لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

پنجاب یونیورسٹی میں دوبارہ الیکشن کا ہنگامہ شروع ہو گیا تھا۔ 1971ء کے اس الیکشن میں بھی مخالف فریق کی طرف سے جہانگیر بدر مرحوم کو دوبارہ صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اب ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو رہی تھی اور ہمارے مخالفین کے درمیان ہر شخص یہ امید کر رہا تھا کہ یہ میدان حکومتی نمائندے مار لیں گے۔ کئی دنوں کی صبرآزما اور کٹھن انتخابی مہم کے بعد انتخابات ہوئے تو اسلامی جمعیت طلبہ کا پورا پینل جیت گیا۔ میری ذمہ داری خصوصی طور پر سیکرٹری کے امیدوار‘ جناب جاوید ہاشمی کی مہم کو منظم کرنا اور ان کے حق میں فضا پیدا کرنا تھی۔ الحمدللہ! اس مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ مارجن کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ نے کامیابی حاصل کی۔
جہانگیر بدر صاحب کے لیے پہلی شکست بھی ایک منفی تاثر پیدا کرتی تھی‘ نیز حفیظ خان کے خلاف ایک سال پیشتر جو سازش ہوئی تھی‘ اس نے ان کے حق میں مثبت تاثر پیدا کر کے طلبہ و طالبات کے درمیان ان کی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا۔ وہ پہلے بھی بہت مقبول طالب علم لیڈر شمار ہوتے تھے۔ ان کا پورا پینل شاندار کامیابی کے ساتھ سرخرو ہوا اور مخالف بری طرح پٹ گئے۔ ہماری معلومات کے مطابق بھٹو صاحب کو بھی ان نتائج سے خاصی مایوسی ہوئی اور انہوں نے اپنی ٹیم کی خوب کلاس لی۔ گزشتہ انتخابات میں افتخار تاری کے ساتھ پیپلزپارٹی کی ایک ٹیم سرگرم عمل رہی تھی مگر اس سال تو بہت سے حکومتی کارندے بھی اس خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ انتخابی نتائج کا اعلان ہونے پر مجھے تمام دوستوں اور سیاسی حامیوں نے بہت مبارکباد دی۔ میں انتخابات کے بعد گائوں چلا گیا اور وہاں جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے درخواست دی جو جلد منظور ہو گئی۔ اب ضلعی جماعت نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں ضلعی دفتر میں ذمہ داریاں سنبھالوں۔ میں نے معذرت کی مگر والد صاحب نے حکم دیا کہ قیادت کی تجویز پر عمل کرو۔ اس وقت ضلع کے امیر شیخ ظہور احمد مرحوم تھے۔ سابق امیر ضلع چودھری سلطان احمد ناظم مالیات اور ملک محمد شریف قیم تھے۔ ان کے ساتھ قاضی محمد شریف نائب قیم کے طور پر سرگرمِ عمل تھے۔ ان تمام احباب کے حالاتِ زندگی عزیمت کے راہی میں محفوظ کیے گئے ہیں۔
اسی عرصے میں 16دسمبر 1971ء کو پاکستان کی تاریخ کا وہ دردناک ترین سانحہ رونما ہوا جسے آج تک بھی بھلایا نہیں جا سکا۔ بھارتی فوجیں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجوں کے مقابلے پر مکتی باہنی (عوامی لیگ کے مسلح گروپ) کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہی تھیں۔ اس جنگ میں پاکستان کی بقا کے لیے البدر اور الشمس کے رضاکار نوجوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان کی قربانیوں کے باوجود بدقسمتی سے مغربی پاکستان سے رابطہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے ہماری فوج بے بس ہو گئی اور بالآخر 16دسمبر 1971ء کا منحوس دن آ گیا۔ قومی تاریخ کا یہ دردناک ترین لمحہ تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہزاروں فوجی اور سویلینز‘ جن کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا‘ بھارت کے جنگی قیدی بن گئے۔ البدر اور الشمس کے رضاکار قتل عام کا شکار ہوئے۔ ہر جانب ان کی لاشیں بکھر گئیں اور ان کے خاندانوں کو بھی بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔البدر اور الشمس کے نوجوان اسلامی جمعیت طلبہ (اسلامی چھاترو شنگھو) کے تربیت یافتہ تھے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے تمام مرکزی‘ صوبائی اور علاقائی رہنمائوں سے میرے ذاتی روابط اور تعلقات رہے تھے۔ اُس دن پوری پاکستانی قوم غم سے نڈھال تھی مگر تحریک اسلامی کے کارکنان اور قائدین کے دلوں پر تو مسلسل آرے چل رہے تھے۔ اُس روز میں اپنے گائوں میں تھا۔ دن بھر میں ایک کمرے میں بیٹھا مختلف مناظر کو یاد کر کے روتا رہا۔ کسی وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور اپنے بھائیوں کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے کرتے آنکھ لگ جاتی مگر کیفیت یہ تھی کہ آنکھ لگنے کے بعد بھی دردناک مناظر آنکھوں کے سامنے بار بار آتے اور آنکھ کھل جاتی۔ ہمارے گھر کے سب لوگ پریشان تھے۔ یہ جمعرات کا دن تھا۔ جیسے کیسے دن گزرا اور رات آئی تو وہ رات بھی بڑی بھاری تھی۔ ایک ایک لمحہ پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔اگلے روز جمعۃ المبارک کے لیے تیاری کی ۔ ہینڈ پمپ کے تازہ پانی سے غسل کیا۔ کوئی چیز کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ پھوپھی جان اور والدہ محترمہ کے پیار اور محبت کے طفیل بادلِ نخواستہ معمولی سا ناشتہ کیا اور دھوپ میں بیٹھ کر خیالات میں گم ہو گیا۔ میرے بہن بھائی سبھی بہت پریشان ہوئے۔ مسجد سے اذان کی آواز آئی تو تجدیدِ وضو کے بعد مسجد چلا گیا۔ کچھ نمازی آ چکے تھے اور مزید آ رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد تایا جان مرحوم نے کہا: ادریس! اٹھو وقت ہو گیا ہے‘ تقریر کرو اور پھر خطبہ دے کر جمعہ پڑھائو۔ میں بے سوچے سمجھے ان کے حکم پر اُٹھ کر منبر پر بیٹھ تو گیا مگر خطبۂ مسنونہ کے چند الفاظ ادا کیے تو میری زبان رک گئی اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میرے لیے مزید ایک لفظ کہنا بھی محال ہو گیا۔ ایک منٹ یونہی گزر گیا۔ سب نمازی حیران تھے‘ اسی اثنا میں تایا جان اپنی جگہ سے اُٹھ کر آئے اور محبت سے مجھے اشارہ کیا کہ میں منبر سے نیچے اتر جائوں۔ میں غم کے سمندر میں مسلسل غوطے کھا رہا تھا۔ تایا جان شفقت کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے خطاب کیا اور اس میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے مظالم‘ تحریک اسلامی کی قربانیوں اور آنے والے وقت کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ ان کے خطاب کے دوران میں اپنی گرم چادر اوڑھے رو رہا تھا۔ میری چادر اشکوں سے بھیگ گئی تھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سب نمازی مجھ سے ملنے لگے اور ہر ایک مجھے تسلی دینے لگا۔ بزرگ میرے سر پہ بار بار ہاتھ پھیرتے اور نوجوان مجھے گلے لگا کر میرے ساتھ روتے رہے۔ ایک نمازی بابا محمد علی ٹھیکیدار تھے‘ وہ میرے ساتھ اس وقت سفر کرتے تھے جبکہ میں اپنی سائیکل پر سکول کی طرف جا رہا ہوتا اور وہ اپنی سائیکل پر ٹھیکیداری کے لیے نہری بنگلے کی طرف رواں دواں ہوتے۔ دوستی اس زمانے میں ہی ہو گئی تھی مگر بعد میں تو بہت ہی زیادہ قریبی تعلق قائم ہو گیا۔ وہ بار بار تایا جان سے پوچھتے: حافظ جی! یہ ادریس کو کیا ہو گیا ہے؟ اس طرح تو کبھی پہلے اس کی حالت نہیں دیکھی۔ تایا جان نے انہیں بتایا کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے‘ اس کے نتیجے میں اس کے ہزاروں بنگالی ساتھی جن سے اس کا قریبی تعلق ہے‘ مصیبت اور امتحان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ نجانے کتنے شہید ہو گئے اور کتنے ظلم کی چکی میں‘ جیلوں میں پس رہے ہیں۔ ان محبوب تحریکی دوستوں کو یاد کر کے اس کی یہ کیفیت ہوئی ہے۔ اُن دنوں کی یادیں اب بھی دل کو تڑپا دیتی ہیں۔
عبدالمالک شہید کے بعد کتنے ہی ساتھی شہادت کی وادی میں اُتر گئے۔ شاہ جمال چودھری‘ مصطفی شوکت عمران‘ محمد یونس‘ مطیع الرحمان نظامی‘ معین الدین چودھری‘ غلام سرور۔ جماعت اسلامی کے تمام قائدین جو بعد میں پھانسی کے پھندے پر لٹکائے گئے‘ یہ سبھی شہدا اور غازیان بار بار آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں!! اللہ سب کے درجات بلند فرمائے۔ظلم کی دیوی حسینہ واجد کو اللہ نے بالآخر اقتدار سے محروم کر کے جس ذلت و رسوائی سے دوچار کیا ہے‘ دنیا بھر کے ظالم اس سے عبرت حاصل کریں۔ مگر ہماری ایسی سوچ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے ''ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘۔ ہر ظالم سمجھتا ہے کہ میرا قلعہ مضبوط ہے مگر مالکِ حقیقی کا حکم آ جائے تو کہیں پناہ نہیں ملتی!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...