خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ متوقع تھا اور وفاقی حکومت نے اتوار کے روز یہ کر دیا۔ صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے وفاق پر عدم تعاون کے الزامات عائد کرتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کے پی کے میں دہشت گردی خطرناک صورت اختیار کر گئی۔ وفاق بار بار صوبائی حکومت پر زور دیتا رہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق سے تعاون کرے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس معاملے کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے جوڑتی رہی۔ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی نے سیاسی محاذ پر ایسی صورتحال برقرار رکھی جس سے وفاق کے تحفظات میں اضافہ ہوا۔ ریاستی ادارے وفاق کو خبردار کر رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے نتیجے میں دہشت گرد وفاقی دارالحکومت میں داخل ہو کر غیرمعمولی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔ مغربی سرحد کے دوسری جانب دہشت گردی کو منظم کرنے کی سرگرمیاں بھی ریکارڈ پر تھیں جبکہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی بھی بعض قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان حالات میں حکومت اور متعلقہ ادارے الرٹ رہے۔ حکومت نے پی ٹی آئی کے ذمہ داران کو متعدد بار اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان دشمن قوتیں ملک کو غیرمستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں اور ان کا خصوصی ہدف اسلام آباد ہے اس لیے ایسا طرزِ عمل اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جس کے منفی نتائج خود پی ٹی آئی کیلئے بھی سامنے آئیں۔شدید تحفظات کے باوجود حکومت اور اس کے اتحادیوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ معاملات کے سیاسی حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ پس پردہ اور کھلے عام ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا لیکن کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہ ہو سکی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار کے بعد اتفاقِ رائے کی صورت پیدا ہوئی‘ طے پایا کہ احتجاجی تحریک ختم کی جائے گی اور پی ٹی آئی کے بعض مطالبات جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج معالجے کی سہولتوں کیلئے پیش رفت شامل تھی‘ پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم یہ اتفاقِ رائے بعض عناصر کو قبول نہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد ایسی شرائط سامنے آ گئیں جنہیں حکومت کیلئے تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہی ڈیڈلاک ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی آپشنز پر پیش رفت کا باعث بنا۔ حکومت مذاکرات میں پی ٹی آئی کے متعدد مطالبات تسلیم کر چکی تھی اور اپوزیشن کے مذاکرات کار بھی ان پر اتفاق کر چکے تھے۔ ریاستی سطح پر اس حوالے سے یکسوئی دکھائی دی گئی کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جبکہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور سیاسی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ۔ مزید یہ کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد احتجاجی مارچ میں تیزی لاتے ہوئے ریاست کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس طرزِعمل سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پی ٹی آئی صوبے میں اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے ایسے سیاسی ایجنڈے پر گامزن ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاق اور متعلقہ اداروں کے بھی اس حوالے سے تحفظات مزید واضح ہو گئے۔
گوکہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے خیبرپختونخوا کے معاملات اور پی ٹی آئی کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی‘ جس میں مثبت پیش رفت بھی ہوئی لیکن چند گھنٹوں بعد پیدا ہونے والے ڈیڈلاک نے حکومت کو یہ پیغام دیا کہ اب مذاکرات کے بجائے عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے آخری وقت تک معاملات کے سیاسی حل کیلئے کوششیں کیں لیکن اس وقت تک حکومت اور ریاستی ادارے ایوانِ صدر میں منعقدہ اجلاس کی روشنی میں عملی اقدامات کیلئے تیار ہو چکے تھے۔ بعدازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس صورتحال میں حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن‘ بالخصوص وہ عناصر زیادہ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیے جو مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے تھے۔ ان میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی قابلِ ذکر ہیں‘ جن کیلئے مذاکراتی عمل کی کامیابی ایک چیلنج بن گئی تھی۔ یوں خیبرپختونخوا کے سیاسی محاذ پر آئینی آپشنز کا استعمال وقت کی ضرورت قرار پایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال صوبے میں دہشت گردی اور سنگین جرائم کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا مگر امن و امان کے ذمہ دار اداروں خصوصاً پولیس کو غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کیلئے درکار وسائل اور سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اب ریاست نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ان کی ٹیم دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ ایک ماہ اہم ہو گا۔ اگر ان اقدامات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں امن و امان بہتر ہوتا‘ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آتی اور صوبے میں استحکام پیدا ہوتا ہے تو صوبائی حکومت کی کارکردگی اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے سوالات مزید نمایاں ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی مشاورتی کونسل میں خیبرپختونخوا کے سیاسی اور انتظامی محاذ پر اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کیا جاتا تاکہ فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جا سکتے اور گورنر راج کے مقاصد جلد حاصل ہوتے۔ بہرحال‘ اب یہ ذمہ داری گورنر اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان اقدامات کو کس طرح نتیجہ خیز بناتے ہیں۔جہاں تک صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے ممکنہ ردِعمل کا تعلق ہے‘ فی الحال خیبرپختونخوا میں کوئی بڑا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ احتجاجی سیاست کو ترجیح دی۔ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے سیاسی محاذ گرم رکھنے پر توجہ مرکوز رکھی‘ لیکن اس حکمت عملی سے نہ تو قیادت کیلئے ریلیف حاصل ہو سکا اور نہ ہی ان کی حکومت برقرار رہ سکی۔
اب سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سیاسی حالات پر اس تبدیلی کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ پی ٹی آئی کیلئے لانگ مارچ کی ساری مشق اپنی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ میں اپنی حکومتیں اور اسمبلیاں ختم کرنے کے واقعات نمایاں رہے ہیں جس سے اس کی سیاسی قوت متاثر ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی موجودہ صورتحال سے کیا سبق سیکھتی ہے اور اپنی سیاسی و تنظیمی قوت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ خیبرپختونخوا کا انتظامی نظم و نسق گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی مشاورتی کونسل کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اس کے نتائج صرف صوبے ہی نہیں بلکہ وفاق کیلئے بھی اہم ہوں گے۔ یہ اقدامات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئے گی‘ انتظامی کارکردگی نمایاں ہو گی اور خصوصاً مغربی سرحد سے دہشت گردی کے سلسلے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments