"KNC" (space) message & send to 7575

’چراغِ راہ‘ کا احیا

رسائل کا دور ختم ہو گیا۔ یوں جانیے ایک رومان ختم ہو گیا۔
بیسویں صدی کی پہلی سات دہائیوں تک‘ رسائل سنجیدہ مضامین کے ابلاغ کا سب سے مؤثر ذریعہ تھے۔ اخبار میں چھپے الفاظ کے مقدر میں طوالتِ عمر نہیں۔ 'اخبار‘ دراصل خبر کی اشاعت کے لیے ہے۔ 'خبر‘ ایک مسلسل عمل ہے۔ ہر دن نئی خبروں اور واقعات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ ہر خبر اگلے دن باسی ہو جاتی ہے۔ افکار و نظریات کا معاملہ یہ نہیں۔ ان کی ایک عمر ہوتی ہے۔ اپنی حقانیت ثابت کر دیں تو مدتوں تک دہرائے جاتے ہیں۔ بعض تو صدیوں سے زندہ ہیں۔ ان کی اشاعت کے لیے اخبار کو موزوں فورم نہیں سمجھا جاتا۔ اس مقصد کے لیے کتاب اور رسائل کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ کتاب‘ کتابت سے اشاعت تک‘ زیادہ وقت لیتی ہے اور یہ اُن مقاصد کے لیے خاص رہی ہے جو دیرپا یا مستقل موضوعات شمار ہوتے۔ جیسے مذہب۔ جیسے فلسفہ۔ روزمرہ کے زندہ مسائل کا فکری تجزیہ یا زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو نے والے افکار کے ابلاغ کے لیے رسائل کو سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ سمجھا گیا ہے۔ حرفِ مطبوعہ کا دور شروع ہونے سے پہلے‘ یہ فریضہ خطابت نے سنبھال رکھا تھا۔
برصغیر میں بھی زندہ فکری مباحث کو عامۃ الناس تک پہنچانے کا سہرا رسائل کے سر رہا ہے۔ مسلم تہذیب کو ان رسائل نے زندہ رکھا۔ یہ سرسیّد کا 'تہذیب الاخلاق‘ ہو یا ابوالکلام کا 'الہلال‘۔ مسلمانوں میں جو فکری تحریکیں اٹھیں‘ ان کے تعارف کا فریضہ رسائل نے سرانجام دیا۔ مذہب و الحاد کی بحثیں بھی ان رسائل کے سبب سے عوام تک پہنچیں۔ ادبی رسائل نے اس میں اہم کردار ادا کیا جو محض ادبی موضوعات تک محدود نہیں تھے۔ جیسے نیاز فتح پوری کا 'نگار‘۔ احمد ندیم قاسمی کا 'فنون‘۔ وزیر آغا کا 'اوراق‘۔ پاکستان بننے کے بعد‘ یہاں اسلام پسندوں اور سوشلزم کے علمبرداروں کے مابین ایک زبردست فکری معرکہ بر پا ہوا۔ 'نصرت‘ حنیف رامے مرحوم کی ادارت میں نکلنے والا ایک رسالہ تھا جس نے سوشلزم کے دفاع کا محاذ سنبھال رکھا تھا۔ ایک رسالہ ایسا بھی تھا جس نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا اور سوشل ازم سمیت تمام ازموں کو مسترد کیا۔ اس نے 'اسلامی سوشلزم ‘ کو بھی 'تناقض فی الاصطلاح ‘ کا مظہر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ اس مقدمے کو اعلیٰ علمی سطح پر پیش کیا گیا۔ یہ ماہنامہ 'چراغِ راہ‘ تھا جس کے مدیر پروفیسر خور شید احمد مرحوم تھے۔
'چراغِ راہ‘ اس فکری تحریک کا نمائندہ تھا جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے برپا کی۔ اس کی اشاعت کا آغاز اگرچہ جولائی 1948ء میں ہوا مگر اس کا نمائندہ دور جولائی 1958ء سے1970ء تک پھیلا ہوا ہے‘ جسے دورِ ثالث کہنا چاہیے۔ اس دور میں اس کی ادارت پروفیسر خورشید احمد مرحوم کے ہاتھ میں رہی۔ یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے اسے فکری جرائد کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بنا دیا۔ ایک نقطہ نظر کو کس طرح علمی وقار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے‘ مخالف مؤقف کی تردید کا شائستہ اور تہذیبی منہج کیا ہے‘ مستقل اہمیت رکھنے والے افکار کا عصری مسائل پر اطلاق کیسے کیا جاتا ہے‘ ادب کی نظری تشکیل اور پھر اس کا ابلاغ کیسے ہونا چاہیے‘ اگر آپ ان سوالات کے مدلل اور عملی جواب ڈھونڈنے نکلے ہیں تو 'چراغِ راہ‘ آپ کی راہ کا چراغ ہے۔ اچھے رسائل کے 'خاص نمبر‘ مستقل نوعیت کی دستاویز شمار ہوتے ہیں۔ 'نقوش‘ کا اس باب میں بڑا نام ہے۔ 'چراغِ راہ‘ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے خاص نمبر آج بھی حوالہ ہیں۔ 'اسلامی قانون نمبر‘، 'سوشلزم نمبر‘، 'نظریہ پاکستان نمبر‘ ہمارے دینی ادب میں ایسا اضافہ ہیں کہ ہماری ادبی روایت ان پر فخر کر سکتی ہے۔ یہ جو آج اسالیب بدل بدل کر دہرایا جاتا ہے کہ 'نظریہ پاکستان‘ جنرل شیر علی کی تخلیق کردہ اصطلاح ہے‘ اس مغالطے کا جواب 'چراغِ راہ‘ کے 'نظریہ پاکستان نمبر‘ میں موجود ہے جو دسمبر 1960ء میں شائع ہوا۔ یہ جنرل شیر علی کے ریاستی افق پر نمودار ہونے سے کہیں پہلے کی بات ہے۔
پروفیسر خورشید احمد مرحوم کو اس کام میں علمی ذوق رکھنے والے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کا ساتھ میسر رہا جنہوں نے اُن کی تربیت میں جو سیکھا‘ اس میں اپنی محنت شامل کر کے‘ سماج کو اس طر ح لوٹایا کہ آج خود ایک حوالہ ہیں۔ جیسے ڈاکٹر انیس احمد‘ ڈاکٹر ممتاز احمد‘ مسلم سجاد۔ ممتاز صاحب اور مسلم سجاد اپنے حصے کا کام مکمل کر کے اللہ کے حضور میں پہنچ چکے۔ انیس صاحب سے ہمارے استفادے کا سلسلہ قائم ہے اور دعا ہے کہ تادیر قائم رہے۔ مصباح الاسلام فاروقی جیسی علمی شخصیت بھی پروفیسر خورشید صاحب کی ہم سفر رہی۔ ممتاز صاحب میرے ماموں تھے۔ اس نسبت نے 'چراغِ راہ‘ کو میری خوشگوار علمی یادوں کا حوالہ بنا دیا ہے۔
یہ طویل تمہید‘ میں نے آپ تک یہ خبر پہنچانے کے لیے باندھی ہے کہ 'چراغِ راہ‘ کا احیا کر دیا گیا ہے۔ اس کے چوتھے دور کا پہلا شمارہ شائع ہو گیا ہے۔ اس بار اس کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر صاحب ہیں۔ ڈاکٹر فخر الاسلام مدیر ہیں اور ڈاکٹر انیس احمد اس کے سرپرست ہوں گے۔ دورِ جدید کا پہلا شمارہ 'پروفیسر خورشید احمد‘ نمبر ہے اور یہی مناسب تھا۔ اس میں پروفیسر صاحب کی زندگی اور افکار و نظریات پر بہت عمدہ مضامین شامل ہیں۔ فکری پہلوئوں پر ڈاکٹر انیس احمد صاحب‘ خالد رحمن صاحب‘ خلیل الرحمن چشتی صاحب اور ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب جیسے اہلِ علم کے مضامین ہیں۔ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے محبت بھرے تاثرات ہیں۔ پروفیسر صاحب کے مکتوبات‘ انٹرویو اور ایک مضمون بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ انور عباسی صاحب سے سود کے موضوع پر علمی مکالمہ ہے جو سکھاتا ہے کہ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم کا ایک دلچسپ مضمون 'نظریہ پاکستان اور ہمارے دانشور‘ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں 'چراغِ راہ‘ میں شائع ہوا تھا‘ اسے قندِ مکرر کے طور پر اس شمارے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں ہمارے ادبی حلقے فکری اعتبار سے کتنے ثروت مند تھے۔
اس میں شبہ نہیں کہ پروفیسر خورشید احمد اور 'چراغِ راہ‘ کی روایت کو سمجھنے کے لیے‘ آج اس سے بہتر دستاویز میسر نہیں ہے۔ اگر آپ اس رسالے کی تاریخ سے واقف ہیں تو یہ احساس ہی آپ کو اس کی طرف فوراً متوجہ کرتا ہے۔ اگر نہیں تو بھی اس کے دلچسپ اور عمدہ مضامین اور پھر اسے جس حسنِ ذوق کے ساتھ مرتب کیا گیا‘ آپ کو اپنی طرف کھینچیں گے۔ اس پرچے پر مدیران نے جو محنت کی ہے‘ وہ ایک ایک صفحے سے نمایاں ہے۔ چا سو صفحات پر پھیلے بے شمار مضامین کا تعارف نہ ممکن ہے اور نہ مقصود۔ صرف اپنی اس خوشی میں آپ کو شریک کرنا مقصد ہے کہ رسائل میں ایک اچھے رسالے کا اضافہ ایک سماج میں موجود زندگی کی دلیل ہے۔
میں جانتا ہوں کہ رسائل کا دور اب گزر چکا۔ اس کے باوصف‘ میرا یہ کہنا ہے کہ اس روایت کو زندہ رکھنا ہماری تہذیبی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں اچھے رسائل آج بھی شائع ہو رہے ہیں‘ اس حقیقت کے باوجود کہ ان کا حلقہ قارئین سمٹ گیا ہے۔ جو لوگ اپنی تہذیب اور روایت کے بارے میں حساس ہو تے ہیں‘ وہ نامساعد حالات میں بھی ان کاموں کو جاری رکھتے ہیں جن کا تعلق روایت سے ہوتا ہے۔ 'چراغِ راہ‘ اب ماہنامہ نہیں ہو گا‘ 'سلسلہ نمبر‘ کے ساتھ شائع ہو گا۔ اس کا دوسرا شمارہ خطوط نمبر ہو گا۔
'چراغِ راہ‘ کے صفحات کھنگال چکا تو مجھے مجید امجد کی نظم 'گلی کا چراغ ‘ یاد آئی۔ ذہن کے ایک گوشے سے اس کا پہلا شعر ابھرا:
تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریب
خدا رکھے تجھے روشن‘ چراغِ کوئے حبیب

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...