"SUC" (space) message & send to 7575

کیا پاک بھارت جنگ ٹل گئی؟ … (2)

بھارت کے ایک بڑی معیشت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس کا جغرافیہ‘ آبادی اور معاشی وسائل اسے بڑا ملک بناتے ہیں۔ اس لیے مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ نے بھارت پر جو معاشی دباؤ ڈالا‘ اس سے معیشت پر زیادہ اثر تو نہیں پڑا لیکن ایئر لائنز پر معاشی دباؤ‘ سرمایہ کاروں کا خوف‘ سٹاک مارکیٹ میں ہلچل وغیرہ بہرحال ایسے عوامل تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر یہ جنگ زیادہ طویل ہوئی تو متعدد اقتصادی معاملات بہت گمبھیر ہو جائیں گے۔ سب سے اہم فضائی سفر کے مسائل تھے۔ اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ملکوں کی وفضائی حدود ایک دوسرے کے رجسٹرڈ‘ آپریٹڈ اور لیز پر لیے گئے طیاروں کیلئے بند کر دی گئیں۔ بعد ازاں متعدد مرتبہ نوٹم جاری کرکے اس پابندی میں توسیع کی جاتی رہی۔ اس اقدام نے سب سے زیادہ اثر بھارت کی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں خصوصاً ایئر انڈیا اور انڈیگو پر ڈالا کیونکہ ان کی یورپ‘ شمالی امریکہ اور وسطی ایشیا جانے والی پروازیں برسوں سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی آ رہی تھیں۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد دہلی‘ ممبئی اور امرتسر سے یورپ اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کو بحیرۂ عرب‘ خلیجی ممالک یا وسطی ایشیا کے طویل راستے اختیار کرنا پڑے۔ اس سے کئی پروازوں کے دورانیے میں ایک سے تین گھنٹے تک کا اضافہ ہوا۔ کچھ انتہائی طویل روٹس پر ایئر انڈیا کو ویانا یا کوپن ہیگن جیسے ہوائی اڈوں پر ایندھن بھرنے کے لیے رکنا پڑا‘ جس سے سفر مزید طویل اور مہنگا ہو گیا۔ لمبے سفر نے صرف کمپنیوں کے اخراجات ہی نہیں بڑھائے بلکہ مسافروں کو بھی متاثر کیا۔ زیادہ سفر کا مطلب ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ‘ کنکشن فلائٹس چھوٹ جانے کا خطرہ‘ عملے کے اوقاتِ کار میں اضافہ‘ جہازوں کی روزانہ دستیابی میں کمی کیونکہ ایک جہاز اب پہلے کی نسبت کم چکر لگا سکتا ہے۔ اس بحران کے دوران بھارت کے شمالی اور مغربی حصوں کے متعدد ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کیے گئے‘ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں اور ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے۔ اگرچہ یہ اثرات مستقل نہیں تھے لیکن انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ جدید معیشت میں فضائی رابطوں کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ مزید کئی ضمنی اثرات تھے۔ سب سے زیادہ نقصان ایئر انڈیا کو ہوا۔ بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی کو لکھے گئے ایک خط میں اندازہ لگایا کہ اگر پاکستانی فضائی حدود ایک سال تک بند رہیں تو کمپنی کو تقریباً 50 ارب بھارتی روپے (591 ملین امریکی ڈالر) کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس میں اضافی ایندھن‘ پرواز کا اضافی وقت‘ اضافی عملہ‘ جہازوں کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات شامل تھے۔ کمپنی نے حکومت سے مالی معاونت یا سبسڈی کی بھی درخواست کی۔ اس کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا نے بھی رپورٹ میں شائع کیں۔ ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹونے جون 2025ء میں کہا تھا کہ اگر فضائی پابندی طویل عرصہ برقرار رہی تو اس کے مالی اثرات انتہائی نمایاں ہوں گے کیونکہ ایئر انڈیا کے زیادہ تر طویل فاصلے کے روٹس اسی فضائی راستے سے گزرتے ہیں۔ یہ عوامل بھارتی فضائی صنعت پر منفی اثرات ڈالتے رہے۔ یہ دباؤ بہت زیادہ تھا‘ چنانچہ بھارتی حکومت نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو ہدایت دی کہ فضائی کمپنیوں کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔ سرکاری سطح پر مختلف تجاویز زیر غور آئیں‘ تاہم کوئی فوری حل سامنے نہیں آیا۔
فضائی حدود کی بندش کے اثرات صرف ایئر لائنز تک محدود نہیں رہے۔ طویل فضائی راستوں کی وجہ سے ایندھن کی کھپت‘ جہازوں کی دیکھ بھال‘ انشورنس‘ عملے کے اضافی اخراجات اور شیڈول میں تاخیر نے بھارتی فضائی شعبے کے مجموعی اخراجات میں اضافہ کیا۔ اس کا اثر سیاحت‘ کاروباری سفر اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑا کیونکہ یورپ اور شمالی امریکہ کے ساتھ فضائی روابط نسبتاً مہنگے اور کم مؤثر ہو گئے۔ صرف ایئر انڈیا ہی نہیں بلکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں کو بھی اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے۔ وسطی ایشیا جانے والی بعض پروازوں کے دورانیے میں تین گھنٹے یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ شمالی امریکہ جانے والی کئی پروازوں کو ایندھن بھرنے کے لیے یورپی ہوائی اڈوں پر رکنا پڑا۔ اس سے جہازوں کی دستیابی کم ہوئی اور آپریشنل منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارتی حکومت کے سامنے ایک اہم سوال یہ تھا کہ آیا نجی اور سرکاری فضائی کمپنیوں کو مالی امداد دی جائے یا نہیں۔ ایئر انڈیا نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو باضابطہ طور پر تجویز دی کہ اگر فضائی بندش جاری رہتی ہے تو حکومت سبسڈی یا کسی مالی معاونت کا نظام وضع کرے۔
بھارت پر اس جنگی صورتحال کا یہ تنہا معاشی دباؤ نہیں تھا۔ بھارت کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی آئی ہے اور نئی دہلی کی اولین ترجیح معاشی ترقی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری‘ سیمی کنڈکٹر صنعت‘ مینوفیکچرنگ اور عالمی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانا ہے۔ بھارتی حکومت جانتی ہے کہ ایک طویل جنگ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری‘ مالیاتی منڈیوں اور برآمدات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ جنگ کا ماحول سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کرتا ہے‘ فضائی آمدو رفت اور تجارت کو متاثر کرتا اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کرتا ہے۔ ایران امریکہ جنگ سے بھارتی سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھائو اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار کشیدگی میں کمی کو معاشی استحکام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ بھارت جنگی ماحول برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن مکمل جنگ اس کی معاشی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مکمل جنگ بھارت کی حکمت عملی تھی بھی نہیں۔ وہ ایک ایسی جھڑپ یا محدود جنگ چاہتا تھا جس میں بھارت کو غالب دکھایا جا سکے‘ انتخابی فائدے حاصل کیے جا سکیں‘ دنیا کو بھارت کی طاقت دکھائی جا سکے اور معاشی بحران میں مبتلا ہوئے پاکستان کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ مئی 2025ء کی جنگ کے یہی مقاصد تھے۔ لیکن انتخابی فائدوں کے سوا ان مقاصد میں بھارت کو بہت بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا‘ بلکہ بہت سی جگہوں سے اس کا بھرم چاک ہو گیا ہے اور یہ جنگ بھارت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئی۔
یہ سوال بہرحال اب بھی باقی ہے کہ کیا ایک بڑی اور مکمل پاک بھارت جنگ کا خطرہ ختم ہو چکا؟ میرے خیال میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ 1998ء میں اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا۔ ایٹمی طاقت ہی دشمن کو جارحیت سے روکنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ایٹمی طاقت نہ ہو تو پھر ملکوں کا حال عراق‘ شام‘ لیبیا اور لبنان جیسا ہو جاتا ہے۔ پاکستان غزہ نہیں ہے کہ دنیا اس کی تباہی کا تماشا دیکھتی رہے۔ تین بڑی عالمی طاقتوں میں سے دو یعنی روس اور چین اسی خطے میں ہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاک بھارت جنگ جوہری خطرے کی لکیر تک پہنچے۔ یقینا پاکستان اور بھارت بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس لکیر تک کشیدگی بڑھے۔ لیکن اس کے نیچے جھڑپیں اور داؤ پیچ چلتے رہیں گے۔ پانی پر جنگ کا خطرہ مئی 2025ء کے بعد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھارت زبانی بیانات اور دھمکیوں سے زیادہ کوئی عملی اقدام نہیں کرے گا لیکن اگر ایسا ہوا تو دونوں ملک دوبارہ جنگ کی دہلیز پر کھڑے ہوں گے۔ اسی طرح ایک مضبوط معاشی طاقت والا پاکستان بھارت کیلئے ایک بڑا خطرہ ہو گا‘ وہ ہر قیمت پر اسے روکنے کی کوششیں کرے گا‘ جو اس وقت بھی جاری ہیں۔ مکمل جنگ کا خطرہ بہت کم ہے لیکن جو خطرات ختم نہیں ہوئے ان میں کشمیر میں کوئی بڑا حملہ‘ لائن آف کنٹرول پر شدید جھڑپیں‘ آبی خصوصاً سندھ طاس معاہدے کا تنازع‘ بھارت میں اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث سخت گیر قومی مؤقف جیسے خطرات بدستور موجود ہیں۔ اگر اس میں غلط عسکری اندازے بھی شامل ہو جائیں تو ایک محدود اور وقتی جنگ دوبارہ چھڑ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں