"IYC" (space) message & send to 7575

آواز، وہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز

کچھ آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں‘ دل میں اترتی ہیں۔ کچھ فنکار اپنے عہد کا حصہ نہیں رہتے‘ وہ خود ایک عہد بن جاتے ہیں۔ نور جہاں بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں۔ برصغیر کی موسیقی کی تاریخ لکھی جائے تو ان کا ذکر محض ایک گلوکارہ کے طور پر نہیں‘ ایک ایسی فن کارہ کے طور پر ہو گا جس نے آواز کو ایک تہذیبی شناخت بنا دیا‘ موسیقی کو نئے معنی پہنا دیے۔ وقت گزر گیا‘ فلمیں بدل گئیں‘ موسیقی کے انداز بدل گئے‘ مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ شاید بڑے فن کار کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ زمانہ اسے پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے‘ مگر وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے بجائے خود زمانے کی یاد بن جاتا ہے۔ ذکر ہے پاکستانی موسیقی کی اس آواز کا جسے خاموش کرنا وقت کے بس میں نہیں۔ اپنی پیدائش کے سو سال بعد بھی وہ جنوبی ایشیا کی مقبول ترین گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر خود ہی اس سوال کا جواب تلاش کیجیے کہ پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری کا تذکرہ نور جہاں کے ذکر کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے؟ فلم سہیلی میں اسد امانت علی کے گائے ہوئے اس گیت میں شباب کیرانوی کا مخاطب پتا نہیں کون تھا‘ لیکن مجھے لگتا ہے کہ گیت ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز پر لکھا گیا تھا:
آواز‘ وہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز
مدہوش دلوں کو بناتی ہوئی آواز
کلیوں کے چٹکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
بلبل کے چہکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
شیشوں کے کھنکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
لیکن وہ کہاں‘ ہوش اڑاتی ہوئی آواز
آواز‘ وہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز
ان دنوں 21 ستمبر 1926ء کو پیدا ہونے والی برصغیر کی معروف ترین گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی 100ویں سالگرہ کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ دنیا سے رخصت ہو چکے کسی فرد کی سالگرہ منانے کا کیا مقصد ہوتا ہے اور یہ منانی بھی چاہیے یا نہیں‘ لیکن چونکہ ایک خاص موقع ہے تو ہم بھی کچھ دیر کے لیے ان کی یاد میں بزم آرا ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ صدی کے ربع دوم کے آغاز میں جب بر صغیر میں فلم انڈسٹری نئی انگڑائی لے رہی تھی اور بغیر آواز کی فلموں سے آواز والی فلموں کے دور میں داخل ہو رہی تھی تو ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک نئی آواز بھی سروں میں ڈھل رہی تھی۔ یہ اللہ وسائی کی آواز تھی جس نے اپنے گھرانے کی روایت کے مطابق بچپن ہی سے گانا سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ سات برس کی عمر میں اللہ وسائی اپنی بہن اور اپنی کزن کے ساتھ قصور اور آس پاس کے علاقوں میں لگنے والے میلوں میں گانے گایا کرتی تھیں۔ اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ ایک روز یہ آواز برصغیر کے کونے کونے میں پھیل جائے گی اور اللہ وسائی نور جہاں بن کر حقیقتاً پوری دنیا میں اپنی آواز کا نور پھیلا دے گی۔ 1933-34ء تک اللہ وسائی اور ان کی بہنوں کا نام قصور اور لاہور کے تھیٹروں میں معروف ہو چکا تھا۔ یہ تھیٹر ہی نور جہاں کو فلمی دنیا تک لے کر آئے۔
یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ لتا منگیشکر کو انڈین فلم انڈسٹری میں متعارف کرانے والی یہی نور جہاں تھیں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر تقسیم ہند کے بعد نور جہاں بھارت میں رہنے کا ارادہ کر لیتیں تو پھر لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کا کیریئر یہ نہ ہوتا جو اس وقت ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں مہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ مہدی حسن تم اتنے مشکل سُر اتنی آسانی سے کیسے لگا لیتے ہو؟ نور جہاں کو موسیقی کے رموز اور سروں پر اتنا عبور حاصل تھا کہ وہ موسیقار کی ہدایات کے مطابق چند منٹوں میں گانے کو سمجھ لیتی تھیں اور پھر بغیر کسی ریہرسل کے براہِ راست ہی گانا ریکارڈ کرا دیا کرتی تھیں۔ وہ جب مائیک پر آتی تو یوں لگتا جیسے سُر خود اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں۔ نور جہاں صرف ایک نام نہیں‘ بر صغیر کی موسیقی کی تاریخ کا وہ تابندہ باب ہے جس پر وقت کا کوئی فریب اثر انداز نہیں ہو سکا۔ آواز میں ایسی کھنک‘ ایسا سوز اور ایسی تان کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔ نور جہاں کی شخصیت میں ایک نمایاں ترین خود اعتمادی تھی۔ انہوں نے فن کی دنیا میں اپنی جگہ کسی رعایت سے نہیں‘ اپنی صلاحیت سے بنائی۔ ان کی آواز کی گرفت‘ تلفظ‘ ادائیگی اور جذباتی قوت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کیا۔
میلوڈی کوئین کے گیت چھ دہائیوں تک فلموں کی کامیابی کی ضمانت بنے رہے۔ مداح ان کی آواز کا ترنم آج تک نہیں بھولے۔ سروں کی ملکہ میڈم نور جہاں نے جو گایا امر ہو گیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں نے 995 فلموں کے لیے دس ہزار سے زیادہ نغمے ریکارڈ کرائے۔ غیر فلمی نغمے‘ غزلیں‘ گیت اس کے علاوہ ہیں۔
نور جہاں ایک اچھی فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بھی تھیں۔ ان کی بیٹیاں بتاتی ہیں کہ شوہر سے علیحدگی کے باوجود وہ پورے گھر کا بہت خیال رکھتی تھیں اور ہمیں کھانا اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھلاتی تھیں۔ ایک مصروف ترین شوبز لائف کے ساتھ گھریلو زندگی کو بھی پورا وقت دے پانا اور بچوں کا ہرطرح سے خیال رکھنا بڑی بات ہے۔
معروف صحافی طاہر سرور میر اپنے ایک مضمون میں یوں رقم طراز ہیں: ملکہ ترنم نور جہاں کی فلمی دنیا میں حیثیت وی وی آئی پی کی سی رہی۔ ان کے ڈرائیور سے لے کر باورچی تک اور ان کے استاد سے لے کر ڈھولک نواز تک‘ سبھی نگار خانوں میں وی وی آئی پی سمجھے جاتے اور سب کو پروٹوکول دیا جاتا۔ ملتان روڈ پر واقع تینوں فلمی سٹوڈیوز میں ایک جگہ ایسی مختص ہوتی تھی جہاں ملکہ ترنم نور جہاں کی گاڑی پارک ہوتی تھی۔ اس جگہ کوئی اور گاڑی پارک نہیں کر سکتا تھا۔ نور جہاں کی گاڑی جب نگار خانوں میں داخل ہوا کرتی تو لوگ احتراماً راستے سے ہٹ جایا کرتے تھے۔ نور جہاں کے دو ڈرائیور تھے جن کے نام فاروق اور امیر تھا اور نور جہاں خود کھانا کھانے سے پہلے ان دونوں کے کھانے کا اہتمام کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ گھریلو ملازمہ بانو کو جھڑک کر نور جہاں عجلت میں سٹوڈیو نکل گئیں لیکن تھوڑی دیر بعد گھر واپس آئیں اور بانو سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ بانو جب تک تم مجھے معاف نہیں کرو گی میں ریکارڈنگ پر نہیں جاؤں گی۔ اس پر بانو نے نور جہاں کو گلے لگا لیا اور دونوں دیر تک روتی رہیں۔ اس کے بعد نور جہاں نے اپنے آنسو پونچھے اور ریکارڈنگ کے لیے سٹوڈیو گئیں۔ ایسے کرّوفرّ والی خاتون اندر سے اتنی نرم‘ دیکھنے والے اور سننے والے حیران رہ جاتے ہیں۔
معروف گلوکار ڈاکٹر امجد پرویز نے میلوڈی کوئین نور جہاں کے عنوان سے ڈیلی ٹائمز میں متعدد اقساط پر مبنی مضامین کا ایک پورا سلسلہ تحریر کیا‘ جو خاصے کی چیز ہے اور نور جہاں کی زندگی کے ہر پہلو کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ میرے خیال میں نور جہاں کی پوری زندگی کو باقاعدہ تحریری شکل دی جانی چاہیے۔ یہی نہیں ان کی زندگی پر ایک پوری بھرپور ٹی وی سیریل یا فلم بھی ضرور بننی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...