"SUC" (space) message & send to 7575

ایک جذباتی مسئلہ

جذباتی ہونا اور جذباتی باتیں کرنا کوئی خوبی تو نہیں لیکن کیا کیا جائے جب جذباتیت کے علاوہ کوئی بھی راستہ نہ بچتا ہو۔ جگر مراد آبادی نے کہا تھا:
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
جب عقلی دلیلیں بیکار ہو جائیں تو پھر دل کی بات کے سوا راستہ رہ بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان میرے لیے ایک ایسا ہی جذباتی مسئلہ ہے۔ میں ایک ایسے گھرانے کی اگلی نسل کا فرد ہوں جس نے پاکستان کے قیام میں بھرپور حصہ لیا اور پھر گھر بار چھوڑ کر‘ اجداد کی قبروں کو الوداع کہہ کر‘ تمام مشکلات جھیل کر بڑے مقصد کے تحت ہجرت کی۔ یہاں تکالیف جھیلیں‘ چٹنی روٹی پر گزارہ کیا لیکن اس مٹی سے وفا نبھائی۔ اسی مٹی نے انہیں آب و دانہ دیا اور یہیں ان کے قبروں پر کتبے لگائے گئے۔
پاکستان بنتے وقت بھی اس کے خلاف بہت سی باتیں کی گئی تھیں اور آج بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ کچھ لوگ تو کسی ایجنڈے کے تحت یہ باتیں کرتے ہیں اور ان کا 1947ء کا زخم ابھی تک رس رہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ محض پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا مقصد ہوتا بھی یہی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں شبہات کے بیج ڈالے جائیں اور رفتہ رفتہ انہیں تناور درخت بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے طرح طرح کے حربے ہیں۔ کبھی موجودہ مسائل کا سبب الگ ملک کے قیام کو بتایا جاتا ہے‘ کبھی ابوالکلام آزاد کی وہ پیش گوئیاں دہرائی جاتی ہیں جن کی اصلیت بھی مشکوک ہے۔ کبھی بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان نہ بنتا تو مسلمان متحدہ ہندوستان میں بڑی طاقت میں ہوتے۔ کبھی قیام پاکستان کو انگریز کا ایجنڈا بتایا جاتا ہے۔ کبھی دوسرے ممالک کا حوالہ دے کر پاکستان سے ان کا موازنہ ہوتا ہے۔ کبھی طنزیہ جملے کسے جاتے ہیں۔ یہ سب آج ہی نہیں ہو رہا‘ پاکستان بننے سے بھی پہلے یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
ایک منٹ کیلئے 1947ء میں کھڑے ہوکر دیکھیے جب انگریز کی رخصتی چند دنوں کی بات تھی۔ سامنے دو راستے تھے‘ ان میں سے ایک ہی اختیار کیا جا سکتا تھا۔ ایک یہ کہ الگ ملک بنایا جائے اور اس کی ترقی کیلئے پوری کوشش کی جائے۔ دوسرا یہ کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کی حاکمیت تلے یکجہتی سے رہا جائے۔ بیک وقت دونوں راستوں پر نہیں چلاجا سکتا تھا‘ ان میں سے ایک ہی راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ دونوں کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات تھے۔ دونوں میں مسائل اور قربانیاں درپیش تھیں۔ اکثریت نے پہلا راستہ اختیار کیا۔ آج 79 سال کے بعد اس راستے کے نتائج‘ ثمرات اور مسائل وغیرہ سب کے سامنے ہیں۔ چونکہ شروع سے بہت سخت حالات پیش آئے جن کا کچھ پہلے سے اندازہ تھا اور کچھ غیر متوقع تھے اس لیے جنہوں نے ایک بلند مقصد کے تحت قربانیاں دی تھیں‘ ان میں سے بہت ناامید بھی ہوئے اور شبہات کا شکار بھی۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اہم ترین قائدین کا جدا ہو جانا غیرمتوقع حادثہ تھا۔ مزید حادثہ یہ کہ اقتدار ان مفاد پرستوں کے ہاتھ میں آ گیا جنہیں بڑے مقصد سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ اپنی ذات اور کرسی سے اوپر ان کیلئے کچھ اہم نہیں تھا۔ تحریک پاکستان کے بعد نئے دورِ تعمیرِ پاکستان کا آغاز ہوا جو کم مشکل نہیں تھا۔ اس جد و جہد میں بہت سے عظیم مقاصد حاصل کیے گئے‘ جن میں قانون سازی بھی تھی‘ لیکن بہت سے مقاصد ابھی تک خواب ہیں۔ ایک اسلامی نظام جس میں عام شہری تک ثمرات پہنچیں‘ ایک فلاحی معاشرہ جس میں طبقاتی خلیجیں حائل نہ ہوں‘ اب تک ان کیلئے جدوجہد جاری ہے۔ ان کے حصول میں مغرب کے پروردہ مقتدر فیصلہ ساز ہمیشہ رکاوٹیں بنتے آئے اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
دوسرا راستہ متحدہ ہندوستان کا تھا۔ یہ چونکہ اختیار ہی نہیں کیا گیا اس لیے اس کے نتائج‘ ثمرات اور مسائل کے بارے میں صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی صورتحال سامنے نہیں آ سکتی اور چونکہ درست صورتحال کبھی سامنے نہیں آ سکتی اس لیے اس راستے کے مسائل اور مصائب بھی سامنے نہیں آ سکتے۔ لیکن ان کا ایک اندازہ 79 سال میں ہندو حاکمیت اور اس کے رویوں سے بہرحال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تو خیر بھارتی مسلمان ہندوتوا کے نرغے میں ایک آزمائشی دور سے گزر رہے ہیں جو معلوم نہیں کب ختم ہوگا۔ لیکن انتہا پسندوں سے پہلے بھی‘ مثلاً کانگریس کی حکومت کے زمانے میں جس طرح مسلمانوں کو ہر شعبے سے باہر رکھنے کی شعوری کوششیں ہوتی رہی ہیں‘ وہ بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کے سامنے سب مسلمان رہنماؤں کی خدمات تھیں جو تقسیمِ ہند کے مخالف تھے اور اس کیلئے انہوں نے بھرپور کام کیا۔ لیکن یہ خدمات بھی ان کے ایجنڈے کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرکے ان کی طاقت توڑ دینے سے لے کر غیرمنصفانہ قانون سازی تک کون سا کام تھا جو نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کی تو خیر بات ہی چھوڑ دیجیے کہ اس نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہر حالت میں بھارت کے مسلمان کو کچلنا ہے لیکن خود کانگریس نے مسلمانوں کوکتنی بار ٹکٹ دیے؟ اس کی جو بھی عملی اور سیاسی وجوہات ہوں‘ اس پہ بحث نہیں‘ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان کو ان سب نے برابر کا ساتھی کیوں نہیں سمجھا؟ آج بھی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ایوانوں‘ ملازمتوں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمائندگی کیوں نہیں ملتی؟ ان سب مسائل کو مسلمانوں کا اپنا قصور کہہ کر کیسے بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کا تکلیف میں ہونا ہمارے لیے خوشی کی بات نہیں۔ یہ ایک الگ اذیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مستقبل بین مولانا آزاد نے جو کچھ پاکستان کا مستقبل دیکھا تھا‘ اس طرح بھارت کے مسلمانوں کا مستقبل کیوں نہیں دیکھ سکے۔ مبینہ پیش گوئیوں کا دوسرا حصہ کہاں ہے۔ بہرحال موجودہ حالات سے یہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں حالات کس طرح کے ہوتے۔
آئیے 14 اگست 2026ء کے دن ایک بار پھر کچھ باتیں طے کریں۔ ہم پاکستانی پاکستان کے صرف سکھ کے ساتھی نہیں‘ ہم اس کے دکھوں کے بھی ساتھی ہیں۔ ہم اس کے زخموں‘ تکلیفوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان خود غرضوں میں نہیں ہیں جو صرف اپنے آپ اور اپنے مستقبل کو دیکھتے ہیں۔ ہم ماں کے ساتھ اس وقت بھی موجود ہیں جب اس کو اولاد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ان موقع پرستوں میں نہیں ہیں جو اس ملک سے فائدہ اٹھانے میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن جب اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہوتا ہے تو دور کھڑے ہوکر اس پر طعنہ زنی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان بے حسوں میں نہیں ہیں جو سرکاری اور نجی اداروں میں اسی ملک سے رزق اور سایہ حاصل کرتے ہیں‘ پوری مراعات حاصل کرتے ہیں لیکن اس ملک‘ اس نظریے اور اس قوم سے محبت کی رمق تک دل میں نہیں رکھتے۔ ہم ان مفاد پرستوں میں نہیں ہیں جو جھوٹے کاغذات دے کر مختلف ممالک کی سرکاری بھیک پر گزارہ کرتے ہیں اور پاکستانی قوم کو خودداری کا درس دیتے ہیں۔ ہم ان میں سے نہیں ہیں جو پاکستان کو صرف سستی شاپنگ‘ اپنے اعزاز میں تقریبات‘ اعزازات‘ کانفرنسوں اور مشاعروں کا ایک اڈہ سمجھتے ہیں لیکن اس سے زیادہ اس مٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہم ان بے ضمیروں میں نہیں ہیں جو ٹکے ٹکے کے مفاد کیلئے میڈیا و سوشل میڈیا پر ملک اور قوم کے خلاف زہر اگل رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان بے شرموں میں نہیں ہیں جو جان بوجھ کر صرف کالا ہی کالا دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ ہم اس طعن و تشنیع کے عادی ہیں جو پاکستان اور پاکستانیوں پر کی جاتی ہے اور یہ جملے بھی وطن سے ہماری محبت ختم نہیں کر سکتے۔ یہ چند سو یا چند ہزار لوگ خواہ پاکستان میں رہتے ہوں یا پاکستان سے باہر اپنی کمیں گاہوں میں مقیم ہوں‘ انہیں ہر باشعور پاکستانی پہچانتا ہے اور ان کے ہر طعن و تشنیع‘ مخالفت‘ سازش اور استہزا کا ایک ہی جواب دیتا ہے اور وہ جواب ہے: پاکستان زندہ باد۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...