"SUC" (space) message & send to 7575

سرکاری اور غیر سرکاری فیس

ویسے تو یہ میری ذاتی بات ہے اور ذاتی قصہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پاکستانی کی بات ہے اور ہر ایک کسی کی داستان۔ بڑے یا چھوٹے شہر میں رہنے والا ہو یا گاؤں میں۔ کردار اور مکالموں کا فرق پڑتا رہتا ہے لیکن داستان کا خلاصہ ایک ہی رہتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے ہاں سب سے مشکل کام کون سا ہے؟ ایسا کام جس کا تصور کرکے انسان کو لرزہ طاری ہو سکتا ہے۔ کوئی جسمانی مشقت؟ ہرگز نہیں! کوئی ذہنی محنت؟ بالکل نہیں! کوئی دور دراز کا سفر؟ قطعاً نہیں۔ یہ سب کام مشکل سہی لیکن پیش آ جائیں تو کر ہی لیے جاتے ہیں۔ جناب! سب سے مشکل کام کسی سرکاری دفتر سے اپنا کوئی جائز کام کروانا ہے۔کوئی بھی سرکاری دفتر۔ کسی بھی طرح کا محکمہ۔ بجلی نہ آنے کی یا میٹر خراب ہونے کی شکایت کرنی ہو‘ اپنے گھر پانی گندا آنے کا مسئلہ اٹھانا ہو‘ زیادہ بھیجا گیا ٹیکس کٹوانا ہو‘ چوری کی رپورٹ درج کروانی ہو اور چور پکڑوانا ہو‘ یا کوئی اور جائز کام پیش آ جائے۔ زندگی ہے تو مسئلے ہزاروں ہیں اور محکمے بھی اتنے ہی۔ جب کبھی ایسا کوئی کام پیش آتا ہے تو بخار سا چڑھنے لگتا ہے کہ اب نااہل‘ کام چور رشوت خور عملے سے واسطہ پڑے گا اور اگلے کئی دن خون جلاتے‘ کڑھتے گزریں گے۔ میں دعویٰ کروں تو غلط نہیں ہو گا کہ کسی بھی شہر یا گاؤں میں سرکاری محکمے سے رشوت دیے بغیر‘ سفارش کے بغیر‘ تنگ ہوئے بغیر آپ کوئی کام نہیں کروا سکتے۔ یہاں میں صرف جائز کاموں کی بات کر رہا ہوں۔ ناجائز کام چونکہ کبھی کروایا ہی نہیں اس لیے اس کا تجربہ نہیں لیکن یقین ہے کہ اس کا ریٹ کچھ بڑھ جائے گا‘ ورنہ جائز اور ناجائز دونوں کام ایک ہی راستے سے گزرتے ہیں۔
میں ان دنوں لرزے‘ بخار‘ جلن اور کڑھن کی انہی کیفیات سے گزر رہا ہوں کیونکہ معاملہ بجلی کے دفتر سے پیش آ گیا ہے۔ بجلی کے بغیر کسی دفتر اور گھر کا کیا تصور ہے آج کل؟ ہے کوئی تصور؟ مجھے ایک تھری فیز میٹر لگوانے کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ لوڈ سنگل فیز میٹر سے زیادہ ہو رہا تھا۔ جب یہ طے ہو گیا کہ نیا میٹر لگوانا ہے تو بخار چڑھنا شروع ہو گیا۔ دفتر شہر کے دل میں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ مرکزی علاقہ ہے اس لیے کہ سول سیکرٹریٹ‘ اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر‘ بڑی بڑی مارکیٹیں‘ بڑے بڑے تعلیمی ادارے یہیں ایک دو میل کے دائرے میں واقع ہیں۔ اتنا اہم علاقہ ہونے کے باوجود یہاں بجلی آنے جانے کے حالات اتنے خراب ہیں کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ جن اہلکاروں سے یہ مسئلے حل نہیں ہوتے ان سے ایک نئے میٹر لگانے کا جائز مطالبہ کر کے جو نتائج نکل سکتے ہیں‘ سب تصور میں آنے لگے۔ خیر! معلومات لیں تو متعلقہ اہلکار نے بات کھڑے کھڑے نمٹا دی۔ سرکاری اور غیر سرکاری سب فیسیں ملا کر ڈیڑھ لاکھ روپے۔ اصل مسئلہ ہی غیر سرکاری فیس کا تھا۔ سرکاری فیس تو نصف سے بھی کم تھی۔ بار بار کہلوایا گیا کہ حضور کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے‘ قانونی حق ہے‘ کچھ خیال کیجیے۔ لیکن سب لفظ بیکار۔ اندازہ تھا کہ اگر ان کی مرضی پر نہ چلے تو یہ کوئی ایسا اعتراض لگائیں گے کہ میرا کام کئی سال نہیں ہو سکے گا۔ گزشتہ ہولناک تجربات یاد آنے لگے جب ایسے ہی کسی معاملے میں اپنا کام خراب کر بیٹھے تھے۔ آخر یہ کہا کہ جناب! کچھ وقت نکال کر میرے دفتر تشریف لے آئیں‘ میری بات سن لیں کم از کم۔ بہت انکار کے بعد صاحب نے بالآخر آنے کی ہامی بھر لی۔
کچھ دن بعد ایک تنومند صاحب‘ پورے طمطراق کے ساتھ میرے دفتر میں داخل ہوئے۔ یہی وہ صاحب تھے جن سے غائبانہ گفت وشنید ہو رہی تھی۔ ان کے ہاتھ میں اس موبائل کا جدید ترین ماڈل تھا جس کے میں صرف خواب دیکھتا ہوں۔ ساتھ ان کے دفتر کا زیر تربیت چیلا تھا جو اپنے گرو کے اٹھنے بیٹھنے‘ چلنے پھرنے اور بات کرنے کا بغور مطالعہ کرتا رہتا تھا اور ان سے بہت مرعوب تھا۔ اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ وہ ان کا لائق جانشین ثابت ہونے والا تھا۔ بولے: یہ رقم تو میں نے آپ کے لیے کم کہی ہے ورنہ دوسروں سے تو میں اتنے لیتا ہوں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر آپ نے کسی اور طریقے پر چلنے کی کوشش کی تو آپ کے ذمے ٹرانسفارمر بھی لگ جائے گا۔ بعد میں شکایت نہ کیجیے گا۔ یہ ان سے تعاون نہ کرنے کا وہ زاویہ تھا جو تصور میں نہیں تھا۔ ایک چھوٹا سا میٹر لگوانا ہے‘ اس میں ٹرانسفارمر کی لاکھوں کی رقم کہاں سے آ گئی۔ مگر ان کا تیر نشانے پر بیٹھ گیا تھا۔ لاکھوں کی ادائیگی کا تصور کر کے میری سٹی گم ہونے لگی اور میری بچی کچھی مزاحمت نے بھی دم توڑ دیا۔ میں نے باقی معلومات پوچھیں۔ انہوں نے کام پورا ہونے کی مدت بتائی اور بتایا کہ وہ نصف رقم پیشگی لیا کرتے ہیں اور صرف نقد رقم۔ کسی اکاؤنٹ میں نہیں وغیرہ وغیرہ۔ مجبوری میں ایک میٹر لگوانے کا‘ جس کی سرکاری فیس بھی میں نے بھرنی تھی اور بعد میں بل بھی مجھے ہی ادا کرنا تھا‘ یہ خمیازہ مجھے بھگتنا تھا۔ دس دن بعد چیلا سرکاری فیس کا ڈیمانڈ نوٹ لایا۔ یہ فیس بینک میں جمع کرا دی گئی تو اس نے باقی کارروائی سے پہلے رقم کا تقاضا کیا۔ حالانکہ دلّی ابھی کافی دور تھی۔ ابھی سرکاری دفتر میٹر جاری کرے گا‘ پھر مزید کارروائی ہوگی۔ کئی مرحلے باقی تھے۔ معلوم ہوا ابھی لگ بھگ 20 دن ا ور لگیں گے لیکن صاحب کو اپنی رقم کی بہت جلدی تھی۔ اس دوران ان کی طرف سے طرح طرح کی دھمکیاں ملتی رہیں۔ چیلے نے کہا: یہ مزاج کا بہت برا آدمی ہے آپ بینک میں رقم تو جمع کرا چکے ہیں‘ اسے غصہ نہ دلائیں‘ ناراض ہو گیا تو آپ کا کام بہت لٹکا دے گا۔ اس وقت تک میرا پیمانہ بھی بھر چکا تھا۔ میں نے کہا: کتنا لٹکا دے گا‘ دس سال‘ بیس سال؟ ٹھیک ہے ہم گزارہ کر لیں گے۔ کہنے کو تو کہہ دیا لیکن ڈوبتے دل اور کھولتے خون کے ساتھ۔ معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح معاملہ کرتا ہے۔ اچھے خاصے معزز دکانداروں کی ان درمیانے درجے کے اہلکاروں کے سامنے گھگھی بندھتی ہے۔ سب کی حیثیت اور عزت دھری رہ جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس تنگ کرنے کے ہزاروں طریقے ہیں۔ آپ کے پاس کیا ہے؟ کہاں جائیں گے اور کس سے شکایت کریں گے؟
جس دن معلوم ہوا کہ آج نیا میٹر لگنے والا ہے‘ ہماری خوشی دیکھنے والی تھی۔ لیکن پہلے کئی آزمائشیں بلکہ کئی مقاماتِ آہ و فغاں باقی تھے۔ مزید رقم کا تقاضا! مزید دھمکیاں وغیرہ۔ کسی طرح ان سب سے گزرے اور ٹیم میٹر لیے پہنچ گئی۔ اب بتایا گیا کہ ٹرانسفارمر سے اس کھمبے تک جہاں میٹر لگنا ہے‘ جو تار ڈالی جائے گی‘ وہ ہمارے ذمے ہے اور اس کی قیمت بھی ہزاروں میں ہے۔ سمجھ نہیں آیا کہ جب سرکار نے میٹر کی سرکاری فیس لے لی‘ غیر سرکاری فیس عملے کا حق ٹھہری تو پھر یہ اضافی خرچ کس مد میں ہے؟ اس کے علاوہ اہلکاروں کی مٹھائی۔ جو ایسے ہر موقع پر ہاتھ پھیلا کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
بجلی کے وفاقی اور صوبائی وزرا‘ وزرائے مملکت اور دیگر متعلقہ حکام تک اگر میری بات پہنچ رہی ہے تو ان سے صرف ایک گزارش کرنی ہے۔ یقین کریں میرا مقصد غیر سرکاری فیس ختم کروانا نہیں ہے۔ اگر آپ ختم کروانا چاہتے یا ختم کروا سکتے تو کیا اب تک ختم نہ ہو چکی ہوتی؟ میری تحریر کا انتظار تھوڑی کر رہے ہوتے۔ میری درخواست تو بس اتنی ہے کہ عملہ غیر سرکاری فیس بیشک لیتا رہے لیکن دھمکیاں نہ دے‘ تنگ نہ کرے‘ پیار سے بات کرے۔ بس اتنا کردیں کہ کہ کوئی خوش اخلاق رشوت خور لگا دیں۔ اتنا اختیار تو آ پ کا ہوگا نا! یہ مجھے نہیں پتا کہ اس کام کی کوئی سرکاری اور غیر سرکاری فیس ہوتی ہے؟ یہ بھی بتا دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...