شہد کا جال‘ شہد کی دلدل کہہ لیں یا ہنی ٹریپ کہہ لیں‘ یہ لوگوں کو قابوکرنے کا کوئی نیا طریقہ نہیں لیکن اب جو نئے راستے اس نے ڈھونڈے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔ اس وقت پوری دنیا میں کروڑوں 'ٹھگنیاں‘ اور 'اُچکیاں‘ میدان میں ہیں کہ کسی طرح آپ کو شیشے میں اتار کر جیب خالی کر دیں۔ مظلومیت‘ مجبوری‘ بڑے منافع سے لے کر محبت کے جھانسے تک ہر قسم کی کہانیاں۔ ہنی ٹریپ اس وقت سب سے کامیاب اور مؤثر جال ہے۔ پیسہ اور حسن‘ دونوں کا لالچ برا ہے۔ سونا اور سہاگہ اکٹھے ہوں تو عقل ایک طرف دھری رہ جاتی ہے‘ فیصلے تو پھر دل ہی کرتا ہے۔
لگ بھگ پندرہ سال پہلے پاکستان میں ایک نئی قسم کی واردات شروع ہوئی تھی۔ ایک دن مجھے کسی خاتون کا فون آیا۔ انگلش میں بات کرتی تھیں اور لہجہ غیر ملکی تھا۔ میٹھی اور ہنستی مسکراتی آواز۔ اپنا نام شاید ایلس بتایا۔ بولیں کہ وہ ایک بین الاقوامی کمپنی سے ہیں‘ پاکستان میں اپنا دفتر کھولا ہے اور مجھ سے ملاقات کرنی ہے۔ پوچھا: آپ کی کمپنی کیا کاروبار کرتی ہے‘ بولیں: ہر طرح کے کاروباری مواقع خاص طور پر جائیداد کی خرید وفرخت۔ آپ فلاں دن شام کے وقت ہمارے دفتر میں کافی ہمارے ساتھ پیجئے۔ یقین تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے‘ ویسے بھی جائیداد کی خرید وفروخت سے دلچسپی نہیں تھی لہٰذا میں نہیں گیا۔ لیکن آفرین اس بی بی پر کہ وہ بار بار فون کرتی رہیں۔ حتیٰ کہ چند ہفتے بعد میں گلبرگ لاہور میں اس جگہ چلا گیا جہاں بلایا گیا تھا۔ دیکھا کہ ایک بڑا سا ہال ہے‘ میزیں لگی ہوئی ہیں۔ میری طرح کم وبیش پچاس مدعوئین‘ مرد و خواتین‘ موجود تھے۔ کئی غیر ملکی خواتین ان پر اپنی مسکراہٹیں نچھاور کر رہی تھیں۔ کافی پلائی گئی‘ تحائف پیش کیے گئے۔ پھر ایک خاتون نمودار ہوئیں۔ انہوں نے ایک پریزنٹیشن دی اور بتایا کہ کینیا میں ایک خوبصورت ساحلی ریزارٹ ہے‘ بہت ہی سستا۔ اس میں آپ بھی اپنا ہٹ یا گھر خرید سکتے ہیں۔ لیکن آج ہی اور ابھی فیصلہ کرکے ادائیگی کرنا ہوگی جس پر مزید دس فیصد رعایت مل جائے گی۔ مزید یہ کہ ابھی ادائیگی کی صورت میں ایک ہفتے کیلئے ریزارٹ میں مفت قیام۔ میں نے کافی پی اور گنگا میں ہاتھ دھوئے بغیر واپس آ گیا۔ معلوم نہیں کتنے لوگ اس میں نہائے۔ بہرحال یہ کام پاکستان کے سب بڑے شہروں میں ہو رہا تھا‘ پھر اچانک سب غائب ہوگیا۔
سوشل میڈیا کی فرینڈز لسٹ میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے۔ اگر آپ کاروبار کرتے ہیں‘ سیاح ہیں‘ مختلف ملکوں میں جاتے رہتے ہیں‘ ادیب‘ شاعر اور کالم نگار بھی ہیں تو ہر طرح کے لوگوں سے رابطہ رہتا ہے۔ انہی میں وہ ٹھگنیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی بھی طرح آپ کو زیر دام لانے میں ماہر ہیں۔ گزشتہ پانچ برس میں کم وبیش دس مرتبہ ایسی عورتوں نے شرفِ گفتگو بخشا‘ راتوں رات امیر ہونے کی سکیمیں سجھائیں اور سکرین شاٹس بھیجے کہ کس طرح چند گھنٹوں میں انہیں دس ہزار ڈالر کا منافع ملا۔ حسین خاتون ہو‘ میٹھی باتیں کرتی ہو‘ بیٹھے بٹھائے ہزاروں ڈالر کا منافع نظر آتا ہو تو دماغ کہیں ایک طرف بیٹھا رہ جاتا ہے۔ اگر ان کی سب کوششیں بے سود رہیں تو اسے میری پارسائی نہیں‘ بڑھاپے کا نتیجہ سمجھیں۔ ہنی ٹریپ اس وقت ٹھگی کا آسان ترین طریقہ ہے۔ ہر کچھ دن بعد ایسا کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے۔ ایسی عورتیں عام طور پر پاکستان سے باہر ہوتی ہیں؛ یورپ‘ امریکہ وغیرہ۔ یہ اپنے فون نمبرز‘ شہر وغیرہ کی تفصیلات سے گریز کرتی ہیں۔ اپنی اصل تصویر اور وڈیوز نہیں لگاتیں۔ وڈیو کال پر بات نہیں کرتیں وغیرہ۔ خود کو چھپانے کی یہ کوشش بھی ان کے دھوکے باز ہونے کی بڑی پہچان ہے۔ لیکن پچھلے سال میرے ساتھ ایک منفرد واقعہ ہوا جو ابھی تک مجھے حیران رکھتا ہے۔
ایک ملکی مگر اجنبی خاتون نے ایک پیغام کے ساتھ فرینڈ ریکویسٹ بھیجی۔ پیغام پاکستان سے کچھ چیزوں کی ایکسپورٹ سے متعلق تھا۔ میں نے پروفائل دیکھی تو اس کے مطابق چوبیس یا پچیس سال کی نوجوان لڑکی‘ کراچی کی رہائشی۔ پروفائل میں کئی تصویریں موجود تھیں ۔میسنجر چیٹ میں اس کی باتیں ایکسپورٹ سے متعلق تھیں۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم پاکستان سے کچھ چیزیں ایکسپورٹ کریں۔ آرڈر اس کے ذریعے آئے گا اور اس پر اس کا کمیشن ہو گا‘ باقی کام ہمیں کرنا ہوگا۔ بینک کے محفوظ لیٹر آف کریڈٹ کے ذریعے پارٹی سے رقم بھی براہ راست ہمیں ملے گی۔ بہت سے لوگ اس طرح کمیشن ایجنٹس کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں‘ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن کئی سوال اور شکوک بہرحال تھے۔ ایک تو یہ کہ اس نے مجھے کیوں منتخب کیا؟ اس کے مجھ پر اعتماد کی وجہ کیا ہے؟ وغیرہ۔ لیکن وہ پڑھی لکھی لڑکی تھی اور جس اعتماد سے بات کرتی تھی اس سے یہ گمان بھی ہوتا کہ شاید یہ فراڈ نہیں۔ اس نے کراچی کی مشہور چندریگر روڈ پر اپنا دفتر اور ڈیفنس میں اپنی رہائش بتائی۔ وہ کرید کر میرے کاروبار کی تفصیلات پوچھتی رہی‘ سو ضروری باتیں بتا دی گئیں۔ چند دن بعد اس نے میرا موبائل نمبر مانگا اور اپنا نمبر دیا۔ کچھ دیر بعد مجھے اس کی وڈیو کال آئی۔ یہ میرے لیے حیرت انگیز بات تھی کیونکہ دھوکے باز لوگ فون نمبر نہیں دیتے اور وڈیو کالزبھی نہیں کرتے۔ مزید حیرت یہ کہ وڈیو میں وہی لڑکی بات کرتی تھی جس کی تصویریں پروفائل پر تھیں۔ یعنی وہ تصویریں جعلی نہیں تھیں۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا‘ اس لیے میں تذبذب میں پڑگیا لیکن محتاط رہا۔ دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر یہ فراڈ ہے تو کس طریقے کی واردات ہے۔
