ستمبر میں حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں مثبت پیش رفت ہوئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ستمبر میں تقریباً 1343ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے جو گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد اور ماہانہ ہدف سے 15 ارب روپے زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں ایف بی آر کی وصولی تقریباً 3066 ارب روپے رہی جو 3053 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے تقریباً 13 ارب روپے زیادہ ہے۔ صنعتی شعبے کے ابتدائی اعداد وشمار بھی بحالی کی امید پیدا کرتے ہیں۔ ستمبر میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کے اعداد وشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے تاہم جولائی میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 3.03 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 9.51 فیصد بڑھی۔ جولائی میں گاڑیