فیول ریلیف، زرمبادلہ ذخائر اور کپاس

حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے فیول ریلیف پیکیج کے تحت موٹر سائیکل، رکشوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کو پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹررعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل‘ رکشہ اور چنگ چی والے افراد ماہانہ بیس لیٹر تک رعایتی پٹرول حاصل کر سکتے ہیں جس سے انہیں دو ہزار روپے ماہانہ تک ریلیف ملے گا جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان تیس لیٹر تک پٹرول پر سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومتی اطلاعات کے مطابق بیس ستمبر تک تقریباً 22لاکھ افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے اور تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے جن میں سے سات لاکھ کے قریب ٹوکن ریڈیم ہو چکے ہیں۔ اب بیس سال پرانی موٹر سائیکلوں‘ رکشوں اور چنگ چی کو بھی پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ 75 ارب روپے کے بجٹ سے تقریباً ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ افراد کے مستفید ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے‘ جن میں موٹر سائیکلوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً تین کروڑ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔ مگرسوال یہ ہے حکومت نے ایک کروڑ مستحق موٹرسائیکل صارفین کا تخمینہ کس معیار اور ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا ہے؟ یہ سکیم لوگوں کوکسی قدر ریلیف ضرور فراہم کر سکتی ہے تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا حکومت طویل مدت تک اس مالی بوجھ کو برداشت کر پائے گی؟ پاکستان ہر سال تقریباً سترہ ارب ڈالر کا تیل درآمد کرتا ہے‘ یعنی ہم اپنی کُل ملکی برآمدات کا تقریباً پچاس فیصد زرمبادلہ تیل پر خرچ کر دیتے ہیں۔ اس لیے سبسڈی مستقل حل نہیں بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع‘ ایندھن کی بچت اور سولر جیسی مقامی توانائی پیداوار میں اضافہ ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 26 ارب 79 کروڑ ڈالر ہیں جو ایک ہفتہ پہلے 23 ارب 71 کروڑ ڈالر تھے۔ یعنی ایک ہفتے میں ذخائر میں تقریباً تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب 32 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 21 ارب 38 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر پانچ ارب 40 کروڑ ڈالر ہی رہے۔ اس سے پہلے ستمبر 2021ء میں یہ ذخائر تقریباً 27 ارب ایک کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 21 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچے ہیں۔ مجموعی زرمبادلہ کی 26.8 ارب ڈالر کی سطح تقریباً پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ موجودہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی تقریباً تین ارب ڈالر کی رقم ہے۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا 27 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان کی معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنا سکتا ہے؟ اس کا جواب صرف زرمبادلہ کے ذخائر اور ان میں موجود بڑی رقم دیکھ کر نہیں دیا جا سکتا۔ اگر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر قرض‘ بانڈ یا دیگر بیرونی فنانسنگ سے ہو اور دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ دوبارہ بڑھنے لگے تو کچھ عرصہ بعد اضافی رقم واپس بیرون ملک چلی جاتی ہے۔ اس لیے اصل معاشی کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنے ذخائر میں اضافہ برآمدات‘ ترسیلاتِ زر‘ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پیداواری معاشی سرگرمی کے ذریعے کرے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی ہے کہ ملک کو اپنی درآمدی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑی مقدار میں زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔ تیل‘ مشینری‘ صنعتی خام مال‘ کیمیکل اور دیگر ضروری اشیا کی درآمد کیلئے ہر سال اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر برآمدات میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہوا تو ذخائر میں وقتی اضافہ طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
کپاس کی فصل رواں سیزن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 15 ستمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 23 لاکھ 88 ہزار 682 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 20 لاکھ 4 ہزار 384 گانٹھیں آئی تھیں۔ یعنی ابتدائی طور پر 19.17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پنجاب میں گانٹھوں کی آمد آٹھ لاکھ 60 ہزار 942 جبکہ سندھ میں 15 لاکھ 27 ہزار 740 گانٹھیں رہی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ صرف ضلع سانگھڑ میں آٹھ لاکھ 88 ہزار 607 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں‘ جو پورے پنجاب سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ صورتحال پنجاب میں کپاس کے رقبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر گنا اور دیگر فصلیں مسلسل کپاس کی جگہ لیتی رہیں تو پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے مقامی خام مال کا مسئلہ سنگین ہو سکتا ہے۔ موجودہ سیزن میں ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں لیکن ابھی شاید جشن منانے کا وقت نہیں۔ کپاس کو پنک بول ورم‘ سفید مکھی‘ بارش اور فائبر کوالٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف روئی کی قیمت میں تقریباً 1000 روپے فی من کمی کسان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ حکومت کو محض 60 لاکھ گانٹھوں سے زیادہ پیداوار کے تخمینے پر مطمئن ہونے کے بجائے کسان کو مناسب قیمت‘ معیاری بیج‘ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر کیڑے مار ادویات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کی آمد میں 19 فیصد اضافہ خوش آئند لیکن اصل کامیابی تب ہو گی جب یہ اضافہ کسان کی آمدنی‘ ٹیکسٹائل برآمدات اور ملکی زرمبادلہ میں بھی نظر آئے۔
پاکستان میں ہر بار مہنگائی کا ذمہ دار صرف ڈالر‘ پٹرول یا بجلی کو قرار دینا درست نہیں ہے۔ بعض اوقات مارکیٹ میں مسابقت کی کمی بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن جاتی ہے۔ کمپٹیشن کمیشن نے آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر چھ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ 2019ء سے 2025ء کے درمیان ٹرانسپورٹ کے نرخ 89 مرتبہ تبدیل کیے گئے‘ جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی کی گئی اور نرخ طے کرنے کے لیے ٹینکر مالکان کی ایسوسی ایشن اور پاکستان ویناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان یہ انتظام موجود تھا کہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھایا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کمی پر کرایہ 0.5 فیصد کم کرنے کا فارمولا موجود تھا۔ یعنی برابر مقدار میں ڈیزل مہنگا یا سستا ہونے کی صورت میں کرایہ بڑھانے کی شرح‘ کرایہ کم کرنے کی شرح سے 50 فیصد زیادہ تھی۔ کمپٹیشن کمیشن نے اب اس پر ایکشن لیا ہے‘ جسے عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کے لیے آئل سستا ہو گا یا نہیں؟ اگر 100 کروڑ کما کر چھ کروڑ جرمانہ دینے سے جان چھوٹ جائے تو ان کیلئے یہ مہنگا سودا نہیں۔ اس کے علاوہ عوام یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ چھ سال تک یہ نظام کیسے چلتا رہا؟ اگر 2019ء سے 2025ء کے دوران 89 مرتبہ تیل کے نرخوں میں تبدیلی ہوئی تو سوال صرف یہ نہیں کہ اب چھ کروڑ روپے جرمانہ کیوں کیا گیا بلکہ یہ بھی ہے کہ کمپٹیشن کمیشن نگرانی کا نظام پہلے کیوں مؤثر انداز میں حرکت میں نہیں آیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...