"SUC" (space) message & send to 7575

مصطفی کمال! آپ سے کچھ باتیں

لاہور کے بعد جس شہر نے مجھے سب سے زیادہ برتا وہ کراچی ہے۔ میرے بچپن‘ لڑکپن اور جوانی کی بہت قیمتی ساعتیں اس شہر میں اس طرح گزری ہیں کہ شہر کی سانسوں میں میری سانسیں بھی شامل رہتی تھیں۔ اسی لیے کراچی سے ہونے والے ظلم پر میرا دل ہمیشہ گریہ کرتا رہا ہے۔ اس شہر کے پڑھے لکھے‘ مہذب گھرانوں سے زیادتی پر میں ہمیشہ کڑھتا رہا ہے۔ وہ مصرع ہے نا: ایں مقتول را جز بیگناہی نیست تقصیرے۔ یہ وہ مقتول ہے جس کا جرم اس کی بیگناہی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اہلِ کراچی نے اپنی بے گناہی کی جو سزا بھگتی ہے اور ہنوز بھگت رہے ہیں ان پر میری تکلیف کی گواہ میری بہت سی تحریریں ہیں۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کراچی کے مسائل سے میری لاتعلقی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بحیثیت سیاسی جماعت ایم کیو ایم سے میری کبھی کوئی توقع اور دلچسپی نہیں رہی۔ اب تک بھی ایسا نہیں جب ایم کیو ایم ایک آسیبی سائے کی گرفت سے بہت سال پہلے باہر آچکی ہے۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ایم کیو ایم میں بہت محنتی‘ مخلص اور دردمند لوگ شامل ہیں جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں نہیں جانتا‘ خاص طور پر کارکنوں کی صفوں میں لیکن میرا تاثر یہی رہا کہ قیادت سے زیادہ توقع وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ ملکی معاملات تو دور کی بات خود کراچی کے بے پناہ مسائل کیلئے بھی۔ ہر توقع میں دو چیزیں حائل رہیں۔ ایم کیو ایم کی مجبوریاں اور اپنی بنائی ہوئی پالیسیاں۔ ایک زمانے میں ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ کا کام ضرور کرتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دانت اور ناخن بھی کمزور ہوتے گئے۔ اور اب ہم ہر نئے دور میں دیکھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک دو وزارتوں کے حصول اور قانون سازی کے وقت اپنے ووٹ کسی خاص سمت میں ڈالنے کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ آپ میری بات چھوڑیں‘ پورے ملک کی آرا کو ایک طرف رکھیں۔ کراچی کے ایک عام آدمی کا تاثر ہی معلوم کرلیں‘ اندازہ ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ میری ہمدردیاں دوسری جماعتوں کے بجائے ایم کیو ایم کیلئے زیادہ رہی ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم بنیادی طور پر متوسط طبقے سے اٹھی تھی اور جس کے رہنما روایتی سیاسی خاندانو ں‘ بڑے صنعتکار اور زمیندار گھرانوں سے نہیں تھے۔ یہ عام گلی محلوں کے لوگ ہیں اور یہ اس لحاظ سے واحد ملکی پارٹی تھی۔ خواب کتنے بھی چکنا چور ہوئے ہوں میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں اگر کوئی انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں تو وہ یہی متوسط گھرانوں کے نوجوان ہیں۔ لیکن اس یقین کے باوجود میں اپنے اس تاثر کی معافی کا طلبگار ہوں کہ ایم کیو ایم کے ترجمانوں میں سے کوئی قومی سطح کا رہنما محسوس نہیں ہوا۔ کبھی ایسا نہیں لگا کہ یہ شخص علاقائی اور مقامی سطح سے اوپر اٹھ کر پورے ملک کیلئے دل میں درد رکھتا ہے یا پوری قوم کیلئے سوچتا ہے۔ چلیے یہ تو بڑے مقاصد ہیں‘ کراچی سمیت سندھ کے شہروں کے مسائل کے حل کی طرف بڑھنے اور نظام کی بہتری کیلئے بھی ان کا کوئی خاص کام نظر نہیں آیا۔اگر ہوا ہوتا تو اس وقت سندھ کی حالت ایسی دگرگوں نظر آتی ؟ اس لیے میرے تحفظات کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔
یہ باتیں لکھنے کے بعد اگر میں یہ کہوں کہ میرے نزدیک جناب مصطفی کمال پارٹی کے سب رہنماؤں میں ہمیشہ ایک مختلف آواز محسوس ہوئے تواس سچائی پر بھی یقین کر لیجیے۔ان کیلئے میرے دل میں احترام اور قدر اُس وقت سے ہے جب وہ 2005ء میں محض 34 سال کی عمر میں کراچی کے مئیر بنے اور حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے2010ء تک اس وقت کے کراچی کو بدل کر رکھ دیا۔اس سے پہلے عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان صاحب کی مئیر شپ کی مثالیں دی جاتی تھیں۔اس نیک نام فہرست میں مصطفی کمال کا نام اس طرح شامل ہوا کہ کروڑوں نگاہیں ان پر مرکوز ہوگئیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر یہ پانچ سال ان کی زندگی میں نہ آئے ہوتے تو وہ موجودہ مصطفی کمال نہ ہوتے۔میری دلچسپی محض ان کاموں کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ ان کے دبنگ اندازِ گفتگو اور ان خیالات کی وجہ سے بھی ہے۔ 2016ء میں ایم کیو ایم سے الگ ہوتے ہوئے انہوں نے بانی اور سابقہ قیادت پر جو سخت تنقید کی تھی وہ بھی لوگوں کو یاد ہوگی۔ اس خوف اور دہشت کے عالم میں یہ باتیں کرنا بہت جرأت کی بات تھی۔مصطفی کمال مقامی اور اندرونی سیاسی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر گول مول گفتگو کے عادی نہیں لگتے؛ چنانچہ ان کی بات اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ قدرے جارحانہ اور لگی لپٹی سمیٹ کر ایک طرف رکھنے کا یہ انداز یقینا ایم کیو ایم کے گلی محلوں کے کارکنوں کے دل میں اترتا ہوگا۔
مصطفی کمال کا پاک سرزمین پارٹی کا تجربہ ناکام ہوا تو وہ 2023ء میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کا حصہ بن گئے لیکن میرا خیال ہے اس دور نے انہیں بہت سا سبق دے کر سفاک حقیقتوں سے روشناس کرایا۔کل جب پارٹی کارکنوں سے ان کے خطاب کے کلپس اور چیئرمین سمیت بڑے رہنماؤں پر سخت تنقید سن رہاتھا تو میرا احساس تھا کہ وہ پارٹی کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حصہ نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر جو اس وقت بہت نمایاں دھڑے بندی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے‘ وہ بڑا امتحان ہے‘ مصطفی کمال کیلئے بھی اور پارٹی کیلئے بھی۔یہ اختلافات کیا ہیں‘ ان کی گہرائی میں نہیں جاتے لیکن بظاہر مسئلہ تو اختیارات ہی کا ہے۔ آئینی اور عملی اختیارات۔خالد مقبول صدیقی سینئر ترین رہنما ہیں۔ آئینی طور پر مستحکم ہیں۔انہیں سینئر قیادت کی حمایت حاصل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام اہم فیصلے بہادر آباد کی مرکزی قیادت کے ذریعے ہوں۔مصطفی کمال عوامی رابطوں میں آگے ہیں اور بظاہر قیادت کے فیصلوں سے ہم آہنگ نہیں۔وہ زیادہ متحرک‘ عوامی رابطے پر مبنی اور نسبتاً خودمختار اندازِ سیاست اختیار کرتے ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں بھی الگ الگ سیاسی جلسوں کی شکل میں کشیدگی صاف نظر آئی تھی اور اس وقت تو یہ خلیج بہت پھیلی ہوئی ہے۔خیر! ایم کیو ایم کی اندرونی سیاست سے میں نہ اتنا واقف ہوں نہ اس پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے جو بات کرنی ہے وہ اور ہے اور وہ بات مجھے مصطفی کمال ہی سے کرنی ہے۔
جناب مصطفی کمال صاحب ! ایک خیرخواہ کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ایم کیو ایم اگر کراچی کے شہریوں میں اپنی حمایت اور طاقت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو پارٹی پالیسیوں اور حکمت عملی میں انقلابی تبدیلیوں کی شدید ضرورت ہے۔آپ کراچی سے باہر یا خود کراچی میں کسی سے بھی ایم کیو ایم کے بارے میں تاثر جان لیں‘ وزارتوں‘ عہدوں کے کھیل کی طالب ایسی جماعت کا تاثر ملے گا جسے بوقتِ ضرورت فیصلہ ساز اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔اس تاثر کے ہوتے ہوئے پارٹی کو زیادہ دیر منظر پر نہیں رکھا جا سکتا۔ایم کیو ایم کو اس دائرے سے نکلنے کی شدید ضرورت ہے۔ مصطفی کمال کے سوا کسی اور سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ چلن بدلنے کا کام کرسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کا سامنا جماعت اسلامی جیسی ملک گیر اور منظم جماعت سے بھی ہے اور پیپلز پارٹی سے بھی جو ملک کی دو بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ جب تک ایم کیو ایم مقامی سطح سے اٹھ کر ایک ملک گیر جماعت کی صورت اختیار نہیں کرتی وہ چھوٹی جماعت ہی شمار ہوتی رہے گی۔مصطفی کمال! ایم کیو ایم ان لوگوں کی اور اس شہر کی نمائندہ ہے جن کے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا اور اس کیلئے لاکھوں قربانیاں دی تھیں۔آپ کراچی کے چپے چپے کو جانتے ہیں۔کیا آپ سے یہ توقع بیکار ہوگی کہ آپ مصلحت کی پالیسیوں کو چھوڑ کرسیٹوں ‘ عہدوں اور وزارتوں کی ترغیبات سے الگ ہوکر‘ پارٹی کو ایک ملک گیر جماعت بنادیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بر وقت فیصلے کیجیے اس سے پہلے کہ وقت آپ کا فیصلہ کردے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...