"KMK" (space) message & send to 7575

سو جوتے اور سو پیاز… (1)

اس سال پھر وہی کچھ ہو رہا ہے جو تقریباً ہر سال نہ بھی سہی‘ تو ہر دوسرے سال ضرور ہوتا ہے۔ داد دینی پڑتی ہے ہمیں اپنی مستقل مزاجی کی کہ ہم نے برسوں کے تجربوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر ایک بار ہو تو وہ غلطی ہے‘ دوسری بار ہو تو فاش غلطی ہے‘ اگر تیسری بار ہو تو یہ باقاعدہ جرم ہے۔
اب کیا کیا جائے کہ ہم... قارئین! میری اس ''ہم‘‘ سے مراد سرکار ہے‘ آخر یہ سرکار بھی ہماری ہے‘ یہ کون سی مریخ سے آئی ہے‘ لہٰذا میں اجتماعی طور پر ہم کا صیغہ استعمال کر رہا ہوں۔ ہم نے مسلسل گزشتہ کئی عشروں سے ایک ہی جیسے معاملے میں ذلیل وخوار ہونے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ اس حوالے سے مستقل مزاجی کا ریکارڈ ہر حکومت نے مزید بہتر کیا۔ اس میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ تحریک انصاف اور غیر جمہوری قبضہ گروپ‘ سبھی شامل ہیں۔ یہ وہ حمام ہے جس میں سب کے کپڑے اترے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ اس ملک میں گندم اور چینی کے سلسلے میں حکومتی منصوبہ بندی کی مکمل ناکامی کی ایک طویل داستان ہے‘ جس کی ہر نئی قسط گزشتہ قسط جیسی ہوتی ہے۔ یکسانیت‘ بوریت اور فلاپ ہونے کے باوجود ہم نے ابھی تک نہ تو اس کہانی کا پلاٹ ہی تبدیل کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہی دکھائی دیتا ہے۔
ابھی گندم کی فصل کو مارکیٹ میں آئے تین چار ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی (اور ایک لاکھ ٹن چینی برآمد بھی کرے گی) یہ درآمد اور برآمد کا ختم نہ ہونے والا ایسا چکر ہے جسے عوام اور کسان ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں۔ حکمران مزے میں ہیں۔ درآمد کریں تو ان کی چھتری تلے پروان چڑھنے والا مافیا اپنے نوٹ کھرے کر لیتا ہے‘ برآمد کریں تو بھی سرکار کے پیارے اس میں سے اپنا مال پانی بنا لیتے ہیں۔ دور کیا جانا‘ ان میں سے بہت سارے تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس سارے چکر میں نقصان اٹھانے والے دو فریق بہرحال کسان اور عوام ہیں۔ چلیں‘ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ اگر کسی ایک فریق کو نقصان ہو اور دوسرے فریق کو فائدہ ہو جائے‘ یا کسی تیسرے فریق کو بھی نقصان ہو۔ لیکن ہمارے ہاں یہی دو فریق‘ یعنی عوام اور کسان‘ ہمیشہ سے گھاٹے میں ہیں‘ تاہم سرکار اور اس کے پیارے کاروباری لوگ‘ مل مالکان‘ درآمد و برآمد کرنے والے چودھری‘ ذخیرہ اندوز اور حکومت میں بیٹھے ہوئے فیصلہ ساز اس سارے عمل کے مشترکہ اور مستقل بینی فشری ہیں۔
مالی سال 2025-26ء میں گندم کا سرکاری پیداواری ہدف 29.7 ملین ٹن تھا‘ جبکہ اس دوران گندم کی کل ملکی پیداوار 29.61 ملین ٹن رہی۔ ہدف اور حقیقی پیداوار کے اعداد و شمار اس فقیر کے نہیں‘ یہ حکومتِ پاکستان کے ادارے سروے آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ہیں۔ اگر ہدف اور پیداوار کو دیکھا جائے تو اس میں کل فرق 0.09 ملین ٹن کا ہے۔ یہ فرق نہ ہونے کے برابر ہے‘ بلکہ تقریباً ہدف کے برابر ہی پیداوار ہوئی ہے۔ دوسری طرف گندم کی کل ملکی ضرورت تقریباً 30 ملین ٹن ہے۔ 29.61 ملین ٹن کی پیداوار کے مقابلے میں پاکستان کی گندم کی کُل ملکی ضرورت 30 ملین ٹن ہے‘ یعنی مالی سال 2025-26ء کی گندم کی پیداوار تقریباً تقریباً ملک کی ضرورت کے برابر ہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گندم کی پیداوار اور ملکی ضرورت تقریباً برابر ہے تو گندم کا حالیہ بحران‘ جو ماضی میں طلب اور رسد کے باہمی فرق کی صورت میں عام طور پر دسمبر کے بعد شروع ہوتا تھا‘ اس سال اگست میں ہی کیسے نمودار ہو گیا ہے؟ اس کی وجوہات وہی ہیں جس کے بارے میں یہ فقیر گندم کی فصل مارکیٹ میں آنے سے پہلے اور پھر اس گندم کی خریداری کے دوران حکومت کی خریداری پالیسی کی ناکامی بارے میں لکھ چکا ہے۔ اس عاجز نے تبھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ سارا معاملہ ناکامی اور خرابی کی طرف جائے گا۔
2026ء میں جب گندم کی فصل کٹ کر مارکیٹ میں آئی تو پنجاب نے (پنجاب کا نام یوں کہ گندم کی ملکی پیداوار کا بیشتر حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے اور پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ ہمیشہ سے گندم کا سب سے بڑا سرکاری خریدار رہا ہے۔ اس لیے اس ناکامی اور خرابی کی بنیادی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے) ہمیشہ کے برعکس اپنے محکمے کے ذریعے براہِ راست گندم خریدنے کے بجائے بارہ تیرہ نجی خریدار کھڑے کر دیے اور گندم کا سرکاری ریٹ 3500روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کر دیا۔ گزشتہ سال کے ڈسے ہوئے گندم کے کاشتکار کا خیال تھا کہ اس سال گندم کا سرکاری امدادی ریٹ بہرحال 4500 روپے فی چالیس کلوگرام کے لگ بھگ ہو گا کیونکہ گندم کی فی چالیس کلوگرام لاگت ہی تقریباً چار ہزار روپے بنتی ہے۔ اگر سرکار یہ ریٹ 4500 روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کر دیتی تو گندم کا بیشتر حصہ سرکاری خریداروں کو‘ خواہ وہ پرائیویٹ ہی تھے‘ مل جاتا۔ لیکن کسانوں کو برباد کرنے پر تلی ہوئی حکومت نے مارکیٹ کی صورتحال دیکھنے کے باوجود ریٹ بہتر نہ کیا لہٰذا مارکیٹ میں ملز مالکان‘ آڑھتی‘ سرمایہ کار اور ذخیرہ اندوز خریدار کے طور پر آ گئے۔ مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4300 روپے فی چالیس کلوگرام سے لے کر 4500 روپے فی چالیس کلوگرام تک چلتا رہا۔ گو کہ سرکار نے اس دوران اپنے مقرر کردہ بارہ تیرہ نجی خریداروں کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے زور زبردستی کرنے‘ ٹرک پکڑنے‘ چھاپے مارنے جیسے بوکھلائے ہوئے اقدامات کیے لیکن سرکاری چھتری تلے خریداری بہرحال نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری خریداری صفر بٹا صفر رہی۔
جب حکومت نے گندم کا ریٹ 3900 روپے اناؤنس کیا تو کاشتکاروں نے شور مچایا مگر تب حکومتی تنخواہ داروں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ سستی گندم کی خرید کا براہِ راست فائدہ عوام کو ہو گا جسے سستا آٹا ملے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ نجی شعبے نے‘ سرمایہ کار نے‘ ذخیرہ اندوز نے‘ مل مالک نے‘ آڑھتی نے اوسطاً چار ہزار پانچ سو روپے فی چالیس کلوگرام کے حساب سے گندم خرید کر ذخیرہ کر لی۔ کسان سے 4200؍ 4500 روپے میں خرید کردہ گندم تھوڑے ہی دنوں میں پانچ ہزار روپے کے لگ بھگ جا پہنچی اور اب صورتحال یہ ہے کہ نجی خرید کردہ گندم کو ذخیرہ اندوزوں نے قیمت مزید بڑھنے کے انتظار میں روک رکھا ہے۔ مارکیٹ میں گندم کی قیمت کو ایک حد میں اور طلب ورسد کو بیلنس رکھنے کیلئے صوبائی اور مرکزی حکومت اپنی ذخیرہ کردہ گندم کو مارکیٹ میں لا کر نجی خریداروں اور ذخیرہ اندوزوں کو مارکیٹ میں قیمت اور رسد پر کنٹرول حاصل کرنے سے روک دیتے تھے‘ جو اس سال نہیں ہو سکا۔
مالی سال 2025-26ء کیلئے گندم کا سرکاری پیداواری ہدف‘ گندم کی حقیقی پیداوار اور ملک کی کُل ملکی ضرورت تقریباً تقریباً برابر ہے۔ دوسرے لفظوں میں گندم کی نہ تو قابلِ ذکر کمی ہے اور نہ ہی اگست کے مہینے میں کبھی اس طرح کی صورتحال پیش آئی ہے جیسی اس سال ہے‘ اور حکومت دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ یہ درآمدی گندم نہ صرف یہ کہ 4200 سے 4300 روپے فی چالیس کلوگرام میں پڑے گی بلکہ اس سے ملک کے قیمتی زرِ مبادلہ‘ جس کے ہم پہلے ہی شدید کمی کا شکار ہیں‘ پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ اس سال بھی گندم کی بھرپور فصل کے باوجود حکومتی حماقتوں کے طفیل عوام مہنگا آٹا خریدیں گے‘ آڑھتی‘ بیوپاری‘ فلور ملز مالکان‘ انویسٹرز‘ ذخیرہ اندوز‘ امپورٹر اور ایکسپورٹر نوٹ کمائیں گے‘ گندم کا پاکستانی کاشتکار گھاٹا اور غیر ملکی کاشتکار نفع کمائے گا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی‘ ہم سو جوتے بھی کھائیں گے اور سو پیاز بھی۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...