"AHC" (space) message & send to 7575

بدر کا میدان اور پاکستان

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کی ہجرت گاہ مدینہ منورہ بنائی تو اسے طیبہ اور طابہ کا نام دیا۔ ہم نے اپنی ہجرت گاہ کا نام پاکستان رکھا اور اس پاکستان کی اساس ''کلمہ طیبہ‘‘ کو قرار دیا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ وطن عزیز کا تحفظ اسی طرح ہوگا جس طرح سرکارِ مدینہﷺ کی قیادت میں ریاستِ مدینہ کا تحفظ کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری الہامی کلام میں تحفظ کا طریق کار ملاحظہ ہو! فرمایا: (میرے حبیب!) آپ کو ایسے لوگ کہیں نہ ملیں گے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھیں‘ قیامت کے دن کو بھی مانیں پھر ایسے لوگوں کے ساتھ محبت بھی کریں کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں حدوں کو پار کر ڈالا۔ اگرچہ ایسے لوگ ان کے باپ ہوں‘ ان کے بیٹے ہوں‘ ان کے سگے بھائی ہوں یا رشتہ دار ہوں (یعنی جنگ کے دوران سچے مومن ایسے قریبی لوگوں کو بھی مار دینے سے نہیں ہچکچاتے) (المجادلہ:22)۔ قارئین کرام! مندرجہ بالا آیت کی شرح میں امام حسین بن مسعود بغویؒ اپنی تفسیر ''معالم التنزیل‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت لائے ہیں۔ اندلس یعنی سپین کے شہر قرطبہ کے رہنے والے امام محمد بن احمد قرطبیؒ اپنی تفسیر میں ‘ جو تفسیرِ قرطبی کے نام سے معروف ہے‘ وہ بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہی کی روایت لائے ہیں۔ دونوں روایتوں کو اکٹھا کروں تو بات یوں واضح ہو جاتی ہے کہ بدر کے میدان میں حضرت ابوعبیدہؓ بن عبداللہ بن جراح کا مشرک باپ عبداللہ بن جراح بار بار لڑنے کو سامنے آتا تھا۔ حضرت ابوعبیدہؓ پینترا بدل کر سائیڈ پر ہو جاتے مگر جب یہ سلسلہ جاری رہا تو آخرکار حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنے مشرک باپ کو قتل کر دیا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ جو اللہ کے رسولﷺ کے ہمراہ عریش میں تشریف فرما تھے اور میدانِ بدر میں جنگ کے مناظر کو دیکھ رہے تھے‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ سے اپنے بیٹے عبدالرحمن کے خلاف جنگ لڑنے کی اجازت طلب کی تو حضورﷺ نے فرمایا ''تم میرے پاس ہی رہو‘ تمہارا مرتبہ میرے ہاں کانوں اور آنکھوں کا ہے‘‘۔ یاد رہے! بدر کی جنگ کے دو مرحلے تھے۔ پہلے مرحلے میں اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اجازت نہیں دی جبکہ دوسرے مرحلے میں لڑائی کی اجازت دے دی۔ اسی طرح حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اُحد کے دن قتل کیا۔ رشتہ داروں کے معاملے میں حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ یاد رہے! دونوں مفسرین نے قرآن مجید کی آیت کی ترتیب کو سامنے رکھا ہے۔ اس ترتیب میں باپ‘ بیٹے‘ بھائی اور رشتہ داروں کی ترتیب ہے۔ اس میں ایک زبردست نکتہ ہے جو مجھے یہاں بیان کرنا ہے کہ باپ نے بیٹے کو قتل نہیں کیا مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جذبہ اس قدر صادق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کی بات کر دی یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دوسرا مقام مل گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو بدر کے میدان میں قتل کرنے کا سچا جذبہ رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے رشتہ دار یعنی ماموں کو قتل کیا ہے اور رشتوں کی ترتیب میں یہ چوتھا نمبر ہے۔ اسی ترتیب میں حضرت حمزہؓ، حضرت علی حیدرِ کرارؓ اور حضرت عبیدہؓ بن حارث ہیں کہ جنہوں نے اپنے قدرے دور کے رشتہ داروں عتبہ بن ربیعہ‘ شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ کے بیٹے ولید کو قتل کیا۔ یاد رہے! جنگ کو شروع کرنے میں حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ کا پہلا نمبر ہے کیونکہ اللہ کے رسولﷺ نے مبارزت کے میدان میں تینوں کا نام لے کر انہیں بلایا اور ان تینوں شیروں نے اپنے مدمقابل دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
قرآن مجید کی آیت اور حضور کریمﷺ کے فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہ کرامؓ کے عالیشان کردار کو ہم اہلِ پاکستان بھولنے نہ پائیں۔ بنیانٌ مرصوص کی کامرانی کو ذہن سے محو نہ ہونے دیں۔ سچے پکے پاکستانی بنیں کیونکہ پھسلنے کا ٹائم نہیں ہے۔ تفسیر قرطبی کے مفسر امام محمد بن احمد کے آبائو اجداد یثرب کے رہنے والے تھے۔ ان کا قبیلہ خزرج تھا۔ حضور کریمﷺ کے مدینہ تشریف لانے پر وہ انصاری بن گئے۔ اندلس میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو یہ خاندان سپین میں جاکر آباد ہوا۔ وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ (جب وہ جوان تھے) تو 3 رمضان 627 ہجری کو قشتالوی صلیبیوں (Castilian Crusaders) نے قرطبہ پر اس وقت حملہ کر دیا جب ہم لوگ کھیتوں کی کٹائی میں مصروف تھے۔ اس لڑائی میں میرے والد شہید ہو گئے۔ میں نے علماء سے پوچھا کہ انہیں ان کے خون آلود کپڑوں کے ساتھ دفن کر سکتا ہوں؟ تو علماء نے کہا کہ انہیں غسل اور نیا کفن دے کر جنازہ پڑھ کر دفن کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہ جنگ چھ سال تک جاری رہی۔ امام قرطبی جنگی حالات میں بھی علم حاصل کرتے رہے۔ فرماتے ہیں کہ جب علم حاصل کیا تو اللہ کے رسولﷺ کی سنت کا پتا چلا (کہ شہید کو اس کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کرتے) تو سوچنے لگا کہ ابا جی کو زخمی جسم کے خون آلود کپڑوں کے ساتھ ہی دفن کرتا تو کیا خوب ہوتا کہ وہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھتے۔ بہرحال! چھ سال کی جنگوں کے بعد23 شوال 633ھ بمطابق 29 جولائی 1236ء کو اپنے شہر پر صلیبی دشمنوں کے قبضہ کے بعد میں بھاگ کھڑا ہوا۔ بھاگتا بھاگتا ایک میدان میں جا بیٹھا۔ دو صلیبی فوجی میرے پیچھے آ رہے تھے۔ میں سورۂ بنی اسرائیل کی ایک آیت کا ورد کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسولﷺ کو بتاتے ہیں کہ ''جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کافروں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا‘‘۔ اللہ کی قدرت کہ یہ دونوں دشمن میرے پاس سے گزر گئے جبکہ مجھے نہیں دیکھ پائے۔ پھر وہ واپسی پر بھی میرے قریب سے گزرے اور کہہ رہے تھے یہ تو ''دبیلہ‘‘ یعنی جن تھا۔ اس کے بعد امام قرطبی مصر چلے گئے۔ اسکندریہ میں زندگی گزاری اور پھر دریائے نیل سے ذرا فاصلے پر ایک قصبے ''مُنیہ‘‘ میں فوت ہوئے۔ انہوں نے اپنی تفسیر کا نام ''الجامع الاحکام القرآن‘‘ رکھا۔
سپین یعنی اندلس کے دیگر علاقوں میں مسلمان بعد میں بھی لڑتے رہے۔ دشمنوں کے خطرات اور ان کی جنگیں بھی ان کو متحد نہ کر سکیں۔ آخرکار! یہ وہاں سے مکمل نکال دیے گئے۔ ان کی مساجد گرجا گھر بن گئیں۔ آج بھی ہم دیکھیں تو سپین میں مسلمانوں کے صرف آثار باقی ہیں۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ مغل بادشاہت کا اختتام ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے 57 کے قریب ممالک بن گئے۔ جب مسلمان قوت پکڑنے لگے تو شام‘ لبنان‘ فلسطین‘ عراق‘ لیبیا‘ سوڈان‘ افغانستان‘ یمن‘ صومالیہ‘ اریٹیریا وغیرہ تباہ کر دیے گئے۔ اب وہ ایران پر چڑھ دوڑے۔ ایران ان کے سامنے چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ پاکستان امن کے لیے کوشاں ہے۔ پاک وطن کے کردار کو دنیا سلام پیش کر رہی ہے۔ پاکستان نے عالم عرب اور ایران کے مابین بھی کمال انداز سے امن کا توازن قائم رکھا ہے۔ قطر اور عمان کا کردار بھی عالم اسلام کیلئے امن کی خوشبو کا جھونکا ہے۔ سعودی عرب کا کردار عالمی امن‘ خلیجی امن اور مسلم ورلڈ کے امن کیلئے وہی ہے جو سرزمینِ حرمین کے خدّام کا ہونا چاہیے۔ پاکستان پاسبانِ حرمین کا اعزاز سجائے ہوئے ہے۔ ہم سب کو پاکستان کے استحکام کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکمرانوں کو بھی پاک وطن میں عدل کا نظام لانا ہوگا اور ایسا جلد کرنا ہوگا۔ اسلامی اور عالمی سیادت کے لیے ہمارا اندرون روشن وتاباں ہونا ضروری ہے۔ آئیے! عید قربان کے بعد اب بدر کے میدان جیسے جذبوں کے ساتھ پاک وطن اور تمام انسانیت کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی جدوجہد کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں