لاہور کے ایک ممتاز اشاعتی ادارے نے 1965ء میں دیوانِ غالب کا (حنیف رامے کی تصاویر سے مزین) نہایت خوبصورت ایڈیشن شائع کیا۔ اس کے صفحات 48اور 49 پر غالب کی وہ کمال کی غزل شامل ہے جس کے نو کے نو اشعار اُن لوگوں کی داستان ہیں جنہوں نے ساری عمر ٹمٹماتا چراغ لے کر تیز ہوا کے سامنے بہادری‘ بے خوفی‘ عزم اور استقامت کے ساتھ سفر کیا۔ غالب کی اسی غزل کے پہلے شعر کا دوسرا مصرع اس مضمون کا عنوان بنا۔ یہ غزل صرف نوحہ نہیں‘ ایک رجز بھی ہے‘ احمد فراز کی نظم ''محاصرہ‘‘ کی طرح۔
میں اقبال احمد پر مضمون لکھنے بیٹھا تو 70ء کی دہائی کے آخری برسوں میں ہونے والی اپنی دو ملاقاتیں یاد آئیں؛ ایک لندن میں عبداللہ حسین (مرحوم) کے گھر اور دوسری فہمیدہ ریاض (مرحومہ) کے گھر۔ انہی دونوں کی مہربانی سے مجھے اقبال احمد سے طویل نشستوں کا موقع ملا۔ میرا کام مختصر سوال کرنا تھا اور وہ ایک شفیق استاد کی طرح اپنے مخصوص دھیمے انداز میں تحمل سے جواب دیتے‘ میری معلومات اور فہم میں اضافہ کرتے‘ بغیر کسی بے صبری یا اکتاہٹ کے۔
پاکستان کے ترقی پسند‘ عوام دوست اور اشتراکی فکر رکھنے والے دانشور برطانیہ میں حمزہ علوی اور طارق علی‘ امریکہ میں اقبال احمد‘ صغیر احمد اور فیروز احمد‘ بھارت میں ارون دھتی رائے اور پنکج مشرا‘ پاکستان میں سبط حسن‘ متحدہ ہندوستان میں رجنی پام دت اور باری علیگ کے احسان مند ہیں۔ ان اہلِ فکر نے برصغیر میں بے شمار نیم خواندہ افراد کو شعور اور مطالعے کی دولت سے آشنا کیا۔ اقبال احمد 1933ء میں صوبہ بہار کے ضلع گیا (Gaya) کے قریب واقع گاؤں ارکی (Irki) میں پیدا ہوئے اور 11مئی 1999ء کو اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں 66 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ بچپن میں زمین کے تنازع پر اُن کے والد قتل کر دیے گئے۔ بعد ازاں وہ اپنے بھائی صغیر احمد کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور بہار سے مشرقی پاکستان تک کا طویل سفر پیدل طے کیا۔ ایف سی کالج لاہور سے معاشیات کی تعلیم حاصل کی‘ کچھ عرصہ افواج پاکستان میں خدمات انجام دیں‘ کشمیر کی جنگ میں زخمی ہوئے پھر فوج چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے۔ فوج چھوڑنے اور امریکہ جانے کے درمیانی عرصے کی تفصیلات معلوم نہیں۔ تاہم 1957ء میں انہیں روٹری فیلو کی حیثیت سے کیلیفورنیا کے آکسیڈینٹل کالج میں داخلہ ملا۔ اگلے برس وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات اور مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے طالب علم بنے اور سات برس کی تحقیق کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران تیونس اور الجزائر میں تحقیق کے ساتھ الجزائر کی تحریکِ آزادی میں بھی سرگرم رہے‘ یہاں تک کہ فرانس میں گرفتار بھی ہوئے۔ امریکہ واپسی پر انہوں نے Illinoisیونیورسٹی اور Cornelیونیورسٹی میں تدریس کی مگر فلسطینی جدوجہدِ آزادی کی پُرجوش حمایت کے باعث وہاں زیادہ عرصہ نہ رہ سکے۔ 1968ء سے 1972ء تک شکاگو یونیورسٹی سے بطور فیلو وابستہ رہے۔ ویتنام جنگ کی شدید مخالفت اور امریکہ میں ملک گیر جنگ مخالف تحریک میں نمایاں کردار کے باعث 1971ء میں ان پر ہنری کسنجر کے اغوا کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا مگر 1972ء میں جیوری نے تمام ملزمان کو عدمِ ثبوت پر بری کر دیا۔1973ء میں وہ ہالینڈ گئے جہاں سامراج مخالف تحقیقی ادارہ ٹرانس نیشنل انسٹیٹیوٹ کے قیام اور استحکام میں دو برس صرف کیے۔ 1982ء میں دوبارہ امریکہ واپس آ کر ہیمپشائر کالج میں تیرہ برس تدریس کی اور بعد ازاں Emeritusپروفیسر رہے۔ 1990ء کے بعد وہ باقاعدگی سے پاکستان آنے لگے اور انگریزی جریدے میں اپنے عالمانہ کالم لکھے جنہیں بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ انہوں نے ابنِ خلدون کے نام پر پاکستان میں سماجی علوم کی اعلیٰ درسگاہ خلدونیہ کے قیام کی بھرپور کوشش کی مگر بینظیر بھٹو اپنا وعدہ پورا نہ کر سکیں اور یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔
اقبال احمد کی علمیت اور مارکسی نقطہ نظر سے حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت امریکہ‘ شمالی افریقہ‘ یورپ اور پاکستان میں یکساں طور پر تسلیم کی گئی۔ پاکستان میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی‘ امریکہ میں پروفیسر نوم چومسکی اور پروفیسر ایڈورڈ سعید‘ اور برطانیہ میں طارق علی جیسے اہلِ علم ان کے معترف تھے۔ الجزائر کی تحریکِ آزادی کے دوران وہ نیشنل لبریشن فرنٹ اور اس کے ممتاز نظریہ ساز Frantz Fanon (Les Damnés de la Terreþکے مصنف ‘ جس کا ترجمہ ''افتادگانِ خاک‘‘ کے نام سے کیا گیا) کے قریبی رفقا میں شامل رہے۔ الجزائر کی آزادی کے بعد نئی انقلابی حکومت نے انہیں سرکاری عہدہ پیش کیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ تقریباً تین دہائیوں تک امریکہ‘ یورپ‘ افریقہ اور ایشیا میں انہیں جو علمی مقام حاصل رہا برصغیر کے کسی دوسرے دانشور کو نصیب نہ ہو سکا۔ صرف 66 برس کی عمر میں ان کی وفات پر چاروں براعظموں کے ترقی پسند علمی حلقوں میں گہرے رنج کا اظہار کیا گیا۔ ان کے مضامین اور روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے کالموں کو ان کے مداحوں نے کتابی صورت میں مرتب کیا جس کا پیش لفظ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے لکھا اور اسے کراچی سے شائع کیا گیا۔ ہیمپشائر کالج نے ان کی یاد میں سالانہ خطبات کا سلسلہ شروع کیا جس کی پہلی تقریب میں کوفی عنان‘ ایڈورڈ سعید‘ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے نے شرکت کی۔
اقبال احمد اُن اولین دانشوروں میں تھے جنہوں نے افغانستان میں امریکہ کی جانب سے نام نہاد مجاہدین کی مالی اور عسکری سرپرستی کی مخالفت کی اور پیش گوئی کی کہ ایک وقت آئے گا جب یہی شدت پسند عناصر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کریں گے۔ وہ خود کو Harshly Secular اور ''بین الاقوامی‘‘ شخصیت قرار دیتے تھے لیکن اسلام میں صوفیانہ روایات کے مداح تھے اور اسے محروم طبقات کے انصاف اور مساوات کی جدوجہد کا ایک طاقتور سرچشمہ سمجھتے تھے۔ پاکستانی ہونے پر انہیں ہمیشہ فخر رہا‘ جسے کوئی مایوسی متزلزل نہ کر سکی۔ 2006ء اور 2015ء میں کولمبیا یونیورسٹی پریس نے ان پر دو اہم کتابیں شائع کیں جن میں سے ایک امریکہ کی ممتاز جامعات کے تین پروفیسروں نے ان کے مضامین کا انتخاب کرکے مرتب کی۔ 14 مئی1999ء کودی گارجین نے ان پہ ایک تعزیتی مضمون شائع کیا جو ایڈورڈ سعید نے لکھا اور اپنے رفیقِ کار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اقبال احمد کو اردو‘ انگریزی‘ فرانسیسی‘ عربی اور فارسی ادب پر یکساں عبور حاصل تھا۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ جُولی اور ایک بیٹی زہرا تھیں‘ مگر ان کے مداح چاروں براعظموں میں پھیلے ہوئے تھے۔
1971ء میں پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہوا‘ جب عوامی لیگ کے چھ نکات تسلیم کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی گئی اور نتیجتاً دس ماہ کے اندر ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس وقت اقبال احمد اور ان کے بھائی پورے امریکہ میں صرف دو ایسے پاکستانی تلاش کر سکے جونیو یارک ٹائمز میں مشرقی پاکستان کے عوام کے جائز سیاسی مطالبات کی حمایت میں خط لکھنے پر آمادہ ہوئے جبکہ برطانیہ میں بھی ان کے ہم خیال صرف چار افراد تھے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اقبال احمد خود ایک بہاری تھے اور مشرقی پاکستان کی بہاری کمیونٹی ہی عوامی لیگ کے شدید مظالم کا سب سے زیادہ نشانہ بنی۔
غالب کی مذکورہ غزل کے پہلے شعر کا دوسرا مصرع اس مضمون کا عنوان ہے اور اس کا اختتام بھی غزل کے آخری شعر کے دوسرے مصرع پر ہوتا ہے: کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا مرے بعد۔ یہ وہ صدا ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ جیسے اقبال احمد آج بھی اگلے جہان سے ہمیں پکار رہے ہوں‘ اور آنے والے زمانوں تک پکارتے رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments