"SUC" (space) message & send to 7575

صوبے۔ من صوبے … (3)

نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے کی بحث میں سب سے بڑا مسئلہ بداعتمادی کا ہے۔ عملی مسائل بھی ہیں لیکن بداعتمادی سے کم۔ سیاسی جماعتوں میں وہ جماعتیں جو ملک گیر ہیں اور ان کی سیاست بھی ملکی سطح کی ہے‘ اس وقت اس تجویز کو شبہات کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ صرف دیکھ ہی نہیں رہیں‘ ان میں مولانا فضل الرحمن تو کھل کر مخالفت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ آج کل جلسوں‘ پریس کانفرنسوں اور نجی محفلوں میں وہ بہت سے شبہات بیان کر رہے ہیں۔ جو سیاسی جماعتیں بات نہیں کر رہیں یا مصلحت کے تحت خاموش ہیں‘ وہ بھی دراصل شبہات کا شکار ہیں۔ اگر نئے صوبے بننے ہیں تو فیصلہ سازوں کیلئے بہتر راستہ یہ ہو گا کہ وہ کھل کر ان شبہات پر بات کریں اور یہ بداعتمادی کی فضا ختم کریں۔ یہ شبہات کیا ہیں؟ پہلا تو یہ کہ اچانک اس وقت نئے صوبوں کی تجویز دی جا رہی ہے‘ حالانکہ پہلے چار صوبوں کو ایوب خان کے دور میں ون یونٹ بنایا گیا اور بعد میں یحییٰ خان کے زمانے میں ون یونٹ توڑ کر چار صوبے بحال کر دیے گئے۔ اس وقت بھی یہ فیصلے سیاسی نہیں تھے اور اب بھی سیاسی نہیں ہیں۔ ایسے فیصلے عموماً منفی نتائج لے کر آتے ہیں۔ دوسرا‘ کیا اس نئے انتظام سے سیاسی جماعتوں کو کمزور کر کے نظام پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنانا مقصود ہے؟ اس نئے انتظام میں صوبے کمزور ہوں گے اور انہیں کنٹرول کرنا آسان رہے گا۔ نیز جو معدنی وسائل اس وقت صوبوں کے اختیار میں ہیں‘ ان کے بارے میں مرکز کے فیصلے زیادہ اثر انداز ہوا کریں گے۔ ایک شبہ یہ ہے کہ اس وقت مطلوبہ قانون سازی کیلئے بڑی جماعتوں کی مدد لازمی ہے‘ جب جماعتیں غیر مؤثر ہو جائیں گی تو اپنی مرضی کی قانون سازی آسان ہو جائے گی۔یہ شبہات اور ان کے علاوہ بھی کئی دیگر اس وقت میڈیا میں روز بیان ہو رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارا معاملہ نیت کا ہے کہ یہ تجویز کس نیت سے دی جا رہی ہے۔ محسن نقوی صاحب واضح کر چکے ہیں کہ نئے یونٹس بن کر رہیں گے۔ اس کے ساتھ دو باتیں انہوں نے مزید کہی ہیں۔ ایک تو قومی اتفاق رائے کی‘ دوسری صوبائی شناخت نہ چھینے جانے کی۔ اگر یہ دونوں باتیں فیصلہ سازوں کی منشا ہیں تو پھر یہ بے اعتمادی ختم ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر انہیں اس تجویز کے قومی فائدوں کا یقین دلانا ضروری ہے۔ یہ اشد ضروری ہے کہ بڑی جماعتوں کو یہ اعتماد ہو کہ یہ نظام کسی ادارے کو مضبوط کرنے اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کیلئے نہیں لایاجا رہا بلکہ یہ قومی مفاد میں ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں یہ یقین پیدا نہیں ہو گا یہ مرحلہ دشوار تر ہوتاجائے گا۔ بہتر ہوگا کہ ایوانوں کے اندر اور باہر‘ یہ اعتماد پیدا کیا جائے۔ کُل جماعتی کانفرنس بلائی جا سکتی ہے اور فرداً فرداً ملاقاتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ قومی اتفاق رائے کے بغیر‘ جس کا وزیر داخلہ ذکر کر رہے ہیں‘ کوئی بھی من چاہا فیصلہ خواہ وہ درست نیت ہی سے کیوں نہ ہو‘ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔
گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ بہت سی سیاسی جماعتوں کو اس میں فائدے بھی نظر آئیں گے اور وہ ضرور چاہیں گی کہ نظام کی تبدیلی کے ساتھ ان کی طاقت بڑھے۔ یہ بات انہیں باور کرانے کی ضرورت ہے۔ عرض کیا تھا کہ اصلاً یہ تجویز انصاری کمیشن کی طرف سے آئی تھی اور وہ سب محب وطن اور سیاسی و غیر سیاسی‘ ہر شعبے کے لوگ تھے۔ اس لیے فی نفسہٖ یہ تجویز ہر لحاظ سے بہتر ہے بشرطیکہ ٹھیک نیت اور ٹھیک طریقے سے عمل کیا جائے۔ نظام کی تبدیلی سے ملک کو آگے لے جانا مقصود ہو‘ مقصدعام آدمی کا فائدہ ہو۔ وہ عام آدمی جو ڈیرہ غازی خان کے دور دراز علاقے سے ہر مسئلے کے لیے لاہور کی طرف دیکھنے اور یہاں آنے پر مجبور ہے۔ یہی معاملہ دیگر صوبوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مسائل چھوٹے یونٹس بننے سے خود بخود مقامی سطح پر ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
یہ ایک بڑا سوال ہے کہ اگر ملکی حالات دیکھیں‘ سیاسی انتشار دیکھیں‘ حکومتی بندوبست دیکھیں تو اس وقت نئے صوبوں کی بحث کا کیا جواز ہے۔ تاہم ملک کا نازک دور تو بہت مدت سے چلا آ رہا ہے اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ معاشی بے حالی اور قرض پر قرض اٹھا کر نظام چلانے کے انتظام کی سکت بھی اب جواب دے رہی ہے۔ یہ سب تو کافی مدت سے ہے۔ اس وقت دو صوبے باقاعدہ آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ گھر میں آگ لگی ہو تو کمروں کی نئی ترتیب اور تعمیر کے بارے میں کون بحث کرتا ہے؟ ترجیحی کام تو گھر بچانا ہے۔ لیکن انہی حالات میں اور اسی انتشار میں یہ بحث چھڑ گئی ہے اور سیاسی حلقوں میں باقی معاملات کو بھلا کر اس مسئلے پر مباحثے ہو رہے ہیں۔ فیصلہ ساز اگر نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کیے بیٹھے ہیں تو اسی وقت کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس کی وجوہات بھی سمجھ آتی ہیں۔ مقتدرہ اس وقت عالمی صورتحال میں خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتی ہے‘ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ کئی سیاسی جماعتوں کے منشور میں نئے صوبے بنانا شامل ہے اور ملک کا ایک بڑا طبقہ ان کے حق میں آواز بلند کرتا ہے‘ اس لیے ان کی طرف سے نئے یونٹس کیلئے حمایت کی جا سکتی ہے۔ اس وقت آئین کی رو سے لازمی ہے کہ صوبائی اسمبلیاں دو تہائی اکثریت سے نئے صوبوں کے حق میں قرارداد منظور کریں۔ اس کیلئے آئین میں ترمیم ہو سکتی ہے‘ اگرچہ یہ آسان نہیں ہوگا۔
جو سوالات اور شبہات اوپر ذکر کیے گئے‘ ان کے جوابات بھی موجود ہیں۔ ہم یہ کیوں فرض کریں کہ یہ تجویز نیک نیتی سے نہیں دی جا رہی؟ اگر پہلے کچھ غلط فیصلے ہوئے یا چھوٹے صوبوں کی تجویز پر عمل نہیں ہو سکا تو کیا یہ معاملہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے؟ اب جبکہ نظام کی خرابیاں اور مسائل ہمارے سامنے روز بروز واضح ہو کر آ رہے ہیں‘ کیا اس نظام کو ہمیشہ کیلئے چلتا رہنے دیا جائے جس میں طاقت کچھ طبقات‘ جماعتوں اور گروہوں تک محدود ہے؟ اگر اس وقت عالمی حالات سازگار ہیں تو فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟ نیز اگر دیگر ملکوں مثلاً بھارت میں نئے صوبے بنانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تو ہمارے یہاں فرضی خوف کیوں پالے جا رہے ہیں؟
نئے یونٹس بننے کا ایک اثر یہ ہو گا کہ سیاسی طاقت منقسم ہو جائے گی۔ طاقت کے مراکز چھوٹے ہو جانے سے انہیں سنبھالنا آسان رہے گا۔ نئے صوبوں کے میئر ہوں یا وزرائے اعلیٰ‘ ان کے اختیار کا دائرہ چھوٹا ہی رہے گا۔ مرکز کے مقابلے میں ان کی حیثیت کم رہے گی۔ موجودہ وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے بہت کم۔ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے کسی صوبے کی اتنی طاقت ہو گی ہی نہیں کہ وہ مرکز سے محاذ آرائی کر سکے۔ آپ چاروں صوبوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ ہر صوبے کی کسی نہ کسی دور میں مرکز سے محاذ آرائیاں رہی ہیں۔ اُس وقت اگر چھوٹا یونٹ ہوتا تو کیا اس محاذ آرائی کی نوبت آتی؟ پنجاب کی مثال پر باقی صوبوں کو قیاس کرلیں۔ پنجاب اس وقت لگ بھگ 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ فرض کیجیے کہ اس کے چار یونٹس؛ وسطی پنجاب‘ جنوبی پنجاب‘ بہاولپور اور پوٹھوہار بنا دیے جاتے ہیں‘ تو اوسطاً تین کروڑ کی آبادی کا ایک یونٹ بنے گا اور رقبہ بھی کم ہو جائے گا۔ اس لیے اتفاق رائے‘ صوبائی شناخت اور آئین کی پاسداری کے ساتھ نئے صوبے بنیں تو ملک کیلئے یقینا بہتر ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...