آج سے 19 سال قبل چین کے صوبہ گانسو میں 16 شیر خوار بچوں میں گردے کی پتھری کی تشخیص ہوئی۔ وہ پاکستان تو ہے نہیں‘ چین ہے‘ اس لیے سب کے کان کھڑے ہو گئے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ متاثرہ تمام بچوں کو ایسا خشک دودھ (ملک پاؤڈر) پلایا جاتا رہا تھا جس میں میلامائن (Melamine) نامی ایک زہریلے صنعتی مرکب کی ملاوٹ کی گئی تھی۔ دراصل بچوں کے فارمولا دودھ میں میلامائن نامی کیمیکل کی غیر قانونی ملاوٹ کی گئی تھی تاکہ دودھ میں پروٹین کی سطح زیادہ دکھائی دے اور دودھ کوالٹی کنٹرول ٹیسٹ پاس کر سکے۔
آپ نے اپنے گھروں میں پلاسٹک کے ڈنر سیٹ دیکھے ہوں گے۔ پلاسٹک کے چمچ‘ ڈونگے‘ تھالیاں‘ باؤل وغیرہ‘ وہ سارے میلامائن اور کچھ دوسرے اجزا کے مکسچر سے بنے ہوتے ہیں۔ میلامائن ایک سنتھیٹک کیمیکل کمپاؤنڈ ہے جس میں نائٹروجن بھاری مقدار میں ہوتی ہے۔ میلامائن سے بنی اشیا کو مائیکرو ویو اوون میں گرم کریں تو اس کے اجزا ٹوٹ جاتے ہیں اور پلیٹ میں رکھی گئی خوراک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے میلامائن کی بنی پلیٹوں میں کھانے پینے کی اشیا اوون میں گرم کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ میلامائن انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو شدید اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ گردے کی پتھری کا سبب بن سکتا ہے‘ تولیدی نظام کو متاثر کر سکتا ہے‘ اس سے پیشاب کی نالیوں میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔
واپس چین کی طرف چلتے ہیں! چار ماہ بعد اندازاً تین لاکھ چینی بچے اس آلودہ دودھ کے باعث بیمار پڑ چکے تھے اور گردوں کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں چھ بچوں کی موت ہو چکی تھی۔ چین کی ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک سانلو گروپ کو اس معاملے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا لیکن جب تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو انکشاف ہوا کہ چین کی مزید ڈیری کمپنیاں بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ حکومت کی تحقیقات کے نتیجے میں متعدد افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں اور دو مرکزی مجرموں کو سزائے موت بھی دی گئی۔
اس واقعے نے چین کی غذائی برآمدات کی ساکھ کو ہی نقصان نہیں پہنچایا‘ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مقامی ڈیری صنعت کو بھی اس سے شدید دھچکا پہنچا۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس زہریلے دودھ کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا‘ جس سے چین کی ڈیری انڈسٹری کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور کئی ممالک نے چین سے دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگا دی۔ ملک کے اندر بچوں کے فارمولا دودھ کی مارکیٹ محدود ہو گئی جس نے غیرملکی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کر دیا‘ چنانچہ 2009ء کے بعد 100 سے زائد غیر ملکی برانڈز چینی مارکیٹ میں آ گئے۔ 2008ء کا یہ واقعہ عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے سکینڈلز میں سے ایک ہے۔ اس بحران سے سبق سیکھتے ہوئے چینی حکومت نے غذائی تحفظ کے کنٹرول کے حوالے سے اپنی ضابطہ کار صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ جون 2009ء میں چین نے فوڈ سیفٹی لاء (غذائی تحفظ کا قانون) نافذ کیا‘ جو خوراک میں غیر مجاز اضافی اجزا کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت ایک اعلیٰ سطحی مرکزی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ قومی سطح پر غذائی تحفظ کے ضوابط کے نفاذ اور مختلف اداروں کے مابین ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ مارچ 2013ء میں خوراک اور ادویات کے تحفظ سے متعلق اختیارات کو یکجا کرنے کے لیے چائنہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو وزارت کے درجے کے حامل ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔
چین میں ملاوٹ کرنے والوں کی سزا طویل قید یا سزائے موت ہے۔ امریکہ میں وفاقی ادارے ایف ڈی اے یو ایس کے تحت‘ قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص یا کمپنی نیت کے ساتھ (یعنی ارادتاً) ملاوٹ کرتی ہے اور اس سے انسانی صحت یا زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو تو اس پر دس لاکھ ڈالر تک جرمانہ اور 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ روس کے قانون میں ملاوٹ کی سزا جرم کی نوعیت‘ اس سے صحت کو پہنچنے والے نقصان اور اس میں ملوث افراد کے عہدے پر منحصر ہوتی ہے۔ اشیا میں ایسی ملاوٹ کرنا جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو (خواہ غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ کی گئی ہو) پر سات لاکھ روبل تک کا جرمانہ یا مجرم کی تین سال تک کی تنخواہ کی کٹوتی کی سزا کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سال تک مشقت یا چھ سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں اشیائے خورونوش اور ادویات میں ملاوٹ پر فوڈ سیفٹی ایکٹ 1990ء اور فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کے تحت درج ذیل سزائیں دی جاتی ہیں۔ ملاوٹ ثابت ہونے پر عدالتیں کاروبار کرنے والوں کو لامحدود جرمانوں کی سزا سنا سکتی ہیں۔ انتہائی سنگین صورت حال میں جہاں انسانی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہو‘ مجرم کو دو سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے اور کاروبار کے لائسنس منسوخ کر کے عمارت کو فوری طور پر سیل کیا جا سکتا ہے۔ جاپان میں ملاوٹ ثابت ہونے پر لاکھوں سے لے کر کروڑوں ین (Yen) تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ بڑی کمپنیوں پر جرمانے کی مالیت 100 ملین ین سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی ملاوٹ پر قید کی سزائیں بھی مقرر ہیں۔ سنگین صورتحال میں قید کی مدت تین سال سے لے کر دس سال تک ہو سکتی ہے۔ حکومت ملاوٹ کرنے والے کارخانے یا کمپنی کا لائسنس مستقل منسوخ کر کے ان کا نام سرکاری گزٹ میں شائع کرتی ہے جس سے کمپنی کی مارکیٹ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ ناروے میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ‘ مضر صحت خوراک کی فروخت یا غلط لیبلنگ پر کمپنیوں اور افراد پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر ملاوٹ سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو یا اسے ایک منظم فراڈ سمجھا جائے تو ناروے کے پینل کوڈ کے تحت چھ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ خوراک اور حفظانِ صحت کے ادارے (Mattilsynet) کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ ملاوٹ ثابت ہونے پر فیکٹریوں یا دکانوں کو سیل کر دے اور تمام سامان کو مارکیٹ سے واپس منگوا کر تلف کر دے۔ ناروے میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی ''فارم سے لے کر کانٹے تک‘‘ (From farm to fork) پوری سپلائی چین کی نگرانی کرتی ہے۔ ناروے میں درآمد شدہ اشیا کے لیے بھی وہی سخت معیار لاگو ہوتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ خوراک کے لیے ہیں۔
یہ چند مثالیں ہیں یعنی یک مشتے نمونہ از خروارے‘ ورنہ اور کئی ممالک کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں عوام کو ملاوٹ کے بغیر صحت بخش خوراک کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور اس حوالے سے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں مجھے گزشتہ روز میڈیا پر ابھرنے والی ایک خبر پڑھ کر یاد آئی ہیں۔ خبر یہ ہے: پاکستان کی مارکیٹوں میں دستیاب پیک شدہ اشیائے خورونوش میں سے36 فیصد غیر معیار ی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پیک شدہ اشیا میں خوردنی تیل‘ گھی اور پیک شدہ دودھ شامل ہیں۔ پی سی ایس آئی آر کی جانب سے گھی‘ تیل اور پیک شدہ دودھ کے 491 نمونوں کے ٹیسٹ نتائج کے مطابق 176 نمونے غیر معیاری تھے۔ پیک شدہ مصنوعات کے مجموعی طور پر 491 نمونوں میں سے 315 نمونے مقررہ قومی معیار پر پورا اترے جبکہ 176 نمونے مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے۔ حیرت ہے کہ اس خبر کی نشر و اشاعت کے بعد بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments