1970ء کے الیکشن کی انتخابی مہم سال بھر جاری رہی۔ شیڈول کے مطابق ملک بھر میں قومی اسمبلی کا الیکشن 10دسمبر 1970ء کو ہوا اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 17 دسمبر کو منعقد ہوئے۔ انتخابات کے نتائج سے معلوم ہو چکا تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو بہت بڑی کامیابی ملی ہے اور مغربی پاکستان میں بحیثیت مجموعی پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری ہے۔ انتخابی نتائج آنے پر بھٹو صاحب نے جماعت اسلامی کو نشانۂ تنقید بناتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میں فکس اَپ کر دوں گا! خیر ہمیں ایسی دھمکیوں سے کیا لینا دینا تھا۔
ان انتخابات میں جماعت اسلامی کو مرکز میں صرف چار اور ہر صوبائی اسمبلی میں‘ بشمول مشرقی پاکستان (سوائے بلوچستان کے) صرف ایک ایک نشست پر کامیابی ملی۔ اس صورتحال پر میں اور جیل میں قیام کے دوران ہمارے حلقے میں شامل ہونے والے تمام قیدی بھائی کافی غمزدہ تھے۔ میں نے اپنے سب ساتھیوں کو حوصلہ دینے کی مقدور بھر کوشش کی اور پیپلز پارٹی کے حامیوں سے ٹکرائو کے بجائے انہیں مبارکباد اور خیر سگالی کا پیغام دیا۔ اس پر فریقین کے ہر شخص کا مثبت تاثر سامنے آیا۔ 17دسمبر کی رات کو تقریباً دس بجے جیل حکام میرے پاس بیرک میں آئے اور کہا کہ آپ کی رہائی کے احکامات آ چکے ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ میں کل چلا جائوں گا۔ جواب ملا کہ جیل قواعد وضوابط کے مطابق آپ کو ایک گھنٹہ مزید رکھنا بھی ممکن نہیں۔ جیل میں حکام کی اپنی مجبوریاں تھیں اور میرے لیے رات کے وقت اچانک جیل سے نکلنے کے اپنے مسائل تھے۔ بحث وتکرار کے دوران میں نے کہا کہ رات کے اس وقت میں کہاں جائوں گا۔ کہا: آپ پریشان نہ ہوں‘ ملازمین میں سے کسی کے گھر رہائش کا بندوبست ہو جائے گا۔ بیرک کے قیدی جو سو رہے تھے‘ اس بحث مباحثے کے نتیجے میں جاگ اٹھے۔ افسران نے یہ بھی کہا کہ دفتر کے کسی کمرے میں بستر لگا دیتے ہیں۔ میں نے کہا: مجھے یہ تجویز منظور نہیں۔ پھر کہا: آپ کیلئے ہم تانگہ منگوا دیتے ہیں‘ آپ ٹرین یا بس سے اپنے گھر چلے جائیں۔ میں نے سوچا کہ اب مزید تکرار اور بحث سے کچھ حاصل نہ ہو گا اس لیے کہا کہ یہ ٹھیک ہے‘ تانگہ منگوا دیجیے۔ چنانچہ دوستوں سے ملتے ملاتے اور جیل سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے۔ 1970ء میں ساہیوال جیسے شہر میں دسمبر کی راتوں میں نو دس بجے کے بعد ایسا سناٹا چھا جاتا تھا کہ وہ محاورہ عملی شکل میں نظر آتا ہے کہ یہاں تو جن پھر گیا ہے۔
جب میں تانگے میں بیٹھا تو کوچوان نے پوچھا: کہاں جائیں گے؟ میں نے جماعت اسلامی کے دفتر بیری والاچوک کا پتا بتایا۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم دفتر پہنچ گئے۔ ایک ہُو کا عالم تھا۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو قدرے تاخیر سے دروازہ کھلا۔ ناظم دفتر سید منور حسین بخاری صاحب آنکھیں مَلتے ہوئے دروازہ کھول کر حیران و پریشان ہو کر میری طرف دیکھنے لگے۔ علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ آپ اس وقت کیسے آئے ہیں؟ میں نے ازراہِ مذاق سرگوشی کے انداز میں کہا: شور نہ کیجیے‘ میں جیل سے نکل کر تانگے میں بیٹھا اور وہاں سے بھاگ آیا۔ یہ سن کر وہ مزید گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ پیر اشرف صاحب کو بھی بتا دوں ؟ میں نے کہا کہ پیر صاحب کو تکلیف نہ دیں‘ میرے پیر آپ ہی ہیں۔
پیر محمد اشرف صاحب اُس وقت جماعت اسلامی ساہیوال کے ضلع امیر تھے۔ بعد میں مولانا فتح محمد صاحب کے ساتھ قیم جماعت اسلامی صوبہ پنجاب بھی رہے۔ وہ دفتر کی بالائی منزل میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے۔ بخاری صاحب نے کھانے کا پوچھا مگر میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ بس ایک گرم بستر چاہیے‘ چنانچہ انہوں نے فوراً چارپائی بچھا کر بستر لگا دیا۔ وہ عجیب مخمصے اور تجسس میں تھے۔ جب میں چارپائی پر رضائی اوڑھ کر لیٹا تو پھر سے میرے پاس آ کر سرگوشی کے انداز میں پوچھا کہ آپ جیل سے کیسے بھاگے؟ میں نے کہا کہ صبح بتائوں گا۔ کہنے لگے: میں صبح تک تجسس اور فکرمندی میں پریشان رہوں گا۔ اب میری ہنسی چھوٹ گئی لہٰذا ان کو بتا دیا کہ میری رہائی کے احکام آ چکے تھے۔ چونکہ میری قید کی مدت پوری ہو چکی تھی‘ اس لیے جیل والوں نے رات ہی کے وقت زبردستی مجھے جیل سے نکال دیا۔ اس پر کہنے لگے: آپ کی قید کو سال پورا ہوگیا۔ میں نے کہا: جی ایسے ہی ہے۔ بعد میں کبھی کبھار ہم اس واقعے کو یاد کرتے تو بخاری صاحب اس پر ہنسنے لگتے۔ منور حسین بخاری کچھ ہی عرصہ کے بعد ساہیوال سے مرکز منصورہ آ گئے۔ یہاں ان کی ذمہ داری صوبائی دفتر میں لگی۔ انہوں نے مولانا فتح محمد مرحوم (سابق امیر جماعت صوبہ پنجاب) اور پھر میرے اور میرے بعد لیاقت بلوچ صاحب کے ساتھ سالہاسال ناظم دفتر کے طور پر ذمہ داری ادا کی۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے‘ بڑی خوبیوں کے حامل تھے۔ مرحوم کے حالات ہماری کتاب ''عزیمت کے راہی‘‘ (جلد پنجم) میں درج ہیں۔
فجر کی نماز پر پیر محمد اشرف صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہیں سارے حالات بتائے۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ پیر صا حب نے میری رہائی کی اطلاع لاہور بھجوائی‘ ٹرین پر بکنگ کرائی اور پُرلطف ناشتے کا اہتمام کیا۔ اتفاق سے اسی ٹرین پر کراچی کی طرف سے آتے ہوئے ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ برادرم مطیع الرحمن نظامی (شہید) بھی لاہور جا رہے تھے (جنہیں مئی 2016ء میں بنگلہ دیش کی ظالم حسینہ واجد حکومت نے 73 برس کی عمر میں پھانسی کی سزا دی تھی)۔ ساہیوال سٹیشن پر جمعیت کے ساتھی ان کے استقبال کیلئے جمع تھے اور ساتھ ہی مجھے الوداع کہنے کیلئے بھی کئی احباب آ گئے تھے۔
ساہیوال سے لاہور تک کا سفر بڑا یادگار تھا۔ برادر مطیع الرحمن کے ساتھ کئی سالوں سے قریبی تعلق تھا۔ مجھے گلے لگا کر بہت پیار دیا‘ فرطِ جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ راستہ بھر مختلف امور و مسائل پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ یوں لگا کہ تین گھنٹے کا سفر منٹوں میں طے ہو گیا ہے۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی پہنچی تو ساتھیوں نے ناظم اعلیٰ کا بھرپور استقبال کیا اور درویش کو بھی اپنی محبتوں سے نوازا۔ نعروں کی گونج نے سٹیشن پر موجود سب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ریلوے سٹیشن سے ہم سیدھے 5۔اے ذیلدار پارک‘ اچھرہ پہنچے۔ شام کا وقت ہو چکا تھا۔ مولانا مودودی اور دیگر قائدین نمازِ مغرب کیلئے تیار ہو چکے تھے۔ مولانا نے راقم کو گلے لگایا اور بہت پیار سے نوازا جس کی شیرینی آج تک رگ رگ میں رچی بسی ہے۔ اللہ مرشد کے درجات بلند فرمائے‘ آپ حقیقی مربی تھے۔ لاہور میں ایک دن قیام کے بعد اگلے روز میں گھر کی طرف روانہ ہوا اور شام تک گھر پہنچ گیا۔ اخبارات سے تمام اہل و عیال اور گائوں کے لوگوں کو میری رہائی کی اطلاع مل چکی تھی۔ یہاں بھی بھرپور استقبال ہوا۔ دو تین دن مسلسل مجلسیں لگتی رہیں۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ جمعیت کا ایک وفد لاہور سے آیا۔ وہ یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ یونیورسٹی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور جمعیت نے اس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے‘ تاہم ہمارے صدارتی امیدوار حفیظ خان اور ان کے گھر والے ابھی تک الیکشن میں حصہ لینے پر آمادہ نہیں ہو رہے۔ احباب کا خیال تھا کہ میری کاوش سے یہ عقدہ حل ہو جائے گا۔
والد صاحب اور تمام گھر والوں کے سامنے یہ صورتحال رکھی اور ان سب سے اجازت لے کر میں لاہور روانہ ہو گیا۔ اس موقع پر گائوں کے بعض سادہ لوح افراد کا تبصرہ یہ تھا کہ ابھی ایک سال قید کاٹ کر رہا ہوا ہے اور اب پھر اسی طرف بھاگا جا رہا ہے۔ خیر لاہور پہنچ کر حفیظ خان صاحب اور ان کے گھر والوں سے ایک دو ملاقاتوں کے بعد ان کی رضامندی حاصل ہو گئی۔ اس کٹھن کام میں ہمارے قریبی دوست افتخار فیروز نے بڑا کردار ادا کیا۔ افتخار فیروز مرحوم کے حالات ہماری کتاب ''عزیمت کے راہی‘‘ (جلد ہفتم) میں محفوظ ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments