اللہ تعالیٰ نے چار مہینوں کو حُرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ ان کیلئے اپنی آخری الہامی کتاب میں ''حُرم‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ان چار مہینوں میں سے ایک مہینے کا نام ''محرم‘‘ ہے۔ یعنی محرم ایسا مہینہ ہے جس کا لفظی اور معنوی رشتہ براہِ راست قرآن مجید سے جڑا ہوا ہے۔ اسی مہینے میں اللہ تعالیٰ نے وطنِ عزیز کو عزت وتکریم سے نوازا۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی سوئٹرز لینڈ پہنچے۔ ان کی شبانہ روز محنتوں سے ساری دنیا کو امن کا پھل ملا۔ تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ دور کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے پاکستان سے لیا۔ ہر پاکستانی کو اس پر فخر ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو دنیا کے ہر ملک میں عزت ملی ہے۔ فللّٰہِ الحمد!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''جس وقت اللہ نے کائنات کو (کُن کہہ کر) بنایا اسی وقت اللہ کی کتاب میں اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ قرار پائی۔ ان میں سے چار کو حرمت والے مہینے قرار دیا گیا‘‘ (التوبہ: 36)۔ بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ اللہ کے آخری رسولﷺ نے فرمایا: ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ اور محرم کے مہینے متواتر اور مسلسل ہیں جبکہ رجب کا مہینہ جمادی (الثانی) اور شعبان کے درمیان ہے (یعنی تقریباً سال کے وسط میں ہے)۔ قارئین کرام! رجب کا معنی تعظیم وتوقیر اور ہیبت ہے۔ یعنی سارا سال عالمی سطح پر کچھ ایسے لوگ عالمی امن کیلئے کوشاں رہیں کہ ان کی کوششوں کو تعظیم و توقیر ملے۔ الحمدللہ! یہ تعظیم و توقیر پاکستان کے حصے میں آئی۔ ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ پاک وطن کی گورننس کا فرسودہ نظام ایسے عادلانہ نظام کے ساتھ تبدیل ہو گا کہ جہاں میرٹ کا راج ہو گا‘ تب یہ تعظیم و توقیر بڑھتی ہی چلی جائے گی‘ ان شاء اللہ۔ متواتر مہینوں میں ذوالقعدہ پہلا مہینہ ہے۔ قعدہ کا معنی بیٹھنے کا طریقہ ہے۔ نماز میں درمیانی اور آخری تشہد میں بیٹھنے کو ''قعدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مہینے کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے لوگ اگر جنگ کر رہے ہوتے تو اس مہینے میں جنگ چھوڑ کر گھروں کو چلے جاتے۔ اس کو '' حلوہ‘‘ کہا جاتا۔ گھروں میں بیٹھنے سے معاشرتی نظام بھائی چارے میں ڈھل جاتا۔ پھر سواری پر زین کس کر سامان لادا جاتا اور حج کیلئے اس پر بیٹھ کر یعنی ''قعدہ‘‘ کرکے لمبا سفر اختیار کیا جاتا‘ یوں امن حاصل کر کے اس ماہ کو ''ذوالقعدہ‘‘ کہا جاتا۔ اگلا مہینہ حج کا ہے۔ حج کا معنی قصد یعنی ارادہ ہے۔ حرم مکی میں آ گئے تو امن ہی امن۔ جی ہاں! اسلام سارا سال انسانیت میں امن کی بہار چاہتا ہے۔ لوگو! ہجری سال کا آخری مہینہ حج کا مہینہ ہے تو قمری اور ہجری سال کا پہلا مہینہ محرم کا مہینہ ہے۔ یہاں بھی پیغام یہ ہے کہ سال کے شروع سے لے کر آخر تک امن ہی امن کا نظام انسانیت کو دے سکتے ہیں تو ہجرت والے دے سکتے ہیں‘ حج والے دے سکتے ہیں اور محرم والے دے سکتے ہیں۔
اللہ کے رسول حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ''زمان (وقت) گھوم کر اپنی اسی حالت پر واپس پلٹ آیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا فرمایا تھا‘‘ (صحیح بخاری)۔ اللہ کے رسولﷺ نے یہاں ''استدار‘‘ کا لفظ ارشاد فرمایا‘ جس میں گولائی کا معنی پایا جاتا ہے۔ اپنے مدار میں گردش کا معنی پایا جاتا ہے۔ یاد رہے! ذرہ سے مجرّہ تک یعنی ذیلی ذرات سے کہکشائوں اور ان کے جھرمٹوں تک‘ ہر شے اپنے مدار میں گھوم رہی ہے۔ اسی گھمائو اور گردش میں ٹائم کا کردار پنہاں ہے۔ حضورﷺ ختم المرسلین ہیں‘ لہٰذا ٹائم یا زمانہ گھومتے ہوئے اپنے اصل پر واپس آ گیا ہے۔ قارئین کرام! حضورﷺ کی پیشگوئیوں کو سامنے رکھیں تو مسلم امت پچھلی تین چار صدیاں متواتر ماریں کھانے کے بعد آج ہمارے زمانے میں ذرا سنبھل کر طوفانوں کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے زمانہ گھوم گھما کر پھر سے امت کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس منظر کا آغاز ہم نے اس وقت دیکھا جب ہمارے فیلڈ مارشل نے ''بنیانٌ مرصوص‘‘ کا سلوگن قوم کو دیا اور انڈیا کو آدھے دن سے بھی کم وقت میں شکست سے دوچار کر دیا۔ اس دن سے امت ایسے اٹھنا شروع ہوئی کہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ایران خم ٹھونک کر اور سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔ ایسے لگتا ہے جیسے پاک وطن کی افواج کے فیلڈ مارشل نے عالمی فیلڈ میں امن کے چوکے اور چھکے لگانا شروع کر دیے ہوں۔ خلیجی ممالک کیلئے حلم و حوصلے کا چھکا‘ ایران کو ذرا سنبھل کر چلنے کا مشورہ‘ دونوں کے مابین ذہانت سے معمور امن کی شٹل ڈپلومیسی‘ اعتماد کے پُل کی تعمیر‘ امریکہ کیلئے ذرا بچ کر چلنے کی کاوش اور نیتن یاہو کو ذرا گھور کر دیکھنے کا جتن۔ جی ہاں! جو دن بھی نیا بن کر طلوع ہوتا رہا‘ فیلڈ میں ہر گیند اک نئے زاویے سے وکٹ کو اڑاتی رہی۔ آخرکار چودہ نکات پر دستخط ہوئے۔ مجھے یوں لگا جسے قائداعظم کے چودہ نکات زندہ ہو گئے۔ تب چودہ نکات سے پاکستان بنا تھا۔ آج چودہ نکات سے پاک وطن اس قدر مضبوط بن کر ابھرا ہے کہ جس ایم او یو پر ایران اور امریکہ کے صدور نے دستخط کیے اور اس پر پیس میکر اور ثالث کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان کے دستخط ثبت ہوئے‘ اسے اسلام آباد میمورنڈم کا نام دیا گیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد۔ صدرِ ایران کی اظہارِ تشکر کیلئے اسلام آباد آمد مرحبا۔
لوگو! نبوت و رحمت کے ٹریک پر خلافت راشدہ نے 30سال کا سفر طے کیا۔ یہ مبارک سفر ڈی ٹریک ہو گیا۔ یہ ڈی ٹریک نہ ہوتا تو پہلی یا دوسری صدی ہجری میں ہم متعدد سنگ ہائے میل عبور کر کے بعد ایسے سٹیشن پر کھڑے ہوتے جو اپنے وقت کا بہترین مشاورتی اور جمہوری نظام ہوتا۔ دنیا ہماری خوشہ چین ہوتی مگر ہم ملوکیت کا شکار ہو کر صدیوں تک اسی دلدل میں ہاتھ پیر مارتے رہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بیس سال تک غیر مشاورتی اور غیر جمہوری نظام اور اس کی خرابیاں دیکھتے رہے۔ آخرکار انہوں نے اپنے نانا‘ ختم المرسلینﷺ کے دیے ہوئے سیاسی نظام کو بحال کرانے کیلئے اپنی اور اہلِ خاندان کی عظیم قربانیاں دے دیں۔ یہ اسی قربانی کا پھل ہے کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا تو قائداعظمؒ نے جمہوری رویوں سے حاصل کیا اور آج اسی رویے کی وجہ سے پاکستان پاسبانِ ملتِ اسلامیہ ہے۔
امام ابوبکر ابن ابی شیبہ‘ امام احمد بن حنبل‘ امام احمد بن منیع اور امام عبد بن حمید صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت لائے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے تپتے دن میں ایک خواب دیکھا کہ اللہ کے رسولﷺ تشریف فرما ہیں۔ سر مبارک کے بال بکھرے ہوئے اور ان میں (کربلا کا) گرد وغبار پڑا ہوا ہے۔ ہاتھ مبارک میں ایک شیشی ہے‘ جس میں خون ہے۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرے ماں باپ قربان! یہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: یہ حسین کا خون ہے اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ دن بھر سے میں اسے جمع کر رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں: ہم نے اس دن کو دل میں رکھ لیا۔ جب خبر ملی تو اسی دن (10محرم) کو حسینؓ کی کربلا میں شہادت ہوئی تھی۔ قارئین کرام! یہی وہ خونریزی ہے جس سے امت کو بچانے کیلئے حضورﷺ وصیتیں کرتے رہے‘ نصیحتیں فرماتے رہے۔ ایک نظام دے کر گئے اور اس پر کار بند رہنے کی تلقین فرمائی۔ حضورﷺ اپنے رب کریم کے کرم سے پیغام دے گئے مگر ہم اہلِ اسلام اصل پیغام کی جانب آنے کے بجائے فرقہ ورانہ بحثوں میں الجھ کر رہ گئے۔ آئیے! اپنے اللہ کا شکر ادا کریں۔ زمانہ پھر گھوم کر آ گیا ہے۔ اس بار حج اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے قربانی کا دن ایک ہی تھا۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن دس محرم‘ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ آج بھی وہی دن ہے۔ سمجھ یہ آ رہی ہے کہ زمانہ پھر گھوم کر امت کی سربلندی کی نوید سنا رہا ہے۔ سرزمینِ حرمین اور سرزمینِ ایران کو پاکستان اتحادِ امت کی لڑی میں پرو چکا۔ یوں لگتا ہے جیسے باقی سارے ممالک بھی اس فیلڈ میں کھڑے ہیں‘ جدید اسلامی جمہوری شاہراہ پہ کھڑے ہیں۔ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم مسکرا رہے ہیں۔ اہلِ پاکستان کو مبارکبادیں مل رہی ہیں۔ دنیا بھر کی انسانیت کو امن مل رہا ہے۔ عالمی امن زندہ باد۔ دنیا بھر کی انسانیت زندہ باد۔