اس نے بتایا کہ اس کے والدکی جبل علی فری زون (دبئی) میں فلاں نام کی فیکٹری ہے۔ اتفاق سے میں جبل علی فری زون اور دبئی انڈسٹریل ایریا سے بہت واقف ہوں۔ 2000ء سے 2016ء تک کاروباری سلسلے میں بہت بار جانا ہوتا رہا اور وہاں کے رہائشی علاقے جبل علی ویلیج میں بھی کافی مدت رہا تھا۔ میں نے وہ نام تلاش کیا لیکن اس نام سے جبل علی میں کوئی فیکٹری نہیں تھی۔ میرا شک مزید بڑھ گیا لیکن میں نے اس سے ذکر نہیں کیا۔ اس دوران اس نے ایک دو پارٹیوں کے آرڈرز بھی بھیج دیے لیکن جو ریٹ بتائے‘ وہ ممکن ہی نہیں تھے۔ ان دنوں وہ دن رات میں کئی بار چیٹ پر بات کرتی تھی اور کئی بار غیر متوقع وڈیو کالز بھی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وڈیو کال پر کوئی اور ہو‘ ہمیشہ وہ خود بات کرتی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے کاروبار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرتی ہے اور اسے باقی چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ کبھی وہ اپنی قیمتی گھڑی کی تصویریں دکھاتی‘ کبھی مہنگے زیورات کی۔ اپنی تصویریں اور وڈیو کلپس بھی بھیجتی رہتی تھی۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ کوئی فرضی آئی ڈی نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ آرڈرز بھی بھیجتی تھی‘ جن میں کوئی ایک بھی قابلِ عمل نہیں تھا۔ سچ یہ ہے کہ کئی بار میں سخت تذبذب میں مبتلا ہو گیا کہ میں غلط شبہ تو نہیں کر رہا۔ اب تک اس نے نہ سرمایہ کاری کا لالچ دیا تھا نہ پیسے مانگے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ دھوکے باز ہے تو بہت باصبر دھوکے باز ہے۔ اب ہم دونوں منتظر تھے کہ کس دن اصل کہانی شروع ہو گی۔
کئی ماہ کے بعد وہ دن آ ہی گیا۔ ایک رات اس نے مجھے سکرین شاٹ بھیجے جو ہزاروں ڈالر فائدہ دکھاتے تھے۔ اس نے بتایا کہ امریکہ میں اس کے انکل اسے سرمایہ لگانے کی ٹپ دیتے ہیں اور اسے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اس نے کہا کہ آ پ بھی میرے ذریعے یہ کمائی کر سکتے ہیں۔ یہ وہ بات تھی جس کا میں اتنے دن سے انتظار کر رہا تھا۔ میں دل میں مسکرایا۔ اب میرے کھیلنے کا وقت تھا۔ میں نے دلچسپی ظاہر کی اور مزید معلومات بھیجنے کو کہا۔ اب میں سمجھ چکا تھا اور پُرسکون تھا۔ قصہ مختصر اس نے مجھے دو ماہ مزید معلومات بھیجیں‘ اور بار بار اپنے ذریعے سرمایہ لگانے کی ترغیب دی۔ بہت بار بات ہوئی۔لیکن میں نے کبھی اس کی بات پر عمل نہیں کیا۔ اب میں اس بات پر حیران بیٹھا ہوں کہ مزید دو تین ماہ بعد اچانک اس نے مجھ سے رابطہ کیوں ختم کر دیا۔ مجھے معلوم نہیں‘ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments