"AIZ" (space) message & send to 7575

پاک سعودیہ تعلقات

آج کی دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ہر ملک کے مختلف حوالوں سے‘ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں۔ بعض تعلقات ہمسائیگی کی بنیاد پر اور بعض تعلقات نظریات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں جن میں چین اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ چین پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور طویل عرصے سے مختلف امور کے حوالے سے دونوں ممالک کا باہمی تعاون اور اشتراک جاری ہے۔ سعودی عرب اگرچہ ہمارا ہمسایہ ملک نہیں لیکن دینی تعلق کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی خصوصی قربت پائی جاتی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان میں کوئی بھی سیاسی حکومت ہو‘ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور ان تعلقات میں کسی بھی قسم کا کوئی انقطاع نہیں آیا۔ پاکستان کے اس اعتبار سے بھی سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں کہ پاکستان کے بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں سعودی عرب میں آباد ہیں اور مختلف اداروں اور صنعتوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز اور انجینئرز سعودی عرب میں معاشی طور پر مستحکم اور اہم سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی جب اپنے ملک میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں تو اس سے پاکستان کی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی طالبعلم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ‘ جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ اور جامعہ الامام ریاض ایسی یونیورسٹیاں ہیں جہاں سے ہر سال ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم و تدریس مکمل کر کے اپنے وطن واپس لوٹ کر مختلف دینی اداروں اور جامعات میں تعلیمی اور تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی معاملات کو بہتر بنانے کیلئے بھی سعودی عرب اپنی بساط کی حد تک کردار ادا کرتا آیا ہے۔ 1977ء میں جب قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہوا اور پورا ملک سیاسی اعتبار سے عدم استحکام کا شکار ہو گیا تو اس وقت پاکستان میں متعین سعودی سفیر نے اس ڈیڈلاک کے خاتمے کیلئے نہایت فعال کردار ادا کیا اور سیاسی معاملات کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان جب بھی کسی قدرتی آفت کی لپیٹ میں آیا سعودی عرب نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کے ہونے کے ناتے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ شمالی علاقوں اور بالاکوٹ میں آنے والے 2005ء کے زلزلے کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو بحالی کیلئے خطیر رقم بطور امداد دی۔ اسی سے قبل جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر بہت زیادہ سفارتی اور معاشی دبائو تھا تو پاکستان کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کے لیے سعودی عرب نے بھرپور کردار ادا کیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں اس وقت ایک نیا رنگ پیدا ہوا جب 7 اگست 2026ء کو پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے۔ مکہ معاہدہ اس اعتبار سے ایک منفرد معاہدہ ہے کہ تین مسلم ممالک نے اپنے دشمنوں کو مشترکہ دشمن قرار دے کر دفاعی اعتبار سے ہر طرح کے تعاون کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع دستاویز پر دستخط کیے۔ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تو تعلقات مستحکم ہیں ہی‘ یہ دنیائے اسلام کیلئے بھی مختلف خدمات انجام دیتا رہتا ہے۔ شاہ فیصل مرحوم کو دنیائے اسلام کو درپیش سیاسی مسائل کے حل سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ وہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے خصوصی طور پر کوشاں رہتے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر انہوں نے بڑے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ شاہ فیصل مرحوم کی شہادت جہاں سعودی عرب کیلئے ایک المناک خبر تھی وہیں اہلِ پاکستان نے بھی اس خبر کو بڑے درد سے محسوس کیا۔ شاہ فہد مرحوم کو توسیع حرمین شریفین اور قرآن مجید کی نشر و اشاعت سے غیر معمولی دلچسپی تھی اور وہ دنیا کے تمام ممالک میں قرآن کے تراجم کروا کر بھیجتے رہے‘ جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے لوگوں کو قرآن پاک پڑھنے کا موقع میسر آیا جو اس سے پہلے قرآن مجید کے پیغام سے غافل تھے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان وفود کا تبادلہ بھی جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری ذمہ داران اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان و ذمہ داران سعودی عرب کے سرکاری دوروں پر جاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے بھی نمایاں مہمان پاکستان تشریف لاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں جب کبھی سعودی عرب سے کسی معزز مہمان کی آمد ہوتی ہے تو پاکستان کے دینی حلقوں کی طرف سے اسے گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ماضی میں بہت سے ائمہ حرمین پاکستان تشریف لا چکے ہیں جن میں شیخ عبدالرحمن السدیس‘ شیخ صالح الحمید‘ شیخ صلاح البدیر اور دیگر بہت سی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب شؤون حرمین کے مدیر شیخ صالح الحمید پاکستان تشریف لائے تو مجھے بھی ان سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور بہت سے علمی عناوین پر تبادلہ خیال ہوا۔
ہر سال ستمبر کے آخری عشرے میں سعودی عرب اپنے قومی دن کے حوالے سے دنیا کے مختلف مقامات پر اہم تقاریب کا انعقاد کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس موقع پر جہاں پاک سعودیہ تعلقات کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے وہیں ملک کے مختلف طبقات کو مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ تقریب ایک کل جماعتی کانفرنس کا نقشہ پیش کرتی نظر آتی ہے۔ سعودی عرب کے سفیر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کیلیے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان سے جانے والے سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی سے بھی اس بات کی توقع ہے کہ وہ ماضی کی روایت کے تسلسل میں پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
پاک سعودیہ تعلقات دینی اور نظریاتی بنیاد پر استوار ہیں اور ان کی پختگی میں مسلمانوں کی حرمین شریفین سے وابستگی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے حرمین شریفین کے امن کے حوالے سے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہمیشہ اچھے جذبات رہے ہیں۔ کچھ عرصہ سے سعودی عرب کو دفاعی حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے جہاں سعودی عرب اپنا کردار ادا کر رہا ہے وہیں مسلم ممالک کو بھی اس حوالے سے معاونت کرنی چاہیے تاکہ سرزمین حرمین شریفین کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ دنیا کے ہر ملک سے جانے والے حاجی اور عمرہ زائرین اگر کسی بھی قسم کی بدامنی یا دہشت کا شکار ہوں گے تو جہاں اس کے نتائج سعودی عرب کے امن کے حوالے سے مثبت نہیں ہوں گے وہیں عالم اسلام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاک سعودیہ تعلقات مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اب جس مقام پر پہنچ چکے ہیں‘ اس کا بھی تقاضا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوستی اور اخوت کے اس رشتے کوآنے والے وقت میں بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلم ممالک کو امن وسکون کا گہوارہ بنائے اور ان کی معیشت کو مستحکم کر دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...