"KMK" (space) message & send to 7575

سُکے تے مل ماہیا

اگر یہ کہا جائے کہ فی الوقت ساری دنیا کے معاملات کی خرابی میں امریکی داداگیری‘ غنڈہ گری اور جارحیت بنیادی کردار سرانجام دے رہی ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔ تاہم یہ بات ذہن میں رہے کہ امریکی صدور اور فیصلہ ساز ادارے امریکی مفادات‘ خارجہ معاملات اور قومی سلامتی کی حرکیات کو باقی دنیا کی آنکھ سے نہیں بلکہ امریکی آنکھ (جس میں اسرائیلی مفادات کا تحفظ بدرجہ اتم موجود ہے) سے دیکھتے ہیں۔ ادھر ہم ہیں جو دنیا کے ہر معاملے کو ہر بار نئی آنکھ سے دیکھنے کے عادی ہیں اور ابھی تک اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکے کہ دنیا میں روایتی دوستی اور دشمنی کا کوئی وجود نہیں۔ باہمی تعلقات کا دارومدار مفادات‘ معاشی معاملات اور نفع نقصان کی بنیاد پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اب باہمی تعلقات دراصل ایک کاروبار ہے جس میں ضرورت کے مطابق نئے شراکت دار آتے رہتے ہیں اور پرانے طاقِ نسیاں کے حوالے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکہ ہمارا دوست نہیں بلکہ ایسا کاروباری پارٹنر ہے جو ہر کام کے عوض ادائیگی کرتا ہے۔ اب یہ ادائیگی نقد ہو‘ ادھار کی صورت ہو‘ پابندیاں نرم کرنے یا اٹھانے کے حوالے سے ہو‘ تجارتی سہولتوں کی شکل میں ہو‘ عالمی معاشی اداروں کو سفارش کی صورت میں ہو یازبانی تعریف پر مشتمل ہو۔ امریکہ بہادر ہمارے ہر کام کے عوض کسی نہ کسی صورت میں معاوضہ دیتا ہے ۔وہ اس قسم کی ادائیگی کے بعد بالکل اسی طرح بری الذمہ ہو جاتا ہے جس طرح کسی کو ادائیگی کے بعد ہم اس کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا سمجھنے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ امریکہ بھی اسی طرح ہر کام کے عوض کچھ نہ کچھ دے دیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مزدوری کیا طے کی گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے کہ ہم مزدور جیسے سٹیٹس کے حامل ہیں۔ ہم نے چیزوں کو دیرپا بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے ہر کام کے لیے الگ الگ معاملات طے کیے‘ بلکہ اکثر اوقات تو یہ ہوا کہ معاوضہ طے کیے بغیر نہ صرف کام پکڑ لیا گیا بلکہ سرانجام بھی دے ڈالا۔ ظاہر ہے جب آپ بغیر معاوضہ طے کیے کوئی کام شروع کر دیتے ہیں تو اس کے اختتام پر اب یہ آجر کی مرضی کہ وہ آپ کو کیا دیتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں حماقت تو اس اجیر کی ہے جس نے معاملات کو دو طرفہ طے کرنے کے بجائے مطالبات کو پوری طرح سنے بغیر انہیں مان لیا اور شتابی سے پورا بھی کر دیا۔ اختتام پر جا کر اجرت مانگی تو پھر دینے والے کی مرضی کہ وہ کیا دیتا ہے۔
دراصل ہم نے معاہدہ نامی چیز‘ جس میں دو طرفہ مفادات کو سامنے رکھا جاتا ہے‘ نہ کبھی کیا ہے اور نہ ہمیں کرنا آتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں‘ پندرہ بیس سال پہلے پڑھی چیز کو اس عمر میں اب من و عن یاد رکھنا ممکن نہیں‘ تاہم اگر میری یادداشت مجھے دھوکا نہیں دے رہی تو مختار مسعود نے شاید اپنی کتاب لوحِ ایام میں یہ واقعہ درج کیا کہ کوئی یورپی یا امریکی وفد تجارت کا منصوبہ لے کر اسلام آباد آیا جس میں نفع انہوں نے کمانا تھا نہ کہ ہم نے۔ تو ہم لوگوں نے اس وفد کو ہاتھ سے بنے ہوئے قالین اور اس قسم کے دیگر تحائف دیے۔ یعنی جو بزنس کرنے آ رہا ہے بجائے یہ کہ وہ ہمیں ممنونِ احسان کرے ہم نے اسے ممنونِ احسان کرنے کیلئے اس کو تحفے تحائف دیے۔ آپ جس معاہدے کو چاہیں اٹھا کے دیکھ لیں آپ کو وہ یکطرفہ دکھائی دے گا۔ سیندک کی معدنیات والے معاہدے کو دیکھ لیں۔ اس معاہدے کے تحت برسوں سے وہاں کھدائی ہو رہی ہے۔ سونا‘ چاندی اور تانبا نکالا جا رہا ہے۔ کئی لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس پورے معاہدے میں پاکستان کو کیا بچا ہے؟ تو واقفانِ حال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہمالیہ سے اونچی دوستی اور کچھ رقم منافع میں بچی ہے۔ ہمارے سرکاری بابوؤں کے آئی پی پیز کے ساتھ کیا جانے والا بجلی کی خرید کا معاملہ آپ کے سامنے ہے۔ ان معاہدوں کو پڑھیں تو لگتا ہے کہ یہ معاہدے دوطرفہ نہیں بلکہ یکطرفہ ہیں جس میں ہر شق آئی پی پیز کے فائدے کی دکھائی دیتی ہے۔ انہی معاہدوں کے طفیل آج ہم سرکلر ڈیٹ اور خطے کی سب سے مہنگی بجلی کو بھگت رہے ہیں۔ کپیسٹی چارجز اور ڈالروں میں ادائیگی ان معاہدوں کی ایسی شق ہے جس نے پوری قوم کی معیشت کو آئی پی پیز کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ غرض آپ جس معاہدے کو دیکھ لیں اس میں اگر ایک فریق پاکستان ہے تو یہی فریق نقصان میں ہوگا۔ عالمی سطح کے معاہدے تو بہت بڑی بات ہیں‘ ہم نے آج تک جو تجارتی معاہدے کیے‘ جو نجی کمپنیوں سے معاہدے کیے‘ ہر معاہدہ ایسا ہے جس میں نقصان ہمارے ذمے آیا اور فائدہ فریقِ ثانی کے حصے میں۔
جب افغانستان میں روس آیا تب امریکہ میں صدر جمی کارٹر تھے۔ انہوں نے جب پاکستان کو اس معاملے میں فرنٹ لائن سٹیٹ بنانے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کو دیے جائے والے معاوضے اور سہولتوں کو سن کر صدر ضیاالحق نے امریکی صدر جمی کارٹر کے مونگ پھلیوں سے وابستہ کاروبار کے حوالے سے اس امریکی امداد کو ''پی نٹ‘‘ یعنی مونگ پھلی سے تشبیہ دی کہ یہ امریکی امداد مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے۔ اُس وقت پاکستان نے افغانستان میں داخل ہونے والے سوویت روس کے خلاف امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے عوض مالی اور دفاعی امداد کے علاوہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو چلانے کیلئے امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کو ختم کرایا اور ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ کی جانب سے آنکھیں بھی بند کرائے رکھیں۔ تاہم اتنے بڑے کام کے عوض وہ اور بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے‘ لیکن اب یہ قصۂ ماضی ہے۔
یہ معاملہ تو بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں پشاور کے ہوائی اڈے پر امریکی جہازوں کو دی جانے والی سہولتیں اور بڈھ بیر کے اڈے کا قیام۔ ہمارے ایک نہایت باعلم دوست کے مطابق روس میں گرایا جانے والا امریکی جہاز U-2 پشاور سے نہیں بلکہ کسی اور ہوائی اڈے سے اڑا تھا‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے روس کی جاسوسی کا مرکز صرف پشاور نہیں تھا اس کے علاوہ بھی ہوائی اڈے امریکہ کے زیر تصرف تھے۔ ہم بھولے لوگ ہیں‘ معاوضے پہ کام کرنے کے بعد اسے دوستی تصور کرتے ہوئے امریکہ سے امیدیں وابستہ کرنے کے عادی ۔ بھلا وہ ہمارے لیے کسی پھڈے میں کیوں کودے گا‘ سو ہم 1971ء میں امریکی ساتویں بحری بیڑے کا انتظار کرتے رہے جو آج تک مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ نائن الیون کے بعد رچرڈ آرمٹیج کے مطالبات اور پاکستانی حکمرانوں کا تابعداری سے ان مطالبات کو ماننا‘ یہ تو حال ہی کی بات ہے۔ تاہم سب سے مزیدار صورتحال آج کل چل رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں کسی نقصان دہ قسم کے معاہدے کا سامنا نہیں۔ ایک طرف امریکی صدر زبانی کلامی ہمیں خوش کر رہا ہے اور جواباً ہم اس کا نام امن کے نوبیل انعام کیلئے پیش کر کے نمبر بنا رہے ہیں۔ ہمیں بیشک اس میں کچھ بھی نہیں بچ رہا لیکن تاریخ میں پہلی بار ہمارے پلّے سے بھی کچھ نہیں جا رہا۔ اسے پنجابی میں ''سُکے تے مل ماہیا‘‘ کہا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...