"KNC" (space) message & send to 7575

جماعت اسلامی کا فیصلہ

جماعت اسلامی کی قیادت نے کیا درست فیصلہ کیا؟ کیا وہ حکومت کی بی ٹیم بن گئی؟
جماعت اسلامی اس لیے سڑکوں پر نکلی کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کیلئے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس نے عوامی تشویش کو حکومت تک پہنچانے کیلئے ابلاغ کے میسر ذرائع استعمال کیے۔ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد اس کی قیادت نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی منزلِ مراد اسلام آباد تھی جہاں دھرنا دیا جانا تھا۔ مقصود نظامِ حکومت کو مفلوج کر کے‘ اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ حکومت گرانا اس دھرنے کا مقصد نہیں تھا۔ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی سے پہلے‘ جماعت اسلامی نے بڑے شہروں میں دھرنے دیے۔ دھرنے میں کتنے لوگ شریک ہوئے اس سے قطع نظر‘ جماعت کے کارکنوں نے سڑکوں کو بند رکھا۔ جب بات نہیں بنی تو امیرِ جماعت اسلامی نے کراچی سے ریل گاڑی کے ذریعے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
اس تمام عرصے میں حکومت نے کہیں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ جماعت کو پورا موقع ملا کہ وہ میڈیا پر اپنا نقطہ نظر بیان کرے۔ اس دوران میں حکومتی وفد منصورہ گیا۔ ایک مذاکراتی عمل پر اتفاق ہوا۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ جب جماعت کی قیادت نے محسوس کیا کہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو رہے تو اس نے اسلام آباد کی طرف رخ کر لیا۔ حکومت نے اس دوران میں رابطہ استوار رکھا۔ ایک مرحلے پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور جماعت اسلامی کے امیر سے اس یقین دہانی کے ساتھ دھرنا ملتوی کرنے کی درخواست کی کہ وہ امریکہ سے واپسی پر‘ خود جماعت سے فیصلہ کن مذاکرات کریں گے اور ان کے مطالبے کو سنجیدہ لیا جائے گا۔
جماعت کے پاس اب دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ وزیراعظم کی درخواست کو قبول کر لے۔ اس میں یہ امکان پوشیدہ ہے کہ معاملہ کسی تصادم کے بغیر حل ہو سکتا ہے۔ حکومت نے اب تک جماعت کے حقِ احتجاج کا احترام کیا ہے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی۔ یہی نہیں‘ مذاکرات کا آغاز کیا اور حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت نے خود رابطہ کر کے‘ سنجیدہ مذاکرات کا عندیہ دیا۔ اب اگر حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف رخ کر سکتی ہے۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک‘ دھرنے پر اصرار کرتی اور اسلام آباد کی طرف سفر جاری رکھتی۔ حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر جماعت کے کارکن اسلام آباد آتے تو تصادم ناگزیر تھا۔ جماعت اسلامی کے پاس اتنی افرادی قوت نہیں کہ وہ تادیر شہر کو بند رکھ سکتی مگر تصادم سے بچنا مشکل ہوتا کہ جماعت کے کارکن نظریاتی ہیں اور وہ اس سیاست کو بھی جہاد فی سبیل اللہ سمجھتے ہیں۔ یوں پٹرول کی قیمت اپنی جگہ رہتی اور اس کے ساتھ کئی المناک کہانیاں ہماری یادداشت کا حصہ بن جاتیں۔ ملک فساد کی نذر ہو جاتا۔ برباد معیشت مزید برباد ہو جاتی۔ دھرنا حکومت کے بجائے عوام کی کمر توڑ دیتا۔
اخلاق‘ قانون اور عقل تینوں کا تقاضا ایک ہی تھا: جماعت کی قیادت پہلے راستے کا انتخاب کرے۔ اس نے یہی کیا۔ کارکنوں کے جان و مال کی حفاظت قیادت کی ذمہ داری ہے۔ وہ قیادت بصیرت سے عاری ہے جو اپنے سیاسی مفاد کیلئے عام آدمی کی ز ندگی کو خطرات میں ڈالتی ہے۔ جو اپنے کارکنوں کو ریاست کے مدمقابل لا کھڑا کرتی ہے۔ جماعت کی قیادت کا مفاد اگرچہ ذاتی نہیں مگر اس کے باوجود‘ کارکنوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا بھی مناسب نہ ہوتا۔ ریاست کے غلط اقدام کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا اور اس سے متصادم ہونا‘ دو مختلف باتیں ہیں۔ مولانا مودودی کی زندگی میں جماعت اسلامی کی حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ اس نے مارشل لاء کو ایک ناجائز حکومت کہا مگر اس کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ اپنا مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کیا اور قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیا۔ مجھے خوشی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی اس روایت کو برقرار رکھا اور اپنے کارکنوں کو ریاست کے ساتھ ایک بے نتیجہ تصادم کے حوالے نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ طنز و استہزا کو خاطر میں لائے نہ سطحی تنقید کو۔ اُس کے فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت تصادم نہیں چاہتی۔ اگر معاملہ پُرامن طریقے سے حل ہوتا ہے تو یہ اس کی ترجیح ہے۔ اب ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے اور جماعت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے۔ ایسے مذاکرات جن کے نتیجے میں عوام کو خوش خبری ملے۔
میرا تجزیہ ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ بھی یہ معاملہ کیا جا سکتا ہے‘ اگر اس کی قیادت چاہے۔ اس راہ میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف پہلے دن سے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ اس نے حکومت کے بجائے کسی اور کو اپنا حریف سمجھا اور عمران خان صاحب بضد رہے کہ وہ ان ہی سے بات کریں گے۔ وہ جیل میں گئے تو اسی سوچ کے حاملین کو پارٹی قیادت سونپ گئے۔ سیاسی سفر میں‘ ہمسفری کیلئے ان کا انتخاب جارحانہ مزاج کے لوگ رہے ہیں۔ سیاسی حکومت نے اس رویے کے باوجود‘ ہمیشہ مذاکرات کی پیشکش کی۔ پی ٹی آئی میں سیاسی مزاج رکھنے والوں نے جب اس سمت میں پیش رفت کی‘ تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے جیل میں جو پہلے دو سال گزارے‘ انہیں تمام سہولتیں میسر رہیں۔ بعد میں بھی ملاقاتوں کا دروازہ کھلا۔ ان کی صحت بھی بالکل ٹھیک ہے۔ اس سارے عرصے میں مگر ریاستی اداروں کے خلاف ایسی نفرت انگیز مہم چلائی گئی کہ اُن کے ساتھ مذاکرات کا امکان بھی ختم ہو گیا‘ جن سے وہ بات کرنا چاہتے تھے۔ ان دورکاوٹوں کو دور کرنا تحریک انصاف کا کام ہے۔ جس دن عمران خان صاحب اور ان کی جماعت نے سیاسی حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ان کیلئے حالات سازگار ہو جائیں گے۔ وہ خود کو زور سے منوانا چاہتے ہیں۔ اگر مقابلہ سیاست کے بجائے زور سے ہوگا تو وہی جیتے گا جو زیادہ زور آور ہو گا۔ جب تک پی ٹی آئی کی قیادت یہ بات نہیں سمجھے گی‘ اس کی مشکلات کم نہیں ہو سکتیں۔
میرے نزدیک انسانی جان سے بڑھ کر کوئی شے قیمتی نہیں۔ اس کو صرف اللہ کی راہ میں قربان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اقتدار کی کشمکش میں انسانی جانوں کو خطرات میں ڈالتے ہیں ان کا اخلاص مشکوک ہے یا ان کی بصیرت۔ یہ شہباز شریف ہوں یا عمران خان‘ ان کو وزیراعظم بنوانا جہاد فی سبیل اللہ ہے نہ اس منصب سے اتارنا اللہ کا حکم ہے۔ یہ سیاسی معاملہ ہے جس میں اختلاف ممکن ہے۔ اس کیلئے آواز اٹھانا بھی کوئی جرم نہیں لیکن اس میں اس حدتک چلے جانا کہ لوگوں کو مروانے پر بھی تیار ہو جائیں‘ بے حسی ہے۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے درست فیصلہ کیا ہے۔ میرا مشورہ ہو گا کہ اگر مطلوبہ نتائج نہ نکلیں تو وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں مگر ریاست کے ساتھ تصادم سے گریز کریں۔ اگر وہ یہ سب اللہ کیلئے کر رہے ہیں تو اُس نے انہیں جدوجہد کا مکلف بنایا ہے‘ نتیجے کا نہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ ریاست اور سیاسی جماعتیں‘سب اس حرمت کو پامال نہ کریں۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تصادم ناگزیر ہو جائے۔ میرے نزدیک تصادم کبھی ناگزیر نہیں ہوتا۔ فرض کیجیے کبھی ایسا وقت آ بھی جائے اہلِ عزیمت تصادم پر مظلومانہ شہادت کو ترجیح دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...