعد تجھے کون شہید کرے گا؟قارئین کرام! دونوں احادیث کی راوی حضرت ام سلمہؓ ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت عائشہؓ بھی راوی ہیں۔ میرا استدلال یہ ہے کہ دونوں احادیث دراصل دو الگ الگ واقعات ہیں۔ ایک واقعہ حضرت ام سلمہؓ سے اور دوسرا حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ ایک واقعہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور ایک میں بارش کا فرشتہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دونوں احادیث کی سند صحیح ہے اور متواتر بھی۔ بارش کے فرشتے کے آنے کا مطلب یہ ہے کہ پیاسے حسینی قافلے کی خدمت میں فرات کو حسینی خیمے کے سامنے بھی لے جایا جا سکتا ہے مگر قاتلوں کی پتھر دلی دکھانا مقصود تھا۔ اسی طرح حدیث میں ''ادراج‘‘ کا جو لفظ ہے اس کا مطلب ہے کہ حضرت حسینؓ چھلانگ لگاتے حضورﷺ کے شکم مبارک پر چڑھ گئے۔ قاہرہ میں عربی زبان کے مرکز نے اس لفظ کی شرح میں لکھا کہ کسی شے کے دوسری چیز میں داخل ہونے کو ادراج کہتے ہیں؛ یعنی حسینؓ حضورﷺ سے ہیں اور حضورﷺ حسینؓ سے ہیں۔ اس کا معنی تدوین اور نظام بھی ہے۔ اس کا معنی ''شبحیل‘‘ بھی ہے یعنی درجہ بدرجہ اپنے فرض منصبی کی طرف بڑھتے چلے جانا۔ اللہ اللہ! حضرت حسینؓ اپنے بابا حیدرِ کرارؓ کے ہمراہ آگے بڑھتے رہے‘ پھر اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ کے ساتھ مسلمانوں کی صلح میں آگے بڑھے اور جب بات حد سے آگے بڑھ گئی تو اکیلا حسینؓ اٹھا اور اپنے نانا کے دیے ہوئے سیاسی نظام کو واپس پٹڑی پر چڑھاتے چڑھاتے شہادت پا کر فردوس میں اپنے نانا کے پاس جا پہنچا۔ اے انسانانِ جہان۔ اے مسلمانانِ پاکستان! آئیے! اپنے مشترکہ ورثے پر فخر کرتے‘ متحد ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔ حسینی قافلہ‘ خلفائے راشدین‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم ہم سب ان کے جانثار ہیں۔ متحد امت زندہ باد۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں