"KMK" (space) message & send to 7575

جہاز کیوں یاد آتا ہے ؟

قارئین! میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے میں خریدے گئے لگژری جہاز کو بھول جاؤں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ میں واقعی یہ بھولنے جا رہا ہوں لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ عین اسی وقت کوئی نہ کوئی واقعہ رن وے بن جاتا ہے اور یہ جہاز اس پر لینڈ کرتے ہوئے میری یادداشت کے ہوائی اڈے پر لینڈ کر جاتا ہے۔ اب آپ بتائیں کہ اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے۔ اگر کوئی واقعہ نہ ہو تو مجھے یہ بھی یاد نہ آئے۔ ایسا ہر نیا واقعہ بھی چونکہ سرکار کی غربت اور معاشی بدحالی سے جڑا ہوتا ہے اس لیے عوامی غربت اور حکمرانوں کے شاہانہ طرزِ عمل پر جہاز کی خریداری والی شاہ خرچی یاد آ جاتی ہے۔ مثلاً اب یہ جو لاہور کی میٹرو بس والوں نے حکومت کو نوٹس دے دیا تھا کہ ہمارے پاس اب پٹرول ڈلوانے کے پیسے بھی نہیں ہیں‘ لہٰذا چند دن بعد وہ میٹرو سروس بند کر دیں گے۔ اور معاملہ صرف لاہور میٹرو تک محدود نہیں‘ حکومت کی معاشی کسمپرسی قدم قدم پر دکھائی دے رہی ہے۔ کوئی ایک معاملہ ہو تو بندہ اس پر بات کرے۔ صحت سے متعلقہ معاملات کو دیکھیں تو سرکار کے پاس پیسے نہیں۔ تعلیم کا مسئلہ دیکھیں تو سرکار سکولوں سے‘ اساتذہ سے‘ نظام تعلیم سے بلکہ اس پورے بکھیڑے سے اپنی جان چھڑوا رہی ہے۔ سکول پرائیویٹائز ہو رہے ہیں۔ تعلیم ہر پاکستانی شہری کا حق ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹائز ہونے کے بعد تعلیم مہنگی بھی ہو رہی ہے اور اس کا معیار بھی تحت الثریٰ میں جا رہا ہے۔ ظاہر ہے غیر تربیت یافتہ‘ کم تعلیم کے حامل سستے استاد ویسا ہی نتیجہ دیں گے جتنی ان کی استعداد ہے۔
ہمارے دوست اطہر خان خاکوانی کے والد مرحوم چچا سالک خان فرماتے تھے کہ سستی گاڑی اور سستا نوکر آپ کو ہمیشہ لوگوں کے سامنے عین چوک پر ذلیل کرواتا ہے۔ یہی حال پرائیویٹائزڈ سرکاری سکولوں کا ہے۔ چھ ہزار سے دس ہزار تک کی تنخواہ میں رکھے گئے اساتذہ جو فی الوقت مارکیٹ میں دستیاب گھریلو ڈرائیور سے چوتھائی تنخواہ لے رہے ہیں‘ اس سے ان کی تعلیمی قابلیت اور پیشے سے اخلاص کی امید حماقت ہے۔ تاہم اس وقت معاملہ کچھ اور ہے۔ وہ یہ کہ اگر گھر میں رات کے کھانے کا سامان نہ ہو‘ قرضدار دروازے پہ کھڑے ہوں‘ محلے کے دکانداروں نے ادھار دینا بند کر دیا ہو‘ ایسے میں اگر گھر کا کوئی لاابالی نوجوان بیروزگاری کے باوجود ڈیڑھ دو لاکھ ماہانہ قسط والی گاڑی بینک سے لیز پرلے آئے تو اس کی اس حرکت پر سوال تو بنتا ہے۔ سو سرکار کے موجودہ معاملات اور مالی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اس قلمکار کو سرکاری جائیدادیں بیچنے کا منصوبہ بنانے والی صوبائی حکومت کے اللّوں تللوں پرلگژری جہاز یاد آ جائے تو اس میں حیرانی یا پریشانی کی کیا بات ہے؟
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ملتان کی بری صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے چند سڑکوں کا حال سنایا تھا‘ جو دو ماہ بعد میری ملک واپسی پر بھی اسی طرح خراب و خستہ ہیں۔ پاکستان پہنچنے کے بعد اگلی صبح جب میں گھر سے باہر نکلا تو دروازے کے ساتھ لگا ہوا ڈسٹ بن نہ صرف یہ کہ منہ تک بھرا ہوا تھا بلکہ اس کے اردگرد کافی سارا کوڑا کرکٹ زمین پر بکھرا پڑا تھا۔ ظاہر ہے‘ میں تو پچھلے دو ماہ سے گھر میں ہی نہیں تھا۔ تو مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے پاکستان سے روانگی سے قبل گھر کی صفائی کروا کے جو کوڑا کرکٹ اس ڈسٹ بن میں ڈالا تھا‘ شاید ابھی تک وہیں پڑا ہے۔ غور سے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بہرحال یہ وہ والا گند نہیں‘ ممکن ہے کہ بعد میں اردگرد کے ہمسایوں نے اس ڈسٹ بن کو خالی دیکھ کر اس میں ڈال دیا ہو۔ تاہم اوپر تک بھرے ہوئے اور اس کے ساتھ نیچے کافی سارے بکھرے ہوئے کوڑے کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ بہرحال یہ سب کچھ گزشتہ کئی روز سے یہاں پڑا ہے۔ میں نے فوری طور پر متعلقہ صفائی کے محکمے کو فون کرنے کے بجائے اس ساری صورتحال کا صبر سے جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔ اگلے روز باہر نکل کر دیکھا تو سب کچھ وہیں جوں کا توں پڑا تھا۔ یہ صورتحال اگلے تین دن تک برقرار رہی‘ تاآنکہ میں نے ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے اس ذمہ دار کو فون کیا جس نے کچھ عرصہ قبل مجھے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس گلی میں صفائی والا عملہ روزانہ آئے گا اور صفائی کرے گا۔ تاہم ایک بات مزید حیران کن یہ تھی کہ پوری گلی میں سب سے زیادہ کوڑا کرکٹ میرے گھر کے ساتھ موجود ڈسٹ بن میں تھا۔ یعنی سب سے زیادہ گند وہاں پڑا ہوا تھا جس گھر کا مکین گزشتہ دو ماہ سے یہاں تھا ہی نہیں۔ باقی گھروں کے باہر بھی صورتحال بہت اچھی نہیں تھی‘ تاہم آباد گھروں کے باہر اتنا کوڑا کرکٹ منطقی طور پر جائز دکھائی دیتا ہے۔ لیکن وہاں بھی یہ بات واضح تھی کہ گزشتہ دو تین دن سے کسی نے کوڑا نہیں اٹھایا۔ پوری گلی میں صرف سامنے والی باجی کا ڈسٹ بن تھا جو بالکل صاف تھا‘ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ کام سرکار کے سپرد کرنے کے بجائے خود روزانہ علی الصباح سرانجام دیتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ویسٹ کمپنی والوں کا صفائی کا عملہ مختلف گھروں سے ماہانہ لے کر نسبتاً زیادہ توجہ سے صفائی کر رہا ہے۔ یعنی صفائی پر متعین عملہ ٹھیکیدار سے تنخواہ بھی وصول کر رہا ہے اور گھروں سے کوڑا اٹھانے کے عوض علیحدہ سے معاوضہ لے رہا ہے۔ ظاہر ہے‘ میں تو پاکستان میں موجود ہی نہیں تھا‘ لہٰذا اس گھر سے‘ جہاں صرف ایک چوکیدار تھا‘ معاوضہ ملنے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ سو صفائی کے عملے نے اس گھر پر توجہ ہی نہ دی۔ بہرحال‘ جب اس متعلقہ شخص سے بات ہوئی تو اس نے نہایت رونے والے انداز میں کہا: ''سر جی‘ پچھلے دو تین ماہ سے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی‘ گاڑیوں میں ڈلوانے کیلئے پٹرول کے پیسے نہیں‘ کمپنی نے ہاتھ کھڑے کیے ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں‘ میں کیا کروں؟ تاہم میں کوشش کر کے یہ کوڑا کسی طرح آج اٹھوا لیتا ہوں لیکن صورتحال بہت خراب ہے۔ کمپنی کے مالی حالات دگرگوں ہیں‘ ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ڈی موٹیویٹ ہو چکے ہیں اور صورتحال کے فوری ٹھیک ہونے کی نہ امید ہے اور نہ کوئی توقع‘‘۔ اب آپ بتائیں کہ جہاں صفائی کے عملے کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہ ملی ہو تو بندے کو جہاز یاد نہ آئے تو پھر کیا یاد آئے؟
باقی شہر کی برباد شدہ سڑکوں کا حال تو آپ پڑھ چکے‘ لیکن سب سے زیادہ خراب معاملہ جنوبی پنجاب کے واحد Tertiary Care ہسپتال کے باہر دکھائی دے رہا ہے۔ نشتر ہسپتال کے باہر والی سڑک کھدی پڑی ہے اور اس پر کام بند ہے۔ میں یہ پورے یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ رہا‘ تاہم جس حد تک معلومات ملی ہیں‘ وہ یہ ہیں کہ ٹھیکیدار ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ ایمرجنسی میں جانے والے مریض گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ ایمبولینس کے گزرنے کی نہ جگہ ہے اور نہ صورتحال۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض ہسپتال سے تھوڑے فاصلے پر پھنسے ہوئے راستہ ملنے کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کے ساتھ موجود لواحقین کی بے بسی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ لیکن بے حسی کی انتہا ہے کہ ہسپتال کی سڑک بھی بروقت تعمیر نہیں ہو رہی۔ اندر ہسپتال کا حال اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے لیکن فی الحال تو اس باہر کی صورتحال کا ذکر ہو رہا ہے جو فنڈز نہ ہونے کی بنیاد پر مریضوں‘ لواحقین اور عام پبلک کیلئے باعثِ آزار ہے۔ وجہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔ ظاہر ہے‘ فنڈز کی عدم فراہمی مالی معاملات کی خرابی کی وجہ سے ہے۔ یہ مالی خرابی بہرحال چند کروڑ روپے سے زیادہ کی تو نہیں ہو گی۔ جب سرکار ہسپتال کے باہر انتہائی اہم سڑک کی تعمیر کیلئے چند کروڑ روپے بھی دینے کے قابل نہ ہو تو ایسے میں اس فقیر کولگژری جہاز یاد نہ آئے تو بھلا پھر اسے کیا یاد آنا چاہیے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...