"SUC" (space) message & send to 7575

صوبے۔ من صوبے …(2)

جیسے جیسے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بحث آگے بڑھ رہی ہے‘ اس میں تندی اور تیزی آتی جا رہی ہے اور سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں تند وتیز تقریریں کر کے‘ سندھ تقسیم نہ ہونے دینے کی قرارداد منظور کرکے اور قومی اسمبلی کو تنبیہ کرکے ایک واضح مؤقف دیا ہے جو پہلے بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ زرداری صاحب حسبِ روایت‘ بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گئے ہیں‘ ان کے قائم مقام کے طور پر یوسف رضا گیلانی موجود ہیں۔ لندن میں پیغامات جا رہے اور وہاں سے جواب آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے کئی مواقع پر جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کی ہے لیکن سندھ کے معاملے میں اس کا مؤقف اور ہے۔ پس پردہ ہوتے ہوئے بھی کچھ پس پردہ نہیں ہے۔ میڈیا پر اکثر نامور صحافی اندر کی خبروں کا دعویٰ کرتے ہوئے مستقبل بینی کر رہے ہیں۔ محسن نقوی صاحب نے لندن سے واپسی کے بعد لاہور میں ایک مذاکرے میں گفتگو کی ہے۔ یہ نظام کی ناکامی کی اطلاع کے بعد ان کی پہلی عوامی گفتگو ہے۔ کہتے ہیں کہ میری نوکری رہے نہ رہے لیکن نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔ آپ کی اور میری رائے کی کوئی حیثیت نہیں‘ عوام کی رائے کی حیثیت ہے۔ عوام کی رائے؟ یعنی ریفرنڈم؟ انہوں نے کہا کہ شمالی پنجاب‘ جنوبی سندھ وغیرہ کہہ لینے سے صوبوں کی شناخت کیسے ختم ہو جائے گی؟ شناخت تو ختم کرنی ہی نہیں۔ انہوں نے یہ معقول بات کہی کہ قومی اتفاقِ رائے سے فیصلے ہونے چاہئیں۔
(ن) لیگ کے مؤقف کی طرف آتے ہیں۔ بظاہر ان کا انداز یہ لگتا ہے کہ ابھی کوئی بیانیہ جاری نہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی اور مقتدرہ کو آمنے سامنے آنے دیا جائے‘ خواہ مخواہ ہم کیوں دھکے مکے کھائیں۔ دیکھتے جائیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔ جب واضح مؤقف اپنانے کا مرحلہ آئے گا اس وقت دیکھا جائے گا۔ لیکن اکا دکا وزیر اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے 12 سے 15 نئے صوبوں یا تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی اور اس کی کارکردگی پر ٹاک شو میں کڑی تنقید کی ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے اب تک اس معاملے پر لب کشائی نہیں کی۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے نئے صوبوں کا سوال کافی پیچیدہ ہے‘ خصوصاً پنجاب کے حوالے سے۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے مختلف ادوار میں حمایت یا قراردادوں کا راستہ اختیار کیا لیکن عملی سطح پر یہ مسئلہ کبھی مکمل حل تک نہیں پہنچ سکا۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی منظم حمایت کرتی ہے تو اسے پنجاب کے دور دراز علاقوں میں اپنی سیاسی ساکھ بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ خصوصاً جنوبی پنجاب میں یہ اقدام طویل عرصے سے موجود احساسِ محرومی کو کم کر سکتا ہے۔ لیکن نقصان بھی بڑا ہے! پنجاب مسلم لیگ (ن) کا سب سے مضبوط سیاسی قلعہ ہے۔ پنجاب کے اندر نئے یونٹس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے وزرائے اعلیٰ‘ گورنر‘ صوبائی اسمبلیاں‘ بیورو کریسی اور نئے سیاسی مراکز وجود میں آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑے صوبے پر قائم سیاسی اثر ورسوخ متعدد مراکز میں تقسیم ہو جائے گا۔ شریف خاندان پنجاب پر طویل عرصے سے حاکم رہا ہے۔ یہ طاقت نئے صوبوں کی صورت میں بہت کم رہ جائے گی۔ ہزارہ کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دینے کی آوازیں بھی اٹھتی رہی ہیں۔ اگر نئے صوبے بنے تو (ن) لیگ کا ایک اور مضبوط علاقہ ہاتھ سے جا سکتا ہے۔ نئے صوبوں کی صورت میں مقامی طاقتور سیاسی افراد (ن) لیگ کی مرکزیت سے باہر جا سکتے ہیں۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ سوال صرف انتظامی اصلاح کا نہیں بلکہ اپنی تاریخی سیاسی طاقت کی ازسرنو تقسیم کا بھی ہے۔ اگرچہ بحیثیت سیاسی جماعت (ن) لیگ کو سیاسی نقصان ہو سکتا ہے لیکن اس اکھاڑ پچھاڑ میں یہ بھی ممکن ہے کہ (ن) لیگ سندھ‘ کے پی اور بلوچستان میں کچھ طاقت حاصل کر لے؛ چنانچہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو ہی اس وقت ان کا اصل مؤقف ہے۔ لہٰذا مسلم لیگ مقتدرہ اور اس کی مخالف اور حامی جماعتوں سے الگ کھڑی نظر آتی ہے۔ نہ وہ ایم کیو ایم کی طرح کھل کر نئے صوبوں کی حمایت کر رہی ہے نہ پیپلز پارٹی کی طرح مخالفانہ بیانات دے رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بحث نہیں کی۔ وجہ یہی ہے کہ ابھی چپ رہنے کا حکم ہے۔ جب بولنے کا اشارہ ہو گا سب بول پڑیں گے۔
ایم کیو ایم کو احساس ہے کہ سندھ کے شہری حلقے پیپلز پارٹی سے نالاں ہیں‘ خاص طور پر کراچی۔ یہی اس کا ووٹ بینک ہے؛ چنانچہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ان کی طرف سے کراچی کو الگ صوبے کی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ان کی طرف سے اُس قرارداد کی مخالفت کی گئی جو حال ہی میں منظور ہوئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال‘ دونوں کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ کسی صوبے کی جغرافیائی حدود بدلنا مقصد نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اصل معاملہ ہے جو موجودہ نظام میں ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ مطالبہ عوامی حلقوں کی حمایت حاصل نہ کرتا اگر سندھ میں پیپلز پارٹی کی متواتر 18 سالہ حکومتی کارکردگی بہتر ہوتی۔ پیپلز پارٹی کے پاس کسی بھی شعبے میں اپنی کارکردگی دکھانے کی کوئی چیز نہیں ہے؛ چنانچہ کارکردگی کی عدم موجودگی میں اس کے پاس وہی کارڈ رہ جاتا ہے جو وہ اب تک کھیل رہے ہیں۔ بہرحال ایم کیو ایم کو ایک طرف شہری عوام کی حمایت مل سکتی ہے‘ دوسری طرف وہ فیصلہ سازوں کے مؤقف کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
جماعت اسلامی بھی محتاط بیانات دے رہی ہے۔ جناب نعیم الرحمن نے سوالات کے جواب میں یہی کہا کہ آئین کے مطابق عمل ہونا چاہیے اور نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہونے ضروری ہیں۔ انہوں نے صوبوں کے بننے یا نہ بننے کے معاملے پر کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ بظاہر ان کے ہاں ابھی کسی مؤقف پر اتفاق نہیں ہو سکا‘ یا وہ بھی (ن) لیگ کی طرح کنارے پر کھڑے ہوکر دنگل دیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب میدان میں اترنا پڑے گا تب دیکھیں گے۔ سندھ میں نئے صوبے بننے کا فائدہ انہیں یقینا پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان کا یہی مؤقف رہا ہے کہ سندھ کی حکومت اور میئرشپ انہیں دی گئی جنہیں ووٹ پڑا ہی نہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کو صرف سندھ ہی نہیں پورے ملک میں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہوگا اس لیے وہ ابھی واضح پوزیشن لینے سے گریزاں ہے۔
پی ٹی آئی نے بھی ابھی تک کوئی واضح پوزیشن نہیں لی۔ اس کے منشور میں نئے صوبوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مرکزیت کم کرنے سے جوڑا گیا ہے اور تحریک انصاف کیلئے پنجاب اور خیبر پختونخوا‘ دونوں جگہ سیاسی امکانات موجود ہیں کہ طاقتور سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری صوبوں میں کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ پی ٹی آئی ہزارہ صوبے کی حمایت بھی کرتی آئی ہے۔ اس سے انہیں کچھ فائدے ملنے کا امکان ہے‘ لیکن وہ چاہے گی کہ اپنی حمایت کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے مشروط کرے۔ اگر انہیں صوبہ سازی محض سیاسی انجینئرنگ کا ایک نیا حربہ محسوس ہوئی تو وہ اسے اپنے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی بھی قرار دے سکتی ہے۔مگراصل مسئلہ یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں اب تک کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ کتنے یونٹس بنیں گے‘ سربراہ کیا کہلائے گا‘ اختیارات کیا ہوں گے‘ وغیرہ۔ جب تک یہ معاملات واضح نہ ہوں‘ اندھیرے میں بحث چلتی رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...