میں نے پہلا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر 1997ء میں خریدا تھا۔ پینٹیم ٹو کا یہ نیا کمپیوٹر جدید ترین شمار ہوتا تھا۔ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم بھی نیا نیا تھا۔ اسی سال میں نے پہلا موبائل فون لیا تھا اور یہ موبائل فون کی پہلی نسل (فرسٹ جنریشن) تھی۔ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ بھی نیا نیا متعارف ہوا تھا۔ یادش بخیر! 1997ء ہی میں میرا پہلا شعری مجموعہ ''قوس‘‘ چھپا تھا اور اسے وزیراعظم ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ سو 1997ء کافی اہم سال ثابت ہوا۔ اولین نسل کے کمپیوٹر اور موبائل لے کر انٹر نیٹ کی دنیا میں گھومتے ہوئے لگتا تھا کہ اس سال پرانی دنیا ختم ہو گئی اور مستقبل کی نئی دنیا نے جنم لیا ہے۔ یہ بات درست تھی لیکن ایک بات کا وہم وگمان نہیں تھا اور و ہ یہ کہ 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل جنریشن زی یا جین زی کہلائے گی اور یہ اپنے مزاج میں اوپر کی نسلوں سے اتنی مختلف ہو گی کہ جیسے ایک دنیا ختم ہو گئی ہو اور نئی دنیا نے جنم لیا ہو۔ ویسے تو ہر نسل اوپر کی نسلوں سے مزاج اور خصوصیات میں قدرے مختلف ہوتی ہے لیکن یہاں بات جین زی کی منفرد اوربہت سی خصوصیات والی نسل کی ہے۔ یہ نسل زندگی کے ہر عملی میدان میں یا اُتر چکی یا بس اترنے والی ہے۔ یہاں میری مراد خاص طور پر برصغیر کی جین زی نسل ہے۔لیکن یہ نوجوان یاد رکھیں کہ دنیا مسلسل بدل رہی ہے۔ ابھی دنیا ان کی طرف متوجہ ہے لیکن 2013ء سے 2024ء کے بیچ جنم لینے والی جین الفا اور 2025ء سے 2039ء کے درمیان تازہ ترین جین بیٹا (Beta) ان کے تعاقب میں ہیں اور ان کی دنیائیں بھی جین زی سے بہت الگ ہوں گی۔
قدرت نے کسی جاندارکو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنی مرضی کے گھرانے اور اپنی پسند کے زمانے میں پیدا ہو۔ اس زمین پر آنے والے کبھی اپنی پیدائش میں نہ خودمختار تھے‘ نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ یہ بس ایک تسلسل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ مت سمجھیے گا کہ چونکہ میں جین زی میں سے نہیں‘ اوپر کی کسی نسل کا نمائندہ ہوں اس لیے نئے لوگوں پر تنقید کرتا ہوں۔ جناب احمد ندیم قاسمی میرے مہربانوں میں سے تھے‘ ان کی زبانی ان کا یہ شعر کئی بار سنا جو یقینا انسانی فطرت ہے کہ
یہ ارتقا کا چلن تھا کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے
تو پرانے لوگوں کا نئے آدمی سے ڈرنا اپنی جگہ ایک حقیقت لیکن اس حقیقت کو جانتے مانتے ہوئے بھی یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنے بچوں سے کون ڈرتا ہے۔ مجھ سمیت لاکھوں لوگ جین زی اور بعد کی نسلوں سے محبت کرتے ہیں‘ انہیں اپنے بچے سمجھتے ہیں۔ تمام ماں باپ اپنے بچوں کے خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن ان کے ذہنوں میں جو خدشات ہیں وہ بھی بہرحال ایک حقیقت ہیں۔ ماں باپ کا یہ حق چھینا نہیں جا سکتاکہ اپنے بچوں کیلئے جو بہتر سوچتے ہوں‘ اس کا اظہار کریں۔ البتہ اس وقت میرا ڈر بالکل اور طرح کا ہے۔ ہم بہت ہی جذباتی لوگ ہیں۔ کسی کی تعریف کرنے پر آئیں تو کوئی اچھی صفت ایسی نہیں چھوڑتے جو اس میں ثابت نہ کر دیں۔ برا سمجھنے پر آئیں تو کوئی برائی باقی نہیں رہنے دیتے جو اس میں نکال نہ لیں۔ میں ایک معروف بھارتی اداکارہ کا انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں وہ یہی کام کر رہی تھیں۔ ہر برائی جین زی سے اوپر کی نسلوں میں اور ہر اچھائی جین زی میں۔ صرف انہی کی بات نہیں‘ یہ عام چلن بن چکا ہے۔ چنانچہ مجھے لگتا ہے کہ جین زی کے نوجوان بھی اسی پر یقین رکھتے ہیں۔ آج اگر یہ نسل اپنے اوپر تین نسلوں یعنی بے بی بومرز‘ جین ایکس اور ملینیلز کو فرسودہ اور گھسی پٹی نسلیں سمجھتی ہے تو اسے تیار رہنا چاہیے کہ الفا اور بیٹا نسلیں جین زی کو قبول کریں گی یا رد‘ اور کن نئی اصطلاحات کے ساتھ ان پر تنقید ہو گی۔ کیا جین زی کو یہ رد قبول ہوگا؟ ہم سب کو اپنے بچوں کی تعریف کرنا‘ انہیں بڑھاوا دینا‘ حوصلہ دینا اور تھپکی دینا یقینا بہت اچھا لگتا ہے اور یہ بڑوں کی ذمہ داری بھی ہے لیکن ذمہ داری اسی پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کی رہنمائی کرنا بھی بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس نسل میں کوئی کمزوری ہے تو پیار اور محبت سے اس کی نشاندہی کرنا بھی ان کا فرض ہے۔ کیا شاباش کے ساتھ ہی‘ یہ فرض ادا کیا جا رہا ہے؟
معلوم نہیں ہم اپنے جذباتی پن میں یہ حقیقت کیوں نہیں یاد رکھتے کہ کوئی بھی نسل نہ مکمل اچھی صفات کا مجموعہ ہوتی ہے نہ تمام بری صفات کا۔ ہر دور کے حالات اور دنیا کی رفتار لوگوں کے مزاج اور خصوصیات بناتے ہیں۔ بے بی بومرز‘ جین ایکس اور ملینیلز سب پر یہ اصول پورا اترتا ہے اور یہ جین زی پر بھی صادق آتا ہے۔ یہ نوجوان نہ فرشتے ہیں نہ شیطان۔ ان کا مزاج دو دھاری ہے۔ زمانے کے چلن اور رفتار نے ان کے ذہنوں کی ساخت الگ بنائی ہے لیکن انہیں یاد رہنا چاہیے کہ اسی چلن اور رفتار نے پہلی نسلوں کی ساخت بھی مختلف بنائی تھی۔ جین زی سے متصل اوپر ملینیلز نسل ہے۔ ان کی زندگیوں میں دنیا نے پہلی بار انٹرنیٹ دیکھا اور آپس میں جڑی تھی۔ جین زی نے سمارٹ فون کی دنیا میں آنکھ کھولی لیکن ملینیلز پر انٹرنیٹ نے اتنے اثرات مرتب نہیں کیے جتنے سمارٹ فون نے جین زی پر ڈالے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس دیو نے جو اِن کے ہاتھ میں ہے‘ دراصل انہیں اپنے ہاتھ میں دبوچ رکھا ہے۔ جوناتھن ہائیڈٹ نے اپنی کتاب The Anxious Generation میں اسے ''فون پر پلی بڑھی نسل‘‘ کہا ہے۔ زندگی بہت ہی تیز رفتار ہے سو کوئی نہیں جانتا کہ جب بیٹا نسل جوان ہو گی تو اس کے ہاتھ میں کون سی نئی دنیا ہو گی۔
جین زی کی خصوصیات کے اعتراف کیلئے بہت سی باتیں ہیں۔ یہ بے شمار اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔ یہ پہلی ڈیجیٹل نسل ہے اور ان کا ڈیجیٹل شعور ہر پچھلی نسل سے بہتر اور آگے ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا سے باہر ان کی دنیا بہت کم ہے۔ اسی لیے ان کی ذہنی تربیت میں ٹیم ورک‘ وسائل بانٹنے‘ تنوع کا احترام اور نئے خیالات کیلئے کشادگی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان میں سماجی شعور زیادہ ہے اور تعصبات کم کم۔ یہ سماجی اور طبقاتی خانوں کو ماننے والی نہیں۔ دہلی میں احتجاج میں جب طلبہ نے امتحانی نظام میں شفافیت کے ساتھ ساتھ دلت اور شمال مشرقی طلبہ کیلئے مساوی رسائی کا مطالبہ کیا تو یہ اسی شعوری کشادگی کا ثبوت تھا۔ یہی نہیں جین زی نسل فالوورز کو جوڑ کر اپنا بیانیہ تو بناتی ہے لیکن احتجاج کے بعد جھاڑو اٹھا کر جگہ صاف کرنا بھی جانتی ہے اور یہ عملیت پسندی کی صفت ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مظاہروں میں یہ مجموعی مزاج بھی سامنے آیا کہ سابقہ نسلوں کے مقابلے میں کم تشدد پسند ہے۔ ورنہ اوپر کی نسلوں کو تو ان کے لیڈرز بھی قابو میں نہیں رکھ پاتے تھے۔ جین زی زیادہ خود مختار‘ زیادہ آزاد نسل ہے سو ان کے ذہن میں مستقبل کا تصور بھی پہلوں سے الگ ہے لہٰذا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان اور فکرمند بھی زیادہ ہیں۔ یہ پریشانی بھی انہیں عملیت پسند بناتی ہے۔
یہ نوجوان بات گھمانے اور اسے مروڑنے کے بجائے صاف بات کو ترجیح دیتے ہیں‘ خواہ وہ کھردری اور کرخت لگتی ہو۔ یہ پہلی نسلوں کے مقابلے میں گفتگو کے ادب آداب کو اتنی اہمیت نہیں دیتے چنانچہ منہ پھٹ محسوس ہوتے ہیں۔ جین زی کی ایک اہم خصوصیت روایات اور رسم و رواج سے دوری ہے۔ یہ ان کی اچھائی اس لیے ہے کہ بہت سی فضول روایات ہمیں گرفت میں لیے زندگی دشوار بناتی رہتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہی آزادی ان کی برائی بھی بن جاتی ہے جب وہ مثبت اقدار کو بھی نالی میں پھینک دیتے ہیں۔ جین زی کی اچھائیوں کے بارے میں اور بہت باتیں کی جا سکتی ہیں مگر کالم کا دائرہ تنگ ہے۔ لیکن آئینے کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جین زی! کیا آپ لوگ اس دوسرے رخ میں بھی اپنا چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہیں؟ تو پھر اگلے کالم کا انتظار کیجیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments