"KNC" (space) message & send to 7575

مدارس اور اُردو

''اُردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے‘ اس زبان کی حفاظت حسبِ استطاعت واجب ہو گئی ہے اور باوجود قدرت کے‘ اس میں غفلت اور سستی کرنا معصیت بھی ہو گی اور موجبِ مواخذۂ آخرت بھی ہو گی‘‘ (امداد الفتویٰ، جلد: 4)۔
یہ مولانا اشرف علی تھانوی کا فتویٰ ہے۔ جو برصغیر کی دینی روایت میں حضرت تھانوی کی حیثیت سے واقف ہے‘ اسے اندازہ ہے کہ اُردو زبان کے فروغ میں اس فتویٰ کی کیا اہمیت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اُردو کی حفاظت‘ فروغ اور ارتقا میں علما اور مدارس کا کردار غیر معمولی ہے۔ آج بھی اگر اُردو ایک زندہ زبان ہے تو یہ مدارس کا فیض ہے۔ جب کوئی زبان ایک مذہب کی زبان بن جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امر ہو گئی۔ جب تک مذہب زندہ ہے‘ وہ زبان زندہ ہے۔ علما اور مدارس نے جب اُردو کو یہ حیثیت دے دی تو اس کے بعد یہ اپنی بقا کیلئے کسی دوسرے ذریعے کی محتاج نہیں رہی۔
جو اسباب کسی زبان کو زندہ رکھتے ہیں‘ ان میں چار اہم تر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ روزگار کی زبان ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ علم کی زبان ہو۔ تیسرا‘ وہ ابلاغ کی زبان ہو۔ چوتھا یہ کہ وہ مذہب کی زبان ہو۔ اردو اگر علم‘ مذہب اور ابلاغ کی زبان ہے تو اس میں علما اور مدارس کا حصہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اسے روزگار کی زبان بنا سکی ہے نہ علم کی زبان۔ جس عدالت نے اسے سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دیا‘ وہ آ ج بھی اپنے فیصلے انگریزی زبان میں لکھتی ہے۔ ریاست اور اہلِ اقتدار کی عدم دلچسپی کے باوصف‘ اُردو آج علومِ اسلامیہ کی پہلی تین زبانوں میں شامل ہے۔ بیسویں صدی میں‘ بالخصوص تفسیر اور فکرِ اسلامی کی میدانوں میں‘ اُردو میں جو ادب تخلیق ہوا‘ اس کی مثال عربی سمیت کسی دوسری زبان میں موجود نہیں۔
علما اور اہلِ مذہب نے اُردو کا ہاتھ اُس وقت سے تھام رکھا ہے جب یہ پاؤں پاؤں چلنا شروع ہوئی تھی۔ ابھی تو اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمد ایوب قادری نے اپنی کتاب ''اُردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ‘‘ میں یہ داستان لکھ دی ہے۔ ان کی تحقیق ہے کہ شاہ مراد انصاری نے 1771ء میں‘ تیسویں پارے کی تفسیر لکھی تھی۔ اس وقت اُردو کو 'ہندی‘ کہا جاتا تھا۔ اسے 'تفسیر مرادیہ‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ 'خدا کی نعمت‘ کے عنوان سے شائع ہوتی رہی۔ اس کی زبان اتنی سادہ ہے کہ آج بھی بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یہ جملہ دیکھیے: ''حمد اور شکرکا سجدہ‘ لائق ہے‘ سزاوار ہے‘ پاک پروردگار کے تئیں‘ جس خداوند نے اپنے فضل و کرم سے اور حضرت نبیﷺ کے طفیل سے'عمّ‘ سیپارے کی تفسیر‘ ہندی زبان میں تمام کروا دی‘‘۔ پھر شاہ عبدالقادر کا ترجمۂ قرآن ہے جو آج بھی ذوق و شوق سے پڑھا جا تا ہے۔ یہ ترجمہ 1790ء میں لکھا گیا۔
یہ علما اور مدارس تھے جنہوں نے اُردو کو مذہب کی زبان بناکر اس کی بقا کا سامان کر دیا۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے‘ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ 1835ء میں انگریزوں نے اسے انگریزی سے بدل ڈالا۔ یہی وہ دور ہے جب علما نے اپنے دینی ادب کو اُردو میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا تھانوی کے فتوے کا پس منظر بھی یہی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے مدارس قائم کیے اور اُردو کو تدریس کی زبان قرار دیا۔ اس نے اُردو کو توانا کر دیا اور اس کے دامن کو اتنا وسیع کر دیا کہ وہ بڑے علمی مضامین کا ابلاغ کر سکتی تھی۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُردو کا دینی ادب‘ روایتی ادب سے اگر زیادہ وقیع نہیں تو کسی طرح کم نہیں ہے۔ جو نثر شبلی‘ ابوالکلام‘ ابوالاعلیٰ اور مناظر احسن گیلانی نے لکھی‘ اس کی مثال تلاش کرنا آسان نہیں۔ شبلی تو اُردو کے عناصرِ خمسہ میں شامل ہیں۔
شاعری میں بھی علما کا حصہ ناقابلِ انکار ہے۔ مولانا احمد رضا خان جیسی نعت کس نے لکھی ہوگی 'مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘ آج بھی‘ جب پڑھی جاتی ہے تو وجد طاری کر دیتی ہے۔ دارالعلوم دیوبندکے بانی مولانا قاسم نانوتوی کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ انہوں نے ادب کی کتابیں صدر الدین آزردہ جیسے اساتذہ سے پڑھیں جو غالب کے شارح اور نقاد تھے۔ مولانا شعر کہتے تھے اور ان کی نعت بھی زبان زدِ عام ہے۔ دیوبند کے پہلے صدر المدرسہ مولانا یعقوب کی شاعری کا مجموعہ 'بیاضِ یعقوبی‘ ان کی شاعرانہ مہارت کا گواہ ہے۔ آج بھارت کے نوجوان احتجاجی جلسوں میں مولانا عامر عثمانی کی نظم پڑھتے ہیں۔ ان کا رسالہ 'تجلی‘ ہندوستان کے اہم ادبی جرائد میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ اس میں 'مسجد سے میخانے تک‘ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے جسے اُردو کے اولین کالموں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ مفتی محمد شفیع مرحوم کا تو پورا خانوادہ ہی شاعر ہے۔ زکی کیفی‘ ولی رازی اور مفتی تقی عثمانی کی شاعرانہ حیثیت مسلمہ ہے۔ پھر نئی نسل میں جو لوگ سب سے عمدہ شعر کہہ رہے ہیں‘ ان میں سعود عثمانی نمایاں تر ہیں۔ وہ جناب زکی کیفی کے صاحبزادے ہیں۔
اُردو مذہب کی زبان بنی تو اس کا سماج سے زندہ تعلق قائم ہو گیا۔ مدارس نے اسے ایک حد تک روزگار کی زبان بھی بنا دیا۔ اسی طرح یہ علم اور ابلاغ کی زبان بنی۔ اس کے ساتھ زبان کی صحت کا بھی خیال رکھا گیا۔ پھر خطاطی کے ذریعے اس کے جمالیاتی پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا۔ نفیس الحسینی المعروف نفیس رقم اسی روایت کی عطا ہیں۔ وہ نستعلیق میں ایک خطِ نفیسی کے موجد ہیں۔ نستعلیق کے علاوہ انہوں نے ثلث‘ نسخ‘ دیوانی‘ رقعہ‘ اعجاز اور کوفی خطوط میں بھی کمالات دکھائے۔ خانہ کعبہ سے لے کر مینارِ پاکستان تک‘ ہر اہم جگہ ان کے فن کے نمونے موجود ہیں۔ ان کا لکھا 'دیوانِ غالب‘ خاصے کی چیز ہے۔ وہ ایک عمدہ شاعر بھی تھے۔ کیا ریاست سمیت‘ کوئی ادارہ ایسا ہے جس نے اُردو کی ایسی ہمہ جہت خدمت کی ہو؟
مدارس اور علما کی خدمات کے اس بیان کا مقصد یہ نہیں کہ اُردو کو زندہ رکھنے میں دوسرے شعبوں کی خدمت کا انکار کیا جا ئے۔ یقینا ان کا کردار بھی ہے لیکن قائدانہ کردار مدارس کا ہے۔ یہ ذمہ داری ریاست کی تھی کہ وہ اُردو کی حفاظت کرتی۔ افسوس کہ اس نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ آج اُردو رسم الخط خطرات کی زد میں ہے۔ رومن میں اُردو لکھی جا رہی ہے اور اس باب میں کوئی قانون سازی ہو رہی ہے نہ ذہن سازی۔ بی ایس کی سطح پر انگریزی لازمی ہے لیکن اُردو نہیں۔ ہم ہندی کو اُردو سمجھتے ہیں‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو بطور زبان کسی سرپرست سے محروم ہے۔ قدیم بھارتی فلموں کے ٹائٹل پر‘ فلم کا نام ہندی‘ انگریزی اور اُردو‘ تینوں زبانوں میں لکھا جاتا تھا۔ آج اُردو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اگر فلم کا کردار کلام نہ کرے تو ہم لکھا ہوا سمجھ نہیں سکتے۔
ہماری اشرافیہ نے اُردو سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ وہ اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرتی ہے۔ اس نے اپنا احساسِ کمتری‘ نئی نسل کو منتقل کر دیا ہے۔ وہی پالیسی ساز بھی ہے اور رجحان ساز بھی۔ اس سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اُردوکی حفاظت کرے گی۔ اس ماحول میں اہلِ مدرسہ کی تحسین کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اُردو کا دامن نہیں چھوڑا۔ دینی ادب تخلیق کیا جو ادب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے ساتھ افسانہ لکھا‘ کالم لکھا‘ شاعری کی‘ خطاطی کی۔ میں نے 'اسلامی ادب‘ کی تحریک کا دانستہ ذکر نہیں کیا کہ اس کا براہ راست تعلق مدارس سے نہیں۔ اس کو شامل کر لیں تو ایک نیا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ 'اہلِ مذہب نے سب سے زیادہ اُردو کی خدمت کی ہے‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...