"KNC" (space) message & send to 7575

’’مسلم لبرلزم‘ ‘کیا ہے؟

''مسلم لبرلزم‘‘ مسلم معاشروں میں اٹھنے والی ایک نسبتاً نئی تحریک ہے۔ بعض اہلِ علم اسے ''مسلم ماڈرنزم‘ ‘کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ وہ جب اس کی تاریخ بیان کرتے ہیں تو اُن سکالرز کو اس کے اکابر میں شمار کرتے ہیں جنہیں جدیدیت پسند کہا جاتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر فضل الرحمن یا اس سے پہلے سر سیّد احمد خاں اور محمد عبدہٗ۔ میں نے اس مقدمے کو سمجھنے کی‘ بساط بھر کوشش کی ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہو سکا۔ یہ دو مختلف نظام ہائے فکر ہیں‘ تاہم ان میں ایک فکری تسلسل ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لبرلزم‘ مسلم ماڈرنزم کا اگلا قدم ہے۔ یہ ''پوسٹ مسلم ماڈرنزم ‘‘ ہے۔ مسلم جدیدیت کی جڑیں روایت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ مسلم لبرلزم کی اساس مسلم روایت نہیں‘ لبرلزم ہے۔ وہی لبرلزم جس سے میں اور آپ واقف ہیں اور جس نے یورپ میں ایک فکری تحریک کے طور پر جنم لیا۔
عوامی دائرے (Public Sphere) میں اس کے سب سے نمایاں علمبردار ترک سکالر مصطفی اکیول ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ اس موضوع پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ 'نیویارک ٹائمز‘ میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان کا دائرہ اثر جدید پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ اس فکر کی مغرب میں پذیرائی ہے اور ان مسلم حلقوں میں بھی جنہیں انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات نے مذہب بیزار بنا دیا ہے۔ مصطفی اکیول کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ کچھ دن پہلے شائع ہوا ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ''مسلم لبرلزم‘‘ ہے کیا؟
اس کا بنیادی مقدمہ وہی ہے جو لبرل ازم کا ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ انسان فطری طور پر آزاد ہے۔ کوئی خارجی قوت یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ اس پر کوئی پابندی عائد کرے۔ اس کا یہ حق پیدائشی ہے کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے‘ جس طرح کی زندگی گزارنا چاہے‘ گزارے۔ اس کے فکر وعمل پر کوئی قدغن خارج سے نہیں لگائی جا سکتی۔ یہاں تک تو یہ مقدمہ قابلِ فہم ہے اور اسلام کی روایتی تعبیر کو ماننے والا بھی اس سے متفق ہے۔ اصل مسئلہ اس کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ کیا اسلام قبول کر نے کے بعد بھی اس کی یہ فطری آزادی برقرار ہے؟ کیا کوئی نظمِ اجتماعی یہ حق رکھتا ہے کہ مذہب یا اخلاق کی بنیاد پر اسے کسی ضابطے کا پابند بنائے؟ ''مسلم لبرلزم‘‘ ان سوالات کے جواب نفی میں دیتا ہے۔
چند ماہ پہلے ہی مصطفی اکیول کی مرتب کردہ ایک کتاب شائع ہوئی: ''اسلام میں کوئی جبر نہیں‘‘۔ اس کتاب میں مختلف مصنفین نے معاصرمسلم معاشروں کے حالات بیان کیے ہیں کہ کیسے وہاں اس آیت کی عملاً خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایران پر ایک چشم کشا مضمون ہے جو بتاتا ہے کہ کیسے مذہبی حکومت کے جبر نے سماج میں اضطراب پیدا کیا۔اُن کی دوسری کتاب جس کا ترجمہ فدا الرحمن صاحب نے کیا ہے‘ اس سوال کا جواب فراہم کرتی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد‘ انسانی آزادی کی حدود کیا ہیں۔ مصطفی اکیول اس کتاب سمیت‘ اپنی کتابوں میں جو جواب فراہم کرتے ہیں وہ لبرلزم کے پیرا ڈائم میں طے کیے گئے ہیں اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں'' مسلم لبرلزم‘‘ کی سرحدیں مسلم جدیدیت سے قدرے مختلف ہو جاتی ہیں۔
مصطفی اکیول کا رحجان ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی خارج سے کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اس میں دینی ماخذ اور ریاست کا نظام دونوں شامل ہیں۔'' مسلم لبرلزم‘‘ قرآن مجید کو راہنمائی کے بنیادی ماخذ کے طور پر قبول کرتا ہے۔ قرآن مجید کی کچھ آیات ہیں جومسلمانوں کو نظمِ حکومت یا کسی خارجی اتھارٹی کی اطاعت کا پابند بناتی ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید کچھ جرائم کی سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کہیں مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی قائم ہو جائے تو کیا وہ قرآن مجید کی ان آیات پر عمل نہیں کرے گا؟ مثال کے طور پر سورۃ النساء میں اللہ‘ رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔ اولی الامر سے جمہور اہلِ علم نے 'حکومت‘ مراد لی ہے۔ اہلِ تشیع اس سے آئمہ مراد لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ایک خارجی مرجع اطاعت پایا جاتا ہے۔ مصطفی اکیول کا کہنا ہے کہ آج 'اولی الامر‘ کا مصداق نہیں پایا جاتا۔ جہاں تک قرآن مجید کی سزائوں کا تعلق ہے تو انہیں بھی زمان و مکان کی قید میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کے دلائل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا تعلق قرنِ اوّل سے ہے‘ بعد کے ادوار سے نہیں۔
'' مسلم لبرلزم‘‘ کا سب سے بڑا مسئلہ مردو زن کے تعلقات کا تعین ہے۔ لبرلزم رضامندی سے قائم جنسی تعلق کو جرم نہیں سمجھتا۔ قرآن صراحت کے ساتھ اس کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ ''مسلم لبرلزم‘‘ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ قرآن کی ان تعلیمات کی کیسے تاویل کرے کہ وہ لبرلزم سے ہم آہنگ ہو جائے؟ قرآن مجید ہماری تفہیم کے مطابق‘ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا نہیں کرتا۔ مصطفی اکیول یہاں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے وہ صرف سوالات اٹھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ وہ اس باب میں کوئی حتمی بات نہیں کہتے‘ مگر بین السطور پڑھا جا سکتا ہے کہ مسلم لبرلزم کو درپیش اصل چیلنج کیا ہے۔
میں نے اس کالم میں مسلم لبرلزم کے بارے میں اپنا فہم آپ کے سامنے رکھ دیا۔ تنقید‘ فہم کے بعد کا مرحلہ ہے۔ میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ'' مسلم لبرلزم‘‘ لبرل پیراڈائم کو معیار مان کر اسلام کی تفہیمِ نو ہے۔ لبرلزم انسان کی مطلق آزادی کو بنیادی قدر سمجھتا ہے۔ مصطفی اکیول کی بعض کتابیں بہت عمدہ تحقیق کی حامل ہیں‘ جیسے 'اسلامی مسیح‘ (The Islamic Jesus)۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ حضرت مسیحؑ پر ابتدا میں ایمان لانے والے‘ ان کے بارے میں وہی رائے رکھتے تھے جو مسلمان رکھتے ہیں۔ یہ بہت شاندار کتاب ہے۔ اسی طرح کی ایک کتاب 'اسلامی موسیٰ‘ بھی ہے۔ مصطفی کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ مسلم معاشروں میں مذہبی تعبیرات نے کیا فکری مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اس باب میں مسلم اہلِ علم کی ذمہ داری کیا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مسلم معاشروں میں ایک سے زیادہ نقطہ نظر ہیں۔ ہمیں سب کو ان کے فکری پیراڈائم میں رہ کر سمجھنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...