جیل میں شورش کاشمیری سے ملاقات

جیل کے اندر اُس ایک سال کے عرصے میں مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ سخت گرمیوں کے موسم میں ایک بار شدید بخار ہو گیا۔ جیل کے ڈاکٹر سے چیک اَپ کرایا تو انہوں نے ملیریا تشخیص کیا۔ دوائیں لکھنے کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ قیدی کو کم از کم ایک ہفتے کے لیے (جیل کے) ہسپتال میں داخل کر دیا جائے۔ اُس زمانے میں یہ بیماری کافی ہولناک سمجھی جاتی تھی۔ پے بہ پے سیلابوں سے بھی صورتحال خراب ہو جاتی۔ اگرچہ ساٹھ کی دہائی میں ورلڈ بینک کے تعاون سے ملیریا پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا مگر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ اس پر قابو بہت بعد میں جا کر پایا گیا۔ ہسپتال میں وہ ایک ہفتہ بہت سکون سے گزرا۔ ڈاکٹر کا نام تو یاد نہیں مگر ان کا دوستانہ رویہ اور شیریں کلامی اب تک یاد ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ کو مزید یہاں رہنا ہے تو اس کی گنجائش موجود ہے۔ میں نے کہا کہ اگر یہ میرا استحقاق ہے تو مجھے مزید قیام کی اجازت دے دیجیے۔ چنانچہ مزید دو ہفتے ہسپتال میں قیام رہا۔ تاہم اس دوران ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے ہسپتال سے نکل کر مختلف بیرکوں میں اپنے دوست احباب سے ملاقاتوں کا اہتمام کرتا رہا۔
الحمدللہ! اب جیل میں دوستوں کا وسیع حلقہ پیدا ہو گیا تھا‘ جن میں ہر علاقے کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ مختلف کیسوں میں یا تو حوالاتی تھے اور یا سزا یافتہ قیدی۔ اکثر لوگ باہمی خاندانی دشمنیوں کی وجہ سے قتل مقاتلے کے کیسوں میں ملوث تھے۔ ان میں سے سجاول وٹو اور اس کے رشتہ دار مراد اور شیرا وغیرہ اب تک یاد ہیں۔ سجاول کا تعلق ضلع فیصل آباد کے کسی گائوں سے تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ مجھ سے ملنے کیلئے منصورہ آتا رہتا۔ ذاتی دشمنی کی وجہ سے اس سے قتل ہو گیا۔ بہت باصلاحیت شخص تھا مگر خاندانی اور جاہلی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ساہیوال سینٹرل جیل میں اب کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ اکثر و بیشتر قیدی مجھ سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ بڑی محبت اور احترام کے ساتھ ملتے تھے‘ جیسے مدتوں کی دوستی یا قریبی تعلق داری ہو۔ اسی طرح جیل کا عملہ بھی بہت عزت سے پیش آتا تھا۔ اس دوران ملک بھر میں عام انتخابات کی مہم زوروں پر تھی۔ یہ مہم تقریباً آٹھ نو ماہ جاری رہی تھی۔ جماعت اسلامی نے ملک کے دونوں حصوں‘ مشرقی و مغربی پاکستان میں کافی سیٹوں پر اپنے نمائندے کھڑے کیے تھے۔ ساہیوال میں بھی جماعت انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔ ملک کے معروف صحافی اور شعلہ نوا خطیب جناب شورش کاشمیری جماعت کے باقاعدہ رکن اور کارکن تو نہیں تھے مگر زبردست حامی اور مولانا مودودی کے مدّاح ضرور تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے مختلف انتخابی اور عوامی جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔ ساہیوال میں ایک جلسے میں ان کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام کے مطابق وہ ساہیوال آئے جہاں رات کو جلسۂ عام تھا۔
یہ اتوار کا دن تھا۔ عصر کے قریب میرے پاس جیل کا ایک کارندہ آیا اور پیغام دیا کہ میری ملاقات آئی ہے۔ میں نے کہا کہ آج تو اتوار ہے‘ اتوار کو کیسے ملاقات آئی ہے؟ چھٹی کے دن کسی ملاقات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے کہا کہ جناب آپ کے ملاقاتی جو آئے ہیں ان کی آمد سے جیل کے در و دیوار ہل کر رہ گئے ہیں۔ داروغۂ جیل جناب عثمانی صاحب خود اپنے گھر سے دفتر آ گئے ہیں اور آپ کے ملاقاتی سے بڑے ادب و احترام سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مجھے انداز ہ نہیں تھا کہ یہ ملاقاتی کون ہے۔ میں کارندے کے ساتھ ڈیوڑھی میں پہنچا اور پھر داروغہ صاحب کے دفتر میں داخل ہوا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شورش کاشمیری وہاں تشریف فرما تھے۔مجھے دیکھتے ہی شورش صاحب بڑی محبت سے اٹھ کر میری طرف بڑھے اور اپنے مخصوص انداز میں میرے ساتھ بغلگیر ہو گئے۔ ان کا وہ محبت بھرا معانقہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے چائے‘ نمکو‘ کیک اور بسکٹ منگوائے اور شورش صاحب سے معذرت کی کہ وہ زیادہ خدمت نہیں کر سکے۔ شورش صاحب نے قہقہہ لگایا اور پھر کہا: عثمانی صاحب! کوئی بات نہیں‘ اس جیل میں میری بہت زیادہ خدمت کی جاتی رہی ہے۔ مرحوم کا اشارہ ان عقوبتوں اور سختیوں کی طرف تھا جن سے ساہیوال جیل میں قید کے دوران مسلسل ان کو سابقہ پیش آتا رہا۔ اپنی کتابوں میں بھی شورش نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔چائے کے دوران شورش صاحب نے کہا کہ ابھی تمہارے بارے میں عثمانی صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ تم بہت عجیب بلکہ ''ضدی‘‘ نوجوان ہو۔ معافی اور رہائی کی پیشکش کو تم نے ٹھکرا دیا ہے۔ پھر ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے انہیں بتایا ہے کہ سید مودودی کی فکر جس شخص کے دل ودماغ میں رچ بس جائے وہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کر سکتا۔ شورش صاحب نے اپنے بھی واقعات سنائے اور کئی امور پر ایک گھنٹہ بھر کی اس انتہائی شیریں نشست میں روشنی ڈالتے رہے۔ مرحوم کی عزیمت و استقامت اپنی مثال آپ تھی۔
جماعت اسلامی ساہیوال کے ایک بزرگ رہنما چودھری بشیر احمد مرحوم اور کچھ دیگر جماعتی ساتھی بھی شورش صاحب کے ہمراہ تھے۔ سب بڑی محبت و اپنائیت کے ساتھ گلے ملے۔ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے درجات بلند فرمائے۔ رہائی کے بعد ایک مرتبہ پاک ٹی ہائوس کی ادبی مجلس میں شورش صاحب اور بعض دیگر احباب بیٹھے تھے کہ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ شورش صاحب نے محبت بھرے انداز میں جیل میں مجھ سے مذکورہ بالا ملاقات کا تذکرہ کیا‘ جس سے سب دوست بہت محظوظ ہوئے۔
جیل میں ماہِ رمضان المبارک 1390ھ کی آمد سے قبل مجھے فکرمندی تھی کہ میں اپنی چکی میں بند ہوں گا تو قرآن پاک تراویح میں سنانے کا اہتمام نہیں ہو پائے گا۔ ایک قیدی دوست فضل کریم شاد نے تجویز دی کی کہ میں سپرنٹنڈنٹ صاحب سے اجازت لے لوں کہ مجھے رمضان کے دوران ایک بیرک میں منتقل کر دیا جائے تاکہ وہاں تراویح میں قرآن سنانے کا اہتمام ہو سکے۔ میں نے درخواست دی تو مجھے ایک بیرک میں منتقل کر دیا گیا۔ اس بیرک میں قیدیوں کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ تھی۔ اس ماہِ رمضان میں‘ جو یکم نومبر 1970ء کو شروع ہوا‘ میں نے تراویح میں پورا قرآن مجید سنایا اور ہر روز خلاصہ مضامینِ قرآن بھی بیان کرتا۔ بیرک میں مقیم قیدیوں کی بڑی تعداد نماز ِتراویح میں شریک ہوتی۔ بعض آٹھ تراویح پڑھ کر اپنے اپنے بستر پر چلے جاتے۔ پندرہ بیس نمازی ایسے تھے جو خلاصہ قرآن سن کر ہی اٹھتے تھے۔ بیرک کے اندر نماز تراویح کیلئے جس انداز میں صفیں بچھانے کا اہتمام کیا گیا وہ بھی بڑا کمال تھا۔ جگہ کی کمی کے باوجود بڑے سلیقے کے ساتھ صفیں بچھائی جاتیں۔ وہ رمضان واقعی یادگار تھا۔ قرآن کی ہر سورت اور ہر آیت کا لطف اب تک یاد ہے مگر جس روز سورۂ یوسف کی تلاوت ہوئی‘ اس کا تو ایسا سماں تھا کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ اسی طرح آخری تراویح میں قرآن کی تکمیل اور دعا کے لمحات کی بھی ایک منفرد شان تھی۔ اللہ ان سب ساتھیوں کو اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے جو اُن سارے مراحل کا حسن تھے۔ ایک خوشگوار اور یادگار بات یہ ہے کہ یہ نمازی مسلکی اختلافات کے باوجود نماز تراویح میں یکساں شوق و محبت کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ مغرب اور فجر کی نمازیں بھی باجماعت ادا ہوتی تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...