قومی سیاست میں احتجاج کی اپنی اہمیت وحیثیت رہی ہے جس کا بنیادی مقصد حکومتی پالیسیوں یا قومی ایشوز پر اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو نظرثانی اور مسائل کے حل پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں احتجاج نے سیاسی تبدیلی‘ جمہوری حقوق کے تحفظ‘ عوامی مسائل کے حل اور حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی میں اہم کردار ادا کیا۔ احتجاج حکومت کیلئے ایک موقع بھی ہوتا ہے کہ وہ ان اسباب کا جائزہ لے اور مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرے‘ لہٰذا احتجاج ایک جمہوری حق ہے لیکن اسکی کامیابی ہجوم جمع کرنے یا نظام مفلوج کرنے میں نہیں عوامی مطالبات کو قابلِ عمل فیصلوں میں تبدیل کرنے میں ہے۔ صحتمند جمہوریت میں حکومت کو اختلافِ رائے کو برداشت کرنا‘ اپوزیشن کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا اور ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔ احتجاج جب مکالمے اور اصلاح کا راستہ کھولتا ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے‘ لیکن جب یہ مستقل تصادم میں بدل جائے تو اسکے نقصانات ملک و قوم اور معیشت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپوزیشن نے حکومتوں پر دباؤ بڑھانے اور پالیسیوں پر نظرثانی کیلئے احتجاج کو جمہوری حق کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اکثر اسے حکومتیں گرانے یا کمزور کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس طرزِ عمل سے سیاسی جماعتوں کیساتھ جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل گئے‘ اہلِ سیاست کی حالات پر گرفت کمزور ہوئی اور سیاسی جماعتوں اور عوام کے مابین عدم وابستگی کا رجحان بڑھا۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت مضبوط کرنے کے بجائے حکومتوں کو کمزور کرنے کیلئے احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ کا سہارا لیا۔ حکومتیں تو نہ گریں البتہ باہمی تناؤ اور تصادم نے جمہوری نظام اور اہلِ سیاست کی عزت و تکریم کو ضرور متاثر کیا۔ نیز سیاست میں مکالمے کے بجائے ڈیڈلاک کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آج بھی حکومت اور اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کے درمیان یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اسے صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا۔ یہی سلسلہ 2024ء کے انتخابات میں بھی قائم رہا‘ تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں صوبے کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے بجائے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے سرگرم رہیں اور احتجاجی و مزاحمتی سیاست ان کی پہچان بن گئی۔ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے نتیجے میں وفاقی حکومتوں پر دباؤ آیا اور دھرنوں کے باعث حکومتیں کمزور ہوئیں۔ اس پس منظر میں دیگر عوامل بھی تھے‘ تاہم اسی سیاسی عمل نے پی ٹی آئی کو اقتدار تک پہنچنے کا موقع دیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد ملک و قوم کی بہتری اور مل کر کام کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین سے نمٹنے کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ اس وقت کی اپوزیشن نے پی ٹی آئی حکومت سے نجات کیلئے احتجاج کیساتھ دیگر قوتوں کی تائید و حمایت بھی حاصل کر لی نتیجتاً تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم اتحاد اقتدار میں آیا۔ پی ٹی آئی نے اس تبدیلی کو قبول کرنے کے بجائے احتجاج اور مزاحمت کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔ 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے یہ جماعت آج تک نہیں نکل سکی اور نہ ہی اس مقصد کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کی صورت کیونکر پیدا ہوئی اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نتیجہ خیز کیوں نہ ہو سکا یہ معاملات ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ سہیل آفریدی نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سے اپنے لیڈر کی نظروں میں خود کو سرخرو کرنے کیلئے احتجاجی سیاست کو ترجیح دی۔ انکی تیاریوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اسلام آباد میں کوئی غیرمعمولی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ وفاق نے ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کا عزم کر رکھا تھا۔ اس کے اثرات پی ٹی آئی کی سیاست پر بھی مرتب ہوئے۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے بجائے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ وجہ وہی مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جس نے وفاقی حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش میں اپنی صوبائی حکومت کے خاتمے کی ہی راہ ہموار کر دی۔اب کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے گورنر راج کی تیاری بہت پہلے سے کر رکھی تھی۔ اگر ایسا تھا تو حکومت‘ اسکے ذمہ داران اور اتحادی ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر دفاعی انداز کیوں اختیار کرتے نظر آتے ہیں؟
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے جس ردِعمل کی توقع کی جا رہی تھی وہ بھی سامنے نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت جس احتجاجی بخار میں مبتلا رہی‘ وہ اب ٹوٹ چکا ہے۔ اپوزیشن کے کئی رہنما دبے لفظوں میں تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ احتجاجی اور مزاحمتی سیاست نے جماعت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کی آخری سیاسی پناہ گاہ بھی چھن چکی ہے۔ پی ٹی آئی اندرونی بحران سے دوچار ہے۔ سینکڑوں رہنما اور کارکن جیلوں میں ہیں لیکن ان کیلئے مؤثر آواز سنائی نہیں دے رہی۔ بعض رہنما اب احتجاجی سیاست سے نکل کر سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ حکمتِ عملی کامیاب ہو سکے گی یا نہیں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ پارٹی میں حتمی فیصلہ اسیر لیڈر کا ہی ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کی پہچان احتجاج اور مزاحمت سے منسلک کرنے میں بانی پی ٹی آئی کا بنیادی کردار ہے۔ ان کے نزدیک وفاداری احتجاجی سیاست سے وابستگی کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پالیسی پر گامزن سہیل آفریدی اب سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں‘صوبائی حکومت ان کے ہاتھ سے نکل چکی اور ان کے مورچے پر سکتہ طاری ہے۔
پی ٹی آئی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ووٹ بینک بانی پی ٹی آئی سے وابستہ ہے اور انکی ضد کے باعث آگے بڑھنے کا راستہ بنتا نظر نہیں آ رہا۔ مذاکرات اور سیاسی معاملات کیلئے جس شخص کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا وہ نہ مذاکراتی سلسلہ بحال کرا سکا اور نہ ہی کوئی سیاسی راستہ نکال سکا۔ اب خود اپوزیشن کی صفوں سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ حکمتِ عملی کیساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر بھی تبدیل کیا جائے۔ ادھر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ مجھے جس نے اپوزیشن لیڈر بنایا تھا وہی ہٹانے کا اختیار رکھتا ہے۔ گویا وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی کی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کو اپوزیشن قیادت کیلئے منتخب کیا گیا جس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک ایک نشست ہے اور وہ کسی کو جوابدہ بھی نہیں۔ اب فیصلہ پی ٹی آئی کی جیل سے باہر موجود قیادت کو کرنا ہے۔ اسے اپنی جماعت کا سیاسی کردار بحال کرنے اور اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کیلئے راستہ نکالنا ہوگا۔ اسی سے اس کے سیاسی مستقبل کا تعین ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی ہے کہ جو احتجاجی سیاست کبھی پی ٹی آئی کی مضبوطی کا باعث تھی وہی اب اسکی کمزوری بن چکی ہے۔ بڑے ووٹ بینک کے باوجود جماعت کا مؤثر سیاسی کردار دکھائی نہیں دے رہا۔ وہ آج تک نو مئی کے اثرات سے خود کو نکال نہیں پائی۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہدف بنانے کا عمل اس کے پاؤں کی زنجیر بن چکا ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنا جیل سے باہر موجود قیادت کی ذمہ داری ہے۔اسے سمجھنا ہو گا کہ ریاستی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا کا منفی کردار انکے کھاتے میں پڑتا ہے اور یہ اسکی موجودہ مشکلات کی بڑی وجوہ میں شامل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر کب تک جیل سے باہر بیٹھے رہنما اڈیالہ کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ کیا قیادت جیل سے کسی اشارے کی منتظر رہے گی یا پارٹی کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کیلئے خود کوئی قدم اٹھائے گی؟ اس حوالے سے آنے والے چند روز اہم ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments