تہران میں منعقدہ ایران‘ پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے اجلاس میں امن و سلامتی پر تعاون جاری رکھنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحادِ اُمہ کیلئے پاکستان کی کوششیں بارآور رہی ہیں۔ یہ اعلان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کا آغاز ہے اور اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک علاقائی امن و سلامتی اور استحکام کیلئے سرگرم ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کی عملی اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے دنوں میں یہ چار ملکی مذاکرات کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔عالمی و علاقائی میڈیا اس اجلاس کواس کی ٹائمنگ کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے یہ کہتا نظر آ رہا ہے کہ مسلم اُمہ میں باہمی تنازعات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تحریک موجود ہے۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اہم ہے‘ جنہوں نے چند روز قبل تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی قیادت سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اب سعودی عرب کی قیادت کا تہران جا کر باہمی تنازعات اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کرنا بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی مشاورتی اجلاس میں امن اور سلامتی کیلئے تعاون جاری رکھنے اور علاقائی استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم کسی نئے سکیورٹی معاہدے‘ سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگی کیفیت کے خاتمے یا امریکہ اور ایران کے بحران پر مفاہمت کا اعلان نہیں ہوا‘ اس کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ اعتماد سازی کیلئے اہم ہے۔
اس اجلاس کی اہمیت سمجھنے کیلئے علاقائی صورتحال کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے مکہ دفاعی اتحاد کیلئے بڑا چیلنج پیدا کیا ہے کیونکہ اتحاد کی بنیادی شرائط کے مطابق کسی ایک رکن پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ایران نے بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی تھی اور بعد ازاں ثالثی کی پیشکش کی تاہم متعلقہ فریقوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔ خبروں کے مطابق حالیہ دورۂ ایران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی قیادت کو سعودی عرب پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا اور باور کرایا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی خطے میں نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان نے براہِ راست حوثیوں کے خلاف ردِعمل دینے کے بجائے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی۔ پاکستان کی جانب سے ہی مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کو تہران میں بیٹھ کر تنازعات کے حل اور سعودی عرب سے متعلق صورتحال پر غور کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس اجلاس میں ایران کے علاقائی خدشات اور سعودی عرب سے متعلق تشویش کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ اگر تہران ان معاملات پر قابلِ عمل مفاہمت پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو کشیدگی میں کمی کی راہ نکل سکتی ہے کیونکہ ایک جانب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایران کو امریکہ کی طرف سے دوبارہ جنگ مسلط کیے جانے کے خدشات لاحق ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ان چیلنجز کا حل باہمی تعاون سے نکالا جا سکتا ہے‘ جس میں پاکستان مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ایران سے اچھے تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے جبکہ ایرانی قیادت پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہتی رہی ہے۔ تہران اجلاس کی اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ رکن ممالک سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی روک تھام کیلئے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق ہوں‘ جس میں ایران کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ حوثیوں پر ایران کا اثر و رسوخ آج بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایران مثبت کردار ادا کرکے خطے کے دیگر مسلم ممالک خصوصاً مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو میں مستقبل میں ایران کے مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا‘ جس میں انہوں نے مکہ دفاعی اتحاد کو علاقائی امن و سلامتی اور بحرانوں کے حل کا ذریعہ قرار دیا۔
پاکستان کیلئے یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات اور علاقائی امن کے تقاضوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو کشیدگی کم کرنے کیلئے کس حد تک استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔ حوثیوں کی اپنی قیادت‘ سیاسی ترجیحات اور علاقائی عزائم بھی ہیں‘ اس لیے انہیں مکمل طور پر ایران کے تابع قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا‘ اگرچہ ایران ان پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ایران سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں کمی لانے کیلئے سنجیدہ کوشش کرتا ہے تو اس کا کردار مزید اہم ہوجائے گا۔ لہٰذا تہران اجلاس کا اصل امتحان ایران کے بیانات نہیں بلکہ اس کے بعد حوثیوں کے رویے میں آنے والی قابلِ تصدیق تبدیلی ہے۔اس اجلاس کے اثرات سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن‘ مسلم ممالک کے اتحاد اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر سعودی عرب اور ایران مشترکہ راستے پر آگے بڑھنے اور تنازعات کے سیاسی حل پر تیار ہو جاتے ہیں تو پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کیلئے بھی سفارتی گنجائش پیدا ہوگی۔ تاہم موجودہ علاقائی صورتحال اور خطرات کے پیشِ نظر فوری اور نتیجہ خیز کامیابی کی توقع قبل از وقت ہوگی۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب حوثیوں کے حملوں میں کمی‘ ان کے تحفظات کے ازالے‘ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے قابلِ اعتماد یقین دہانیوں اور ایران و سعودی عرب کے درمیان مکالمے کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت ہوگی۔مذکورہ اجلاس کے بعد اگلا اجلاس زیادہ اہم ہو سکتا ہے‘ اور جتنی جلدی اگلا اجلاس ممکن ہو گا اتنی ہی جلدی اس میں بڑا بریک تھرو سامنے آ پائے گا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمِ عرب اور ایران میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ ویسے بھی موجودہ حالات میں کوئی بھی ملک جارحیت اور جنگوں کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی واضح مثال مئی 2025ء کی پاک بھارت ہے‘ جس میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ‘ تو ایران بھی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ اگر تہران اجلاس مثبت نتائج کا باعث بنتا ہے تو یہ اسرائیل کیلئے بھی ایک پیغام ہوگا۔ اجلاس کی ٹائمنگ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل میں عام انتخابات ہو نے والے تھے اورنیتن یاہو کو ان انتخابات میں مشکلات کا سامنا تھا۔ چار اہم مسلم ممالک کی قیادت کا ایک جگہ بیٹھنا اسرائیل کیلئے واضح پیغام ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب علاقائی امن و استحکام کیلئے اہم پیشرفت کرتے اور باہمی غلط فہمیوں کے ازالے کے ساتھ مل کر چلنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی عزائم کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
خطے کے ممالک میں یہ سوچ بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اپنی سلامتی کیلئے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کی جا سکے اور جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس تناظر میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ اہمیت رکھتا ہے جبکہ ایران‘ قطر‘ عمان اور مصر کی اس میں دلچسپی بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اس اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا اظہار بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ باہمی اختلافات کے باوجود مسلم ممالک میں تعاون کی یہ تحریک زور پکڑ رہی ہے اور اس ضمن میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس حوالے سے طے شدہ حکمتِ عملی پر کاربند ہیںجس کی ایک اہم پیش رفت تہران اجلاس کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments