ملکِ عزیز میں نئے صوبوں کے حوالے سے جاری بحث فیصلہ کن موڑ پر ہے اور مختلف طبقاتِ فکر ملکی مسائل کے حل کیلئے قومی اتفاقِ رائے قائم کرتے ہوئے نئے صوبوں کی جانب بڑھنے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ ایک سنجیدہ مطالبہ ہے‘ اس لیے کہ موجودہ نظام اس طرح ڈیلیور کرتا دکھائی نہیں دے رہا جس کی ضرورت ہے‘ لہٰذا ریاستی نظام کو اس طرح استوار کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت جوابدہ اور مؤثر بن سکے۔پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر جاری بحث محض علاقائی‘ لسانی یا سیاسی گفتگو تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے طرزِ حکمرانی اور ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات کیلئے ایک جامع قومی ایجنڈے کا حصہ بننا چاہیے اور اس کی بنیاد گورننس کو ہونا چاہیے۔ ایک عرصے سے ملک میں گورننس ایک بڑا ایشورہی ہے اور سیاستدان اور خود حکمران بھی اس کی ضرورت و اہمیت کی بات کرتے ہیں‘ لیکن عملاً اسے یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل پر بات نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور عوام کی جانب سے مایوسی اور بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے۔ گورننس کی کمزوری کی دو بنیادی وجوہ ہیں ایک تو وہی صوبوں کا بہت بڑا حجم ‘ اور دوسرا ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام کا نہ ہونا۔ دنیا بھر میں جہاں جمہوریت کامیابی سے چلتی ہے وہاں مقامی حکومتوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے لوگوں کے مسائل حل ہوتے ہیں اور جمہوری نظام کو استحکام ملتا ہے۔
پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ نہ تو یہاں صوبوں کی بروقت تقسیم عمل میں لائی جاسکی‘ نہ نئے صوبے تشکیل دیے جاسکے اور نہ ہی فعال بلدیاتی نظام قائم کیا گیا۔سیاسی جماعتیں چھوٹے صوبوں کی ضرورت و اہمیت کو تو سمجھ نہ سکیں؛ البتہ اپنے منشور میں بلدیاتی نظام کو فعال‘ مؤثر اور مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کرتی رہیں اور برسرِاقتدار آکر بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ بھی دیتی رہیں لیکن جو بھی جماعت برسرِاقتدار آئی اس نے اقتدار کو اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنایا اور جمہوریت و سیاست کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے میں سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔ اپوزیشن میں بلدیاتی انتخابات کا عزم ظاہر کرنے والی جماعتیں بھی اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ترجیحات بدل لیتی ہیں اور اپنے ہی اراکینِ اسمبلی کے دباؤ میں آ جاتی ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ یا الیکشن کمیشن کے دباؤ پر انتخابات کرانے بھی پڑیں تو ان اداروں کو ان کے اصل مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے ان کے اختیارات محدود کر دیے جاتے ہیں اور انہیں افسر شاہی کے ذریعے چلا کر اپنی حاکمیت برقرار رکھی جاتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کا بنیادی مقصد اچھی گورننس کی فراہمی اور عوامی مسائل کا دہلیز پر حل ہوتا ہے لیکن یہ ادارے حکومتوں کے سیاسی مفادات کے تابع ہو کر اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل عملاً قانون ساز اسمبلیوں تک محدود رہتا ہے اور عوام کے بنیادی مسائل کو ترجیح نہیں ملتی۔ 18ویں آئینی ترمیم کو سیاسی جماعتیں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے اہم قرار دیتی ہیں اور کہا جاتا تھا کہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک تقسیم مؤثر گورننس کا ذریعہ بنے گی۔تاہم صوبائی حکومتوں نے وفاق سے وسائل اور اختیارات تو سمیٹ لیے لیکن ان کی تقسیم کا لائحہ عمل نہ بن سکا۔ مالی وسائل اور اختیارات بڑی حد تک صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے وعدوں کی پاسداری کرتیں تو خود بھی عوام میں مضبوط ہوتیں‘ ان کا عوامی نیٹ ورک وسیع ہوتا اور عوامی مسائل کا حل بھی ممکن ہو پاتا۔مگر یہ نہ ہو سکا اور ملک میں اچھی حکمرانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا‘ یہی وجوہات نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مؤثر دلیل بن چکی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں گورننس کی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کا مؤقف جاندار ہے ‘ کیونکہ چار صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز آج کے عوامی ‘ شہری‘ ترقیاتی اور معاشی مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتا۔پارلیمنٹ میں اس پر کھلی گفتگو ہونی چاہیے اورسیاسی جماعتوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے ضلعی حکومتوں یا بلدیاتی نظام کو کیوں فعال اور مؤثر نہیں بنایا اور نئے صوبوں کے حوالے سے کیوں گریز پا ہیں۔پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کرکے واضح کیا ہے کہ وہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کو اپنی سیاست کیلئے خطرہ سمجھتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگرچہ کھلے طور پر نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کر رہی لیکن پنجاب کو اپنا پاور بیس سمجھتے ہوئے یہ بھی پس و پیش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔جبکہ تحریک انصاف جس کے رہنما ماضی میں نئے صوبوں کے قیام کے حامی تھے‘ اب اس معاملے کو سیاسی بارگیننگ کیلئے استعمال کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس میں کچھ حلقے نئے صوبوں کے حامی ہیں تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ کے بعد تحریک انصاف کی رائے میں بھی تبدیلی نظر آتی ہے ۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری اور دیگر ذمہ داران نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے حوالے سے بحث اکتوبر میں ہو گی۔ بلاشبہ نئے صوبوں کا فیصلہ آئینی طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ میں ہی ہونا چاہیے کیونکہ صوبائی حدود کے ازسرِنو تعین کے لیے آئین کے آرٹیکل 1 کے علاوہ آرٹیکل 239(4) کا بھی سامنا ہوگا‘ جس کے تحت صوبے کی حدود میں تبدیلی متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی منظوری سے مشروط ہے۔ یہاں مجوزہ 28ویں ترمیم سے متعلق قیاس آرائیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ بعض ذرائع مذکورہ آرٹیکل میں ترمیم کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں کے اس اختیار کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔
اس وقت سیاسی قوتوں کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ گورننس کے حوالے سے ان کا مقدمہ کیا ہے؟ سیاسی اور انتظامی قوتوں کو بلدیاتی حکومتوں کے قیام پر ضرور پیش رفت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک بنیادی آئینی تقاضا ہے اور اس کا وعدہ انہوں نے 18ویں ترمیم میں کیا تھا کہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے گی۔تاہم سولہ سال سے انہوں نے اختیارات اپنے مراکز تک محدود رکھے اور اب اس ناکامی کے نتائج سے وہ تشویش کا شکار نظر آتی ہیں۔ نظام کی اصلاح کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے ‘تاکہ عوام خود کو شریکِ اقتدار سمجھیں اور ترقیاتی عمل چند شہروں تک محدود رہنے کی بجائے مقامی سطح تک پہنچے‘ سکولوں‘ کالجوں اور ہسپتالوں کی صورتحال بہتر ہو اور کوئی ان کا والی وارث بن سکے۔
مؤثر انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کے قیام کی بنیاد گورننس اور قومی فلاح و بہبود ہونی چاہیے اور اس حوالے سے آئینِ پاکستان پر کاربند ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے نئے صوبے اور بلدیاتی ادارے بنائے جائیں۔ نئے صوبے اور بااختیار بلدیاتی ادارے ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کے تکمیلی ستون ہیں۔ اگر یہ اصلاحات شفافیت‘ میرٹ‘ عوامی مشاورت اور آئینی اصولوں کے مطابق نافذ کی جائیں تو ملک میں انتظامی کارکردگی‘ عوامی اعتماد اور متوازن علاقائی ترقی کو نمایاں فروغ مل سکتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کا قیام خالصتاً آئینی عمل ہے اور آئین کو بائی پاس کرکے نہ تو آگے بڑھا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظام کو چلایا جا سکتا ہے۔ آج ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے‘ ہمیں اپنا ہاؤس اِن آرڈر کرنا ہو گا‘ گورننس کو یقینی بنانا ہو گا اور عوام کو شاملِ اقتدار کرنا ہو گا‘ اور اس کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اہم اور بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments