"AHC" (space) message & send to 7575

سفارش اور شفاعت

اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے ہجرت کر کے فلسطین کی جانب چلے تو آپ علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔ فلسطین پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا؛ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم کے لوگوں کی جانب بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہما السلام کی نگرانی میں اپنے فرائضِ نبوت انجام دے رہے تھے۔ یہ قوم بُت پرستانہ عقائد کیساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی نہایت پستی کا شکار تھی اور ہم جنس پرست تھی۔ جب یہ بار بار سمجھانے پر بھی باز نہ آئے اور حضرت لوط علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو سزا دینے کیلئے فرشتے بھیجے۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنے آنے کے مقصد سے انہیں آگاہ کر سکیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بشارت بھی سنائیں۔ جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی شکل میں پہنچے تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جوابی سلام کیا۔ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھے اور کچھ دیر بعد بھنا ہوا ثابت بچھڑا لا کر مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ یہ اعلیٰ ترین مہمان نوازی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھے بغیر بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گائیوں اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا۔ شام کا شہر حلب‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ عرصہ یہاں بھی گزارا ہے۔ یہاں آپ کا ٹھکانہ ایسے ٹیلے پر تھا جہاں تجارتی قافلے گزرتے ہوئے کچھ دیر ٹھہرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان قافلے والوں کی ضیافت کرتے اور انہیں خوب دودھ پلاتے‘ جس کی وجہ سے اس شہر کا نام 'حلب‘ پڑ گیا۔ عربی میں حلب کا معنی دودھ ہے۔
فرشتوں نے جب اپنے ہاتھ بھنے ہوئے بچھڑے کی جانب نہیں بڑھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے کہ یہ اجنبی مسافر کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔ انہیں خوف محسوس ہوا کہ ان کے ارادے کچھ اچھے نہیں لگتے۔ فرشتے یہ پریشانی بھانپ کر عرض گزار ہوئے کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ علیہ السلام کو ایک بیٹے‘ حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دینے آئے ہیں۔ مزید خوشخبری یہ ہے کہ آپ کو ایک پوتا بھی ملے گا جس کا نام یعقوب ہوگا (اور یہ دونوں نبی ہوں گے)۔ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی گھبراہٹ ختم ہو گئی کہ یہ تو فرشتے ہیں اور خوشخبری لے کر آئے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ سدوم کی بدکار قوم کو عذاب سے دو چار کرنے آئے ہیں۔ اس خبر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیبﷺ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رویے سے متعلق اس طرح آگاہ فرمایا: ''وہ (ابراہیم علیہ السلام) لوط کی قوم کے بارے میں ہم سے بحث (جھگڑا) کرنے لگ گیا‘‘ (ہود: 74)۔ لوگو! ذرا غور کرو۔ اللہ کے فرشتوں سے بحث یا جھگڑا دراصل اللہ تعالیٰ کے آگے یہ التجا‘ یہ سفارش ہے کہ اس گنہگار قوم کو مزید مہلت ملنی چاہیے تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں‘ ہدایت پر آ جائیں اور جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی تین صفات کا تذکرہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام ''حلیم‘‘ یعنی بے پناہ حوصلے والے تھے‘ یعنی ان کا جھگڑا فرشتوں کے ساتھ تھا کہ ابھی مزید حوصلے سے کام لیا جائے‘ اس قوم کو مزید برداشت کیا جائے۔ دوسری صفت ''اَوَّاہٌ‘‘ ہے یعنی انتہائی نرم دل۔ کسی پر تکلیف کو دیکھ اور سن کر اللہ کی جناب میں گریہ و زاری کرنے والے۔ تیسری صفت ''مُنیب‘‘ ہے کہ بار بار اللہ کی بارگاہ میں (نئے نئے الفاظ اور انداز سے) رجوع (اور درگزر کی درخواست) کرنے والے تھے۔ اے وارثانِ منبرِ مصطفی! ہم ذرا اپنا حوصلہ اور برداشت دیکھیں کہ کلمہ پڑھنے والوں پر بھی کس طرح فتوے لگاتے ہیں۔ زبان کس قدر دراز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نام نہاد مبلغین کی مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ آئیے اب بنو اسرائیل کی جانب مبعوث آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بنو اسماعیل سے ختم المرسلین‘ رحمتِ دو عالم حضرت محمد کریمﷺ کے حوصلوں اور برداشت کے بے کنار سمندر کی موجیں ملاحظہ کرتے ہیں۔
سورۃ المائدہ کے آخر پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا نقشہ کھینچا ہے۔ تمام انسانیت موجود ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مخاطب ہوتے ہیں: ''اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا آپ نے اپنی امت کو اس کام پر لگایا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس طرح اپنی صفائی پیش کریں گے: میرے لیے تو ایسی بات لائق ہی نہیں‘ میں تو ان لوگوں کو ہمیشہ توحید کی دعوت دیتا رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گواہی کے بعد جب امت کے لوگوں پر فردِ جرم عائد ہونے لگے گی کہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا تھا‘ تب عیسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت کے گمراہ اور گنہگار لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں گے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوں گے: ''اے اللہ کریم! آپ اگر ان کو سزا دیں تو یہ بندے تو آپ ہی کے ہیں اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو آپ غالب بھی ہیں اور حکمت والے بھی‘‘۔ (المائدہ: 118)
قارئین کرام! ختم المرسلینﷺ تو تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ تمام جہانوں کے باسیوں کیلئے سراسر رحمت ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے (درج بالا) آیت پڑھنا شروع کی تو فجر تک آپﷺ یہی آیت تلاوت فرماتے رہے‘‘ (سنن نسائی‘ سندہٗ حسن)۔ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں مزید اضافہ یوں ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے رات بھر تلاوت کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا ''اس آیت کو میں نے بار بار پڑھا۔ اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول فرما لی لہٰذا میری امت میں سے ہر وہ شخص‘ جو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں بنائے گا‘ اس کو میری شفاعت فائدہ دے گی‘‘۔ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتب میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قیامت کا دن ہوگا‘ ساری انسانیت ایک میدان میں جمع ہو گی‘ سورج انتہائی قریب ہو گا‘ لوگ اپنے اپنے پسینوں میں شرابور ہوں گے‘ گھبراہٹ کی وجہ سے پریشان حال ہوں گے‘ آخرکار آپس میں کہیں گے: آئو! اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں کہ وہ ہماری سفارش کریں کہ اس دن کی سختی اور گھبراہٹ سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ اپنے عذر کی بنا پر معذرت کرتے ہوئے انکار کر دیں گے‘ اسی طرح لوگ باری باری حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے اور پھر حضرت محمد کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ فرمایا: جب لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں اللہ کی بارگاہ میں (مقامِ شفاعت) پر سجدے میں چلا جائوں گیا۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ کی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ راضی ہو کر خطاب فرمائیں گے: میرے حبیب! سر اٹھائیے‘ آج جو مانگو گے عطا ہوگا۔ جو سفارش کرو گے قبول ہوگی۔
قارئین کرام! لوگوں کا حق مارنے والے‘ قتل کرنے والے‘ فساد اور دہشتگردی سے بے گناہوں کو شہید کرنے والے‘ زمین غصب کرنے والے جب تک اہلِ حق کو ان کا حق نہ دے لیں‘ تب تک ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔ آئیے ملک کے اندر برداشت کا کلچر پیدا کریں‘ مکالمے کی بات کریں‘ ایک دوسرے پر فتوے نہ لگائیں‘ سب مسلمانوں کو دعائوں میں شامل کریں۔ وہ جو ہم سب کے امن کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں‘ ان شہدا اور وارثانِ شہدا کو بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ پاک وطن شاد آباد رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں