"IYC" (space) message & send to 7575

لا نینا سے ایل نینو تک

آپ نے محسوس کیا کہ ساون کے مہینے میں ہر دوسرے روز بارش ہو جاتی تھی‘ کبھی کبھی تو روزانہ‘ لیکن جب سے بھادوں شروع ہوا ہے بارشوں کا یہ سلسلہ اچانک تھم سا گیا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشیں ہو رہی ہیں جیسے راولپنڈی‘ اسلام آباد اور کچھ دوسرے مقامات‘ لیکن شدید بارشوں کیلئے مشہور بھادوں کے مہینے میں باقی ملک سوکھا پڑا ہے حالانکہ ابنِ انشا نے کہا تھا:
پھاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے
برکھا ہے یہ بھادوں کی برسے تو بڑی برسے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد مزید بارشیں نہ ہوئیں تو ربیع کی فصلوں کی آب پاشی کیلئے پانی کی قلت یقینی ہو جائے گی۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ موسمی تبدیلیوں کا ایک نیا بڑا‘ بھیانک‘ گہرے اثرات والا رخ‘ بحرالکاہل میں رونما ہونے والا بڑا موسمیاتی تغیر۔
بحرالکاہل روئے ارض پر سب سے بڑا سمندر ہے۔ اتنا بڑا کہ دنیا کے تمام براعظم اگر اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر بچھا دیے جائیں تو بحرالکاہل ان کے کل رقبے سے بھی بڑا ہے۔ زمین پر جتنا بھی پانی موجود ہے اس کا آدھے سے زیادہ بحرالکاہل میں پایا جاتا ہے۔ اس سمندر میں دنیا کے تین سب سے گہرے مقامات موجود ہیں‘ رونگا ٹرینچ‘ ماریانا ٹرینچ اور فلپین ٹرینچ۔ یہ سمندر زمین کے ایک تہائی رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سمندر ایشیا پوائنٹ سے ساؤتھ امریکہ پوائنٹ تک پھیلا ہوا ہے‘ کم و بیش 19ہزار کلو میڑ وسیع۔ یہ سمندر بظاہر بڑا پُرسکون رہتا ہے‘ اسی لیے اسے بحرالکاہل کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پانی کا اتنا بڑا حجم رکھنے کی وجہ سے یہ سمندر دنیا بھر کے موسموں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس سمندر کی وجہ سے پیدا ہونے والی دو موسمی کیفیتوں کو ایل نینو (Elnino) اور لا نینا (La nina) کا نام دیا جاتا ہے۔
لا نینا اور ایل نینو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موسمی حالات ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ اگر لا نینا نہ ہو تو پھر بحرالکاہل میں ایل نینو موجود ہوتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اگر ایل نینو اور لانینا متوازن ہوں تو روائے ارض کے موسمی حالات بھی متوازن رہتے ہیں۔ لا نینا ایسا موسمی رجحان ہے جو ایل نینو سدرن آسلیشن (The El Nino Southern Oscillation) کا حصہ ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت کے غیر معمولی طور پر ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی موسم پر اثر انداز ہوتی ہے‘ کیونکہ سمندری درجہ حرارت فضا کے دباؤ اور ہواؤں کے طویل و عریض سسٹمز کو متاثر کرتا ہے اور یہ دونوں عوامل یعنی ہوا اور اس کا دباؤ موسموں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ لا نینا عام طور پر ایل نینو (جس میں بحرالکاہل کا پانی نارمل سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے) کے برعکس ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مختلف خطوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ لا نینا ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھوٹی لڑکی اور ایل نینو بھی ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا لڑکا۔ از راہِ تفنن کہا جا سکتا ہے کہ یہ چھوٹی لڑکی اور چھوٹے لڑکے کے مابین چلنے والی کشمکش ہے جو دنیا بھر کے موسموں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
لیکن یہ تفنن والی بات نہیں‘ معاملہ سنجیدہ ہے کیونکہ اس بار جو ایل نینو ہمارے موسموں پر اثر انداز ہو رہا ہے وہ کوئی عام ایل نینو نہیں‘ سپر ایل نینو ہے جسے نیو یارک ٹائمز نے لوگوں کے حوالے سے گاڈزیلا ایل نینو کا نام دیا ہے۔ پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کے مطابق یہ ایک ریکارڈ ساز ایل نینو بن سکتا ہے‘ اور اس بات کا واضح ثبوت موجود تھا کہ سمندر ایک ایسی غیر معمولی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی وارننگ کے مطابق یہ گزشتہ 70 برسوں میں سب سے طاقتور ایل نینو ہے اور ممکنہ طور پر ایک ہزار سالوں میں سب سے وسیع اثرات رکھنے والا موسمی تغیر۔ انسان کی پیدا کردہ موسمیاتی شدت کو اس جاری ایل نینو کے اثرات میں جمع یا اکٹھا کیا جائے تو 2027ء ریکارڈ پر موجود تاریخ کا سب سے گرم سال بننے والا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا کے درجہ حرارت میں مجموعی طور پر ایک بڑا اضافہ ہونے والا ہے جو روئے ارض کے موسمیات کو طویل عرصے کیلئے تبدیل کر دے گا۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے مطابق ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر 2026ء میں ایل نینو اپنی سو فیصد حشر سامانیوں کے ساتھ موجود رہے گا جبکہ اس دوران لا نینو یا ایل نینو سدرن آسلیشن نیوٹرل کی موجودگی کے آثار صفر فیصد‘ یعنی بالکل معدوم ہوں گے۔ ماہرینِ موسمیات نے امسال اپریل میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ رواں سال دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی سپر ایل نینو کے ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جس کے باعث موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ تب محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ اگست اور ستمبر کے دوران ایل نینو شدت اختیار کر کے سپر ایل نینو میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اس صورتحال کے باعث خشک سالی‘ ہیٹ ویوز اور محسوس کیے جانے والے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے۔
جاری ایل نینو کے ممالک اور براعظموں پر کیسے بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس کی ایک جھلک آپ کو دکھانا چاہتا ہوں۔ جنوبی افریقہ‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ شمالی امریکہ کا جنوبی حصہ‘ انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں شدید خشک سالی پیدا ہو سکتی ہے اور ان خطوں میں واقع جنگلوں میں آتشزدگیوں کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ کچھ اثرات تو ظاہر ہونا بھی شروع ہو چکے ہیں جیسے پاکستان میں برسات کے موسم میں بارشوں میں انتہائی کمی۔ پھر بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں یہ سمندری طوفانوں (Hurricanes) کا موسم لیکن وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے جبکہ بحرالکاہل‘ جو عام طور پر خاموش رہتا ہے‘ میں سنمدری طوفانوں کی بھرمار ہو رہی ہے۔ ابھی اگست کے اواخر اور ستمبر کے شروع میں بحرالکاہل میں تین بڑے سمندری طوفان ختم ہوئے ہیں‘ لوویل (Lowell)‘ کارینا (Karina) اور میری (Marie) جبکہ کئی مزید سمندری طوفان بنتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری تبدیلی یہ ہے کہ جنوبی افریقہ‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ شمالی امریکہ کے جنوبی حصے‘ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے برعکس مشرقی افریقہ‘ جنوبی امریکہ کے کچھ علاقوں میں طوفانی موسم نظر آئے گا‘ شدید بارشیں ہو سکتی ہیں اور وہاں شدید سیلابوں کا خطرہ بھی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سپر ایل نینوکے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک اثر تو میں نے کالم کے آغاز میں بتا دیا کہ بھادوں میں بارشیں کم ہو رہی ہیں اور آنے مہینوں میں بارشیں مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ بارشیں کم ہوں گی تو ربیع کی فصلوں کیلئے پانی کم دستیاب ہو گا۔ آبپاشی کیلئے پانی نہیں ہو گا تو زرعی پیداوار کم ہو گی۔ ہم پہلے ہی اپنی خوراک کا ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ یہ نئی صورتحال ہمارے خوراک کے حوالے سے درآمدی بل کو بڑھا دے گی جس کا بوجھ ظاہر ہے زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا۔ سپر ایل نینو کا اثر کم از کم سات آٹھ ماہ تو ضرور رہے گا‘ اس لیے اربابِ بست و کشاد کو ہر طرح کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ موسم کے تیور تیزی سے بدل رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر دعوے تو بڑے بلند بانگ کیے جاتے ہیں لیکن سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایک سپر ایل نینو کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم واقعی تیار ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...