اپریل 1964ء کی ایک دوپہر ایچیسن کالج کے سینئر سکول کے ہیڈ ماسٹر Mr. Dykes فیروز سنز میں کالج لائبریری کے لیے کتابیں خریدنے آئے اور جب ایک گھنٹے بعد وہ کالج واپس گئے تو اُن کی کار میں کتابوں کے علاوہ ہائر سیکنڈری کلاسز کو سیاسیات اور معاشیات پڑھانے والا ایک نیا استاد بھی تھا‘ جسے ایک گھنٹہ قبل وہ کتابوں کی دکان میں اتفاقاً ملے تھے۔ یہ نیا استاد یہ کالم نگار تھا۔ کالج پہنچ کر مجھے جو پہلا استاد ملا اُن کا نام Major Geoffrey Langlands تھا۔ ہیڈ ماسٹر نے میرا ان سے تعارف کرایا اور انہوں نے مجھے سٹاف روم لے جا کر سارے اساتذہ سے میرا تعارف کرایا۔ تمام اساتذہ جن میں انگریز بھی تھے‘ بڑی خوشدلی اور خیر سگالی سے ملے۔ وہیں صادق چیمہ سے بھی ملاقات ہوئی‘ جو بعد میں محکمہ زراعت کے سیکرٹری بنائے گئے۔ میجر جیفری ڈگلس لینگ لینڈز‘ جنہیں عام طور پر 'دی میجر‘ کہا جاتا تھا‘ برطانوی فوج کے سابق افسر تھے اور پاکستان میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ بہت جلد مجھے پتا چل گیا کہ انگریز میجر پاکستان میں مستقل آباد ہیں اور یہاں سے چلے جانے کا خیال بھی انہیں کبھی نہیں آیا۔ میجر 101 سال کی عمر میں اپنی وفات‘ 2 جنوری 2019ء تک پاکستان میں مقیم رہے۔ وہ 21 اکتوبر 1917ء کو کنگسٹن ہل برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ کنگسٹن کالج میں تعلیم حاصل کی اور جغرافیہ کے مضمون میں خصوصی دلچسپی لی۔ 18 برس کی عمر میں‘ 1939ء میں برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور 1953ء میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے تو ایچیسن کالج میں پڑھانے لگے‘ جس کے وہ آگے چل کر پرنسپل بھی بنے۔ ایچیسن کالج سے ریٹائر ہو کر رزمک میں کیڈٹ کالج کے پرنسپل بنے اور وہاں سے ریٹائر ہو کر چترال میں اپنے نام پر بنائے گئے تعلیمی ادارے‘ لینگ لینڈز سکول کے بانی اور سربراہ بنے۔
مشتاق لاشاری لندن میں سماجی تقریبات اور لیبر پارٹی کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں کے اہتمام میں بے مثال مہارت رکھتے ہیں۔ میجر جیفری کی عمر جب سو سال ہوئی تو ان کی سالگرہ کو دھوم دھام سے منانے کا خیال پاکستان میں اُن کے ہزاروں شاگردوں میں سے ایک کو بھی نہ آیا مگر داد دیں لاشاری صاحب کی عقابی نظر کو‘ جس نے چھ ہزارمیل دور ایک ضعیف انگریز استاد کی سوویں سالگرہ اور پاکستان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے لاہور میں ایک زبردست تقریب کا اہتمام کیا۔ مہمانوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ استاد راحت فتح علی خان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور سب مہمانوں کو کھانا بھی کھلایا گیا۔ مگر اُس شام اہمیت نہ موسیقی کی تھی اور نہ کھانے کی۔ اس شام میجر لینگ لینڈز کے تقریباً پانچ سو سابق طلبہ‘ دوست اور مداح اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ جو چند لوگ برطانیہ سے طویل سفر کر کے اس تقریب میں شرکت کے لیے لاہور آئے اُن میں یہ مضمون نگار بھی شامل تھا۔ میجر نے آٹھ برس برطانوی فوج اور تقریباً چھ برس پاک فوج میں خدمات انجام دیں مگر پاکستان میں یکے بعد دیگرے تین تعلیمی اداروں میں‘ 99 برس کی عمر تک کُل 46 سال تک پڑھایا۔ انہوں نے اپنے طالب علموں میں گھڑ سواری‘ تیراکی‘ پولو اور کوہ پیمائی کے شوق بھی جگائے اور انہیں پروان چڑھایا۔ بقول غالب:
وفاداری بشرطِ اُستواری اصل ایمان ہے
میجر نے پاکستان سے وفاداری اور تقریباً نصف صدی پر پھیلی ہوئی اُستواری سے اپنا نام ہماری ملکی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھوایا۔ حکومت پاکستان نے اُن کی بے مثال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز کے اعزازت دیے۔ میجر کی عمر صرف ایک سال تھی جب اُن کے والد 'سپینش فلُو‘ کے متعدی مرض کا شکار ہو کر وفات پا گئے۔ یہ بیماری اس وقت دنیا میں لاکھوں افراد کی موت کا موجب بنی تھی۔ وہ جب دس برس کے ہوئے تو سرطان کے مہلک مرض نے ان کی والدہ کی جان لے لی۔ ان کے بعد میجر کے دادا اُن کے کفیل تھے۔ کنگز کالج ایک مہنگا پرائیویت تعلیمی ادارہ تھا‘ تاہم اس کا ہیڈ ماسٹر میجر کے خاندان کا دوست تھا لہٰذا اس نے یہ مہربانی کی کہ میجر کی فیس معاف کر دی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 1936ء سے 1939ء تک میجر نے لندن میں پڑھایا اور دوسری عالمی جنگ چھڑی تو وہ برٹش آرمی میں بھرتی ہو گئے اور بطور کمانڈو عالمی جنگ کی مشہور عسکری مہم Dieppe Raid (آپریشن جوبلی) میں حصہ لیا۔ برطانوی حکومت نے انہیں دو اعزازات MBE اور CMG دیے۔ بعد ازاں تعلیم اور خدمت خلق کے شعبوں میں کام کرنے پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے انہیں ''آرڈر آف برٹش امپائر‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔
جنوری 1944ء میں میجر برٹش انڈیا آ گئے اور یہاں بنگلور میں آفیسرز سلیکشن بورڈ میں تین سال کام کیا اور ترقی پاکر سارجنٹ میجر تک پہنچے۔ ستمبر 1944ء میں برٹش انڈین آرمی میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کا کمیشن حاصل کیا۔ بنگلور کے بعد دہرہ دون سٹیشن میں تعینات رہے۔1947ء میں برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد میجر لینگ لینڈز نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور انہیں راولپنڈی ٹرانسفر کیا گیا جہاں انہوں نے پاکستان آرمی جوائن کر لی۔ پاک فوج میں وہ بطور انسٹرکٹر چھ سال تک خدمات انجام دیتے رہے۔ برٹش فوج کا پاکستان کے ساتھ کنٹریکٹ ختم ہوا اور برٹش آرمی کا پاکستان سے انخلا شروع ہوا تو میجر سے پاکستان میں رہنے کی درخواست کی گئی اور انہیں ایچیسن کالج لاہور میں تدریسی ذمہ داریوں کی پیشکش کی گئی۔
چند برس قبل میں کسی کام سے جب گلبرگ (لاہور) کے گورا قبرستان گیا تو قبرستان میں داخل ہوتے ہی مجھے میجر کی قبر نظر آ گئی۔ میرے قدم دیر تک وہیں جمے رہے۔ میرے دماغ میں 1964ء میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی فلم چلنے لگی۔ اُن کی سوویں سالگرہ کی تقریب میں مَیں اُنہیں دور سے ہی دیکھ سکا تھا۔ قبرستان میں میجر کی آخری آرام گاہ کی پائنتی پہ کھڑے شخص نے اپنی آنکھیں بند کیں تو اُسے 1964ء میں ایچیسن کالج کے سٹاف روم میں تیز تیز قدموں سے داخل ہوتا میجر نظر آیا۔ میجر کی اصل خوبی یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے طلبہ میں محنت‘ نظم وضبط‘ حوصلہ‘ بُردباری اور خطرات کا بہادری سے مقابلہ کرنے کی خوبیاں پیدا کیں۔ 1988ء میں وہ وزیرستان میں شوقیہ اکیلے گھوم پھر رہے تھے کہ اُنہیں موٹا شکار سمجھ کر تاوان کے لیے اغوا کر لیا گیا۔ جب اغوا کنندگان کو پتا چلا کہ وہ کون ہیں تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ انہوں نے میجر سے اس گستاخی کی معافی مانگی اور ان کے اعزاز میں شاندار ضیافت کا اہتمام کیا اور ایک بندوق بطور تحفہ پیش کی۔ میجر نے زندگی بھر شادی نہیں کی اور مجرد زندگی ہنسی خوشی‘ اطمینا ن اور سکونِ قلب کے ساتھ گزاری۔ ایک بار پرویز مشرف ان کا کالج دیکھنے چترال گئے تو میجر نے اُن سے دس لاکھ روپوں کا عطیہ مانگا۔ مشرف نے سرکاری خزانے سے انہیں پانچ کروڑ روپے دیے۔ اتنے بڑے عطیہ کے باوجود کالج ہمیشہ فنڈز کی کمی کا شکار رہتا کیونکہ میجر ذہین مگر نادار طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو فیس معافی کی رعایت دیتے تھے۔ یہ مضمون نگار اپنے محسنوں کی فہرست بنائے تو اس میں میجر جیفری لینگ لینڈز کا نام کافی اونچا لکھا جائے گا۔ ایچیسن کالج کے جن انگریز اساتذہ نے مجھے برطانیہ کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں ملازمت دلوائی ان میں وہ بھی شامل تھے۔ برطانیہ خوش نصیب ہے کہ جہاں جیفری لینگ لینڈز پیدا ہوئے اور پاکستانیوں کی خوش نصیبی ہے کہ انہوں نے زندگی کا ایک لمبا عرصہ یہاں تعلیم و تدریس اور خدمتِ خلق میں گزارا اور اس دھرتی کی مٹی میں ابدی نیند سو گئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments