کشمیر کو جنوبی ایشیا کا نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کہا جاتا ہے کیونکہ اس تنازع کے حل کے بغیر نہ تو پاک بھارت تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی وہ بنیاد ہیں جن کے تحت آگے بڑھا جا سکتا ہے‘ اسی لیے دنیا بھر کے کشمیری خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے عوام ان قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کیلئے سرگرم ہیں اور اس کیلئے اَنگنت قربانیاں دے چکے ہیں۔
عالمی قوانین بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تنازع کے حل کیلئے باہمی مذاکرات پر زور دیتے ہیں مگر بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ کہہ کر کہ پاکستان سے بات چیت صرف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر ہو گی‘ ایک بار پھر روایتی بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ موصوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو ہر خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان اسی انتہا پسندانہ طرزِ عمل کا تسلسل ہے جس کا اظہار بھارتی قیادت مسلسل کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس طرزِ عمل کا جواب پاکستان کی افواج پہلے بھی بھرپور انداز میں دے چکی ہیں اور دنیا کو باور کرا چکی ہیں کہ پاکستان اگرچہ رقبے میں بھارت سے چھوٹا ہے لیکن بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینا جانتا ہے۔ جہاں تک کشمیر پر بھارتی مؤقف کا تعلق ہے تو وہ سراسر حقائق کے منافی اور اشتعال انگیز ہے۔ اس پر دفترِ خارجہ واضح کر چکا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع کے حقائق کو مسخ کرتا بلکہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی بھارتی پالیسی کا عکاس بھی ہے۔
پاکستان کا یہ مؤقف اصولی اور حقیقت پسندانہ ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی قیادت جس نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے متعلق قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر دستخط کیے تھے‘ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے وعدوں سے منحرف ہو گئی اور اب آزاد کشمیر کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا جا سکے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا تقسیمِ ہند کے نامکمل ایجنڈے سے دستبرداری اختیار کی جا سکتی ہے؟ کیا پاکستان اس معاملے پر کسی سمجھوتے کی پوزیشن میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر پر بات چیت کی شرط اس کی داخلی بے چینی کی علامت ہے۔ خصوصاً 10 مئی 2025ء کے بعد سے بھارتی قیادت شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے اور اسے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی فکر لاحق ہے۔ اس کے باوجود ہمیں مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ حکومت اور ریاست ہر اہم بین الاقوامی فورم پر اپنا اصولی مؤقف پیش کر رہی ہیں مگر جب سامنے ایسا حریف ہو جس کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی کسی سے پوشیدہ نہ ہو تو مزید فعال سفارتکاری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور دنیا میں اسکی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں کشمیر کاز کے منصفانہ حل کیلئے مؤثر آواز بلند کی جانی چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران چینی قیادت نے بھی اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہونی چاہیے۔ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے اسلئے اس کا یہ مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔
بھارت اس وقت پریشان ضرور ہے لیکن اپنی شاطرانہ چالوں سے باز نہیں آ رہا۔ مقبوضہ کشمیر کا چپہ چپہ اس کے خلاف مزاحمت کی گواہی دیتا ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی خواہش کم نہیں ہوئی۔ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھی ان کے جذبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور بھارتی افواج طاقت کے ذریعے اس آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر میں خودمختار کشمیر کے نعروں کے پیچھے بھارتی ایجنڈے کی واضح موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ زمین کے حصول کا نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ انہیں تقسیمِ ہند کے فارمولے‘ بھارت کے وعدوں‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور نہ ہی اب ہے۔ لائن آف کنٹرول کبھی بھی بین الاقوامی سرحد نہیں رہی۔ کشمیر ایک عالمی تنازع ہے جس کے فریق پاکستان‘ بھارت اور کشمیری عوام ہیں جبکہ عالمی برادری بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اس مسئلے کا دوطرفہ حل ممکن نہیں‘ مؤثر حل وہی ہوگا جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل مذاکرات ہی سے نکل سکتا ہے لیکن بھارت اسی لیے مذاکرات سے گریز کرتا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے پر مضبوط سیاسی جواز موجود نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی ہر حکومت نے بھارت سے بنیادی تنازعات حل کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی مگر بھارتی حکومت خصوصاً نریندر مودی کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان عملاً تعطل برقرار ہے۔ پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی تجویز بھی پیش کی لیکن بھارت اس پر بھی آمادہ نہ ہوا۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ ضد اور طاقت کے ذریعے کشمیر پر اپنا تسلط ہمیشہ برقرار رکھ سکے گا تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ کشمیر صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ سوا کروڑ سے زائد کشمیریوں کی آزادی اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہیں ہمیشہ غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔
پاکستان اس مسئلے کا صرف ایک بنیادی فریق ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کا وکیل بھی ہے۔ کشمیری عوام کی پاکستان سے وابستگی کسی سے پوشیدہ نہیں‘ اس لیے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ان کا مقدمہ دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرے اور عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے۔ اس مقصد کیلئے پاکستانی سفارت خانوں کو مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے مکروہ کردار کو مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے کشمیری عوام خصوصاً نئی نسل‘ مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان کو اپنی کشمیر پالیسی کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ بنانا چاہیے۔ بھارت جب مذاکرات کو آزاد کشمیر سے مشروط کرتا ہے تو اس کے مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ دنیا کو یہ بھی یاد دلانا چاہیے کہ اگر سوڈان‘ مشرقی تیمور اور اریٹیریا کے عوام کو حقِ خودارادیت دیا جا سکتا ہے تو کشمیری اس حق سے کیوں محروم رہیں۔ کشمیر کو کسی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ آج پاکستان کی سفارتی تنہائی بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے اور اہم عالمی طاقتیں مختلف علاقائی تنازعات میں اس کے کردار کو تسلیم کر رہی ہیں۔ اگر پاکستان دیگر بین الاقوامی معاملات میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے تو کشمیر تو اس کا اپنا مسئلہ ہے جو تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا بھی ہے۔ پاکستان کے پاس اس معاملے پر مضبوط قانونی‘ اخلاقی اور سیاسی مقدمہ موجود ہے جسے بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سلگتا ہوا کشمیر بھارت کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ کشمیریوں کی آزادی اس کیلئے دور رس نتائج کی حامل ہو گی‘ اسی لیے وہ ہر ممکن طریقے سے اس مسئلے کو دبائے رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن بھارت کی خواہشات سے قطع نظر پاکستان کو کشمیر جیسے بنیادی اور عالمی مسئلے پر مؤثر‘ مسلسل اور نتیجہ خیز سفارتی پیش رفت جاری رکھنی چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments