"SG" (space) message & send to 7575

سیاست میں ڈیڈلاک کیوں؟

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک نے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری فریقین ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی سیاسی اور حکومتی محاذ پر تناؤ کی کیفیت تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے نے فریقین پر واضح کر دیا تھا کہ قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے گی‘ پُرامن احتجاج کی اجازت ہوگی مگر شاہراہیں کسی صورت بند نہیں ہوں گی ۔حکومت نے سکیورٹی اقدامات کیے مگر پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پروگرام پر گامزن نظر آئی۔ اس دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور بعض حکومتی ذمہ داران کے بیانات نے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔ لانگ مارچ کی تاریخ قریب آنے پر فریقین میں شامل اعتدال پسندرہنماؤں نے ملک کے وسیع تر مفاد اور امن کیلئے پسِ پردہ مذاکراتی عمل شروع کیا اور ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ اسے کھلے مذاکرات میں تبدیل کرنے کا اعلان ہوا۔ اس میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بھی کردار اہم تھا۔ مذاکرات کے اعلان کے ساتھ ہی فریقین کے ذمہ داران اسے بہترین آپشن قرار دیتے نظر آئے۔ فریقین کی جانب سے کسی حد تک نیک نیتی بھی دکھائی دی ۔ ہفتہ اور اتوار کی شب ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا تصدیق کرتے دکھائی دئیے کہ مذاکرات میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کچھ نکات پر اتفاق ہو گیا ہے‘ لانگ مارچ مؤخر اور محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات طے پائی ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور دیگر نظر بندوں کی نظر بندی کے خاتمے بارے بھی اچھے سگنلز مل رہے تھے۔ مشترکہ اعلامیے کی خبریں بھی آ رہی تھیں کہ جلد اس کا اعلان ہوگا اور وزیر داخلہ محسن نقوی حتمی منظوری کیلئے صدرزرداری اور وزیراعظم سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما بھی حتمی مسودے کی منظوری کے لیے اپنی قیادت سے رابطے کرتے دکھائی دئیے۔ مگر مذاکرات کی نتیجہ خیزی کا پُرامن عمل یکایک ڈیڈلاک میں تبدیل ہو گیا اور فریقین کی جانب سے اس پر مخالف فریق کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی حتمی مسودے سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر بضد تھے اور دوسری جانب سہیل آفریدی مسودے پر تحفظات ظاہر کرتے اور لانگ مارچ کیلئے پُرعزم نظر آئے۔ اب ایک طرف پی ٹی آئی خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ کا آغاز کر چکی ہے اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تیاریوں میں ہے تو دوسری جانب حکومت مذاکرات کی ناکامی کے بعد گورنر راج‘ ایمرجنسی اور دیگر آئینی آپشنز کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب مغربی بارڈر پر افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری ہے اور طالبان انتظامیہ کی پشت پناہی پاکستان کیلئے چیلنج بنی ہوئی ہے مگر کے پی حکومت ریاست کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی سے انکاری ہے۔احتجاج کا یہ سلسلہ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی قیادت کی ریلیف اور رہائی سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف پالیسی تک وسیع ہو گیا ہے۔ حکومت اور فورسز خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات پر یکسو ہیں مگر صوبائی حکومت عدم تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔بظاہر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ایجنڈا اپنے صوبے کے مفادات اور یقینی امن سے بڑھ کر اپنے لیڈر کے سامنے سرخرو ہونا ہے اور ان کی سرگرمیوں اور جدوجہد کا محور بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے‘ جسے حکومت خالصتاً عدالتی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ بنیادی طور پر یہی نکتہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیاد بنا۔
وفاق خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے سخت فیصلوں پر یکسو ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اسے صوبائی حکومت سے تحفظات ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف کسی آپریشن میں وفاق کا ساتھ نہیں دیتی تو کیا ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی؟ صوبائی حکومت اپنے ایجنڈے پر گامزن ہے لیکن حالات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس وقت مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔ دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہے اور اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ ایسے حالات میں انتشار کے بجائے اتحاد اور خصوصاً دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سب کو مل کر چلنے کی ضرورت تھی۔ اس میں شک نہیں کہ بعض ایشوز پر پی ٹی آئی کے تحفظات جائز ہیں اور ان پر ریلیف ملنا چاہیے مگر یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں ہی ممکن ہے اور سیاسی طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن یا ریاستی اقدامات کو سیاسی معاملات سے مشروط کرنے سے بات آگے نہیں بڑھے گی بلکہ تناؤ بڑھے گا اور خدا نخواستہ یہ تناؤ اگر ٹکراؤ میں تبدیل ہوتا ہے تو صورتحال کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔ اس سے کسی سیاسی قوت کا کوئی نقصان ہو یا نہ ہو ملک اور قوم کا نقصان ضرور ہوگا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی‘ وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر کے بیانات سے لگتا ہے کہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کو تیار ہے جبکہ صوبائی حکومت لانگ مارچ پر مصر ہے۔ یوں بظاہر ڈیڈلاک کی صورتحال ہے اور لچک کی صورت نظر نہیں آ رہی‘ لیکن سیاست راستہ بنانے اور معاملات کو چلانے کا عمل ہے اور سیاستدان ڈیڈلاک توڑنے کیلئے ہی ہوتے ہیں۔ ڈیڈلاک کے باوجود ڈائیلاگ کا عمل بحال ہونے کی امید ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ امید ہے کہ سیاسی معاملات کے حل کیلئے سیاسی طرزِِ عمل اختیار کیا جائے گا اور دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج سے نمٹنے کیلئے قومی جذبہ و مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اس حوالے سے گیند پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں یا سیاسی مفاہمت اور دہشت گردی کے سدباب کیلئے سنجیدہ تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ریاست کے پاس طاقت ضرور ہوتی ہے مگر طاقت کا اصل امتحان اس کے دانشمندانہ استعمال میں ہے۔ ریاست اگر طاقت کے ساتھ مکالمے‘ آئین اور قانون کی پاسداری کو بھی ذریعہ بنائے تو اختلاف کو تصادم بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ ریاست کی اصل طاقت آئین و قانون کے احترام اور عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔اس وقت بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہے مگر تاثر یہی ہے کہ ریاست سیاسی قوتوں اور معاشرے کے اہم طبقات کے ساتھ اپنے روابط ختم نہیں کرتی۔ آج ملک کو انتشار کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ نئی پیدا شدہ صورتحال میں فریقین میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ کوئی بھی محب وطن ملکی حالات سے صرفِ نظر نہیں برت سکتا۔ جب دشمن ہماری ہمسائیگی میں بیٹھا اپنے مذموم ایجنڈے پر گامزن ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے داخلی مسائل پر قابو پا کر اسے منہ توڑ جواب دیں۔ امید ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل پیرا ہوگی اور اپوزیشن ریاست کی رٹ اور دہشت گردی کے سدباب میں وفاق کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ مسائل کے حل کیلئے نیک نیتی کو بروئے کار لایا جائے تو بحران کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ بات چیت کا عمل بحال کیا جائے اور اسے آگے لے کر چلا جائے۔ اسی صورت میں بات بنے گی بھی اور چلے گی بھی۔ یہ پاکستان کسی ایک طبقے یا جماعت کا نہیں‘ سب کا ہے اور سب کے دل پاکستانیت کے حوالے سے دھڑکتے ہیں۔ یہی جذبہ ہمیں بحران سے نکال سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...