"KMK" (space) message & send to 7575

The Vulture and the Little Girl

یہ تصویر مجھے گزشتہ کئی سال میں بارہا یاد آئی ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ یہ تصویر میری یادداشت کی پکچر گیلری میں فریم ہو کر آویزاں ہے۔ یہ تصویرجب بھی یاد آتی ہے دل میں ایک عجیب سی کسک‘ درد‘ ملال اور افسوس کا تاثر چھوڑتی ہے۔ یہ تصویر ایک فاقہ زدہ نحیف ونزار افریقی بچی کی ہے جو انتہائی ناکافی خوراک‘ بھوک اور قحط کی وجہ سے ہڈیوں کا ایسا ڈھانچہ بن چکی ہے جس پر صرف کھال منڈھی ہوئی ہے۔ یہ بچی خشک‘ بے آب و گیاہ اور پانی سے محرومی کے باعث جگہ جگہ سے چٹخی ہوئی زمین پر اپنے چاروں ہاتھوں پاؤں پر رینگ رہی ہے۔ اس بچی کے گلے میں سفید رنگ کی روایتی افریقی مالا ہے اور اس کے پیچھے ایک گدھ آ رہا ہے۔ وہ منتظر ہے کہ اس بچی کی جان نکلے اور وہ اسے اپنی خوراک بنا لے۔ قارئین! میں ایک چھوٹی سی تصحیح کر دوں‘ اس تصویر کے ساتھ تب جو کیپشن آیا تھا‘ اس میں اسے Girl یعنی لڑکی ہی لکھا گیا تھا‘ تاہم 2011ء میں ایک ہسپانوی اخبار نے تحقیق کی تو معلوم ہوا وہ لڑکی نہیں لڑکا تھا‘ جس کا نام کونگ نیونگ تھا اور وہ فیڈنگ سنٹر تک پہنچ کر زندہ بچ گیا تھا۔ یہ لڑکا بعد ازاں 2007ء میں بخار کے باعث وفات پا گیا۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا کو قحط کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنے کیلئے کسی ایک تحریر‘ کتاب‘ گفتگو‘ اجلاس یا کسی بڑی سے بڑی کانفرنس نے بھی شاید اتنا متاثر نہیں کیا ہوگا جتنا اثر اس ایک تصویر نے ڈالا ہے۔ یہ تصویر ایک افریقی فوٹو جرنلسٹ کیون کارٹر نے مارچ 1993ء میں سوڈان کے علاقے ایود (Ayud) جو آج کل جنوبی سوڈان کا حصہ ہے‘ میں کھینچی تھی۔ اس علاقے میں تب اقوام متحدہ اور دنیا بھر سے آنے والے دیگر کئی امدادی ادارے قحط زدہ لوگوں کو خوراک فراہم کر رہے تھے۔ افریقی فوٹو جرنلسٹ کیون کارٹر نے تب تین دیگر فوٹو جرنلسٹ ساتھیوں گریگ مارینووچ‘ ژاؤسلوا اور کین اوسٹربروک کے ہمراہ بینگ بینگ کلب نامی ایک گروپ سا بنا رکھا تھا۔ یہ گروپ 1990ء کی دہائی کے آغاز میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی ہولناک نسلی اور سیاسی تشدد کی تصاویر دنیا تک پہنچا کر عالمی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ چار افراد پر مشتمل یہ گروپ افریقہ میں ہونے والی کئی قسم کی تباہ کاریوں کے بارے میں تصویریں کھینچ کر دنیا بھر کو افریقہ میں ہونے والے انسانی المیے سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔ 1993ء میں وہ اپنے ساتھی ژاؤ سلوا (João Silva) کے ہمراہ افریقہ میں قحط سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو تصاویر کے ذریعے دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے فوٹوگرافی کی غرض سے سوڈان گیا ہوا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران کیون کارٹر سوڈان کے علاقے ایود میں تھا جب اس نے یہ منظر دیکھا اور اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ قحط کی اس کوریج کے بعد کارٹر واپس جنوبی افریقہ آ گیا۔ اسی دوران اخبار‘ دی نیو یارک ٹائمز سوڈان کے ہولناک قحط پر اپنی خبر کو پُراثر بنانے کیلئے کسی ایسی تصویر کی تلاش میں تھا جو اس انسانی المیے کی بھرپور عکاسی کر سکے۔ ایسی تصویر جو اس پورے منظرنامے کو دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ کارٹر کے ساتھی گریگ مارینووچ نے نیویارک ٹائمز کے فوٹو ایڈیٹرز کو اس تصویر کے بارے میں بتایا۔ اخبار کی انتظامیہ نے یہ تصویر حاصل کی اور مورخہ 26 مارچ 1993ء کو یہ تصویر ایک تفصیلی خبر کے ساتھ اپنے صفحہ تین پر شائع کر دی۔ تصویر کا چھپنا تھا کہ دنیا بھر میں اس پر ایک تہلکہ سا مچ گیا۔ اس سارے ہنگام میں ایک سوال تھا جو اس خبر کے باقی تمام مندرجات پر فوقیت لے گیا۔ ہزاروں لوگوں نے اخبار کو بذریعہ خط‘ ٹیلی فون اور فیکس صرف ایک ہی سوال پوچھا کہ اس بچے کا کیا بنا؟ یہ سوال اتنی زیادہ تعداد میں آیا کہ بالآخر اخبار کو اس سلسلے میں چند روز بعد ایک خصوصی ایڈیٹر نوٹ شائع کرنا پڑا جس میں اخبار نے بتایا کہ فوٹوگرافر کے مطابق اس نے گدھ کو بھگا دیا تھا اور بچہ اتنا سنبھل گیا تھا کہ وہ اُٹھ کر دوبارہ فیڈنگ سنٹر کی طرف چلنے لگ گیا تھا۔ تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر تھا کہ بچہ اس امدادی خوراک کے مرکز تک پہنچ سکا یا نہیں۔ اس تصویر نے جہاں دنیا بھر میں قحط کے بارے میں ہمدردی‘ شعور اور آگاہی دی وہیں یہ سوال بھی پیدا کیا کہ فوٹوگرافر نے محض تصویر لینے پر ہی اکتفا کیوں کیا‘ اس نے بچے کی مدد کیوں نہیں کی؟ لوگوں کا کہنا تھا کہ فوٹوگرافر نے ایک مرتے ہوئے بچے کو بچانے کے بجائے اس سارے منظر کی تصویر کھینچنے کو ترجیح دی جس کے ذریعے وہ شہرت سمیٹ سکتا تھا۔ اس کیلئے شہرت کا باعث بننے والی متوقع تصویر ایک بھوک سے مرتے ہوئے بچے کی زندگی سے زیادہ اہم تھی۔ اس فوٹوگرافر نے اپنا مقصد حاصل کیا اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔ ایک امریکی اخبار نے تو فوٹوگرافر کیون کارٹر کو وہاں موجود دوسرے گدھ سے تشبیہ دی۔
بعد میں کیون کارٹر کے ساتھی ژاؤ سلوا نے بتایا کہ یہ تصویر کھینچنے کے بعد کیون کارٹر بہت اداس‘ مضطرب اور رنج و ملال کے زیر اثر تھا۔ اس نے ایک درخت کے نیچے جاکر سگریٹ سلگائی اور کافی رویا۔ کیون نے بعد ازاں وضاحت کی کہ وہ ایک صحافتی مشن پر تھا اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی جانب سے تمام صحافیوں کو واضح ہدایت تھی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران قحط سے متاثرہ کسی شخص سے جسمانی طور پر قریب آنے یا چھونے کی کوشش نہ کریں۔ قحط کے دوران پھیلی ہوئی کئی متعدی بیماریاں انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ویسے بھی کسی فوٹو گرافر کیلئے یہ ممکن نہیں کہ ایسی حالت میں مبتلا ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اٹھا کر امدادی مرکزوں تک پہنچائے۔
1994ء میں کیون کارٹر کی اس تصویر کو دنیائے صحافت میں فوٹوگرافی کا سب سے بڑا معتبر اور مشہور ایوارڈ ''پلٹزر پرائز‘‘ دیا گیا۔ یہ کسی فوٹوگرافر کیلئے کامیابی‘ شہرت اور پیشہ ورانہ اکنالجمنٹ کی انتہا ہوتی ہے۔ لیکن اس انعام سے زیادہ وہ سوال کارٹر کا پیچھا کر رہا تھا کہ اس نے فوٹو کھینچنے کو بچے کی جان بچانے پر کیوں ترجیح دی۔ خانہ جنگی‘ قحط‘ بھوک اور جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث حساس ہو جانے والے کیون کارٹر کو پلٹزر پرائز ملنے کے بعد انعام یافتہ تصویر کے بارے میں اٹھنے والے سوالات نے مزید ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔ پلٹزر پرائز ملنے کے محض ساڑھے تین ماہ بعد‘ مورخہ 27 جولائی 1994ء کو کیون کارٹر نے اپنے گاڑی کے سائلنسر کے ساتھ ایک پائپ لگا کر اسے گاڑی کے اندر کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر اس کے دروازے بند کر لیے۔ گاڑی میں جمع ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ نے اس کی جان لے لی‘ تب کارٹر کی عمر محض 33 برس تھی۔
اس نے اپنے آخری خط میں لکھا ''مجھے واقعی‘ واقعی افسوس ہے۔ زندگی کا درد خوشی پر اس حد تک غالب آ گیا ہے کہ خوشی کا وجود ہی نہیں رہا۔ میں قتلوں‘ لاشوں‘ غصے اور درد کی ان واضح یادوں سے ستایا جاتا ہوں... بھوکے یا زخمی بچوں کی‘ جنونی مسلح لوگوں کی‘ اکثر پولیس کی‘ قاتل جلادوں کی...‘‘
گزشتہ کئی روز سے مجھے یہ تصویر یاد آ رہی ہے۔ حقیقت میں زندہ بچ جانے والے ایک بچے کی جان چلی جانے کے شبہے میں کیون کارٹر نے اپنی جان لے لی۔ بہرحال بچہ تو بچ گیا لیکن فوٹوگرافر نہ بچ سکا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فوٹوگرافر کا ضمیر زندہ تھا۔ ادھر ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو جائے‘ کسی کا ضمیر بہرحال نہیں جاگتا۔ جان دینا تو رہا ایک طرف‘ یہاں کوئی استعفیٰ تک نہیں دیتا۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ‘ بدانتظامی اور غفلت سے 11 بچے اور اب گزشتہ دنوں پمز میں 14 معصوموں کی جان چلی گئی‘ لیکن نہ کسی نے پہلے استعفیٰ دیا ہے اور اب ہی کوئی استعفیٰ دے گا۔ ہمارے ہاں ضمیر جاگنے کی نہ کوئی روایت ہے اور نہ ہی کوئی رواج ہے۔ یہاں صاحبِ ضمیر کوئی نہیں جبکہ گدھ ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس معاملے پر مٹی ڈالنے کیلئے حسبِ معمول دو چار معطلیاں ہوں گی‘ آگے راوی چین لکھتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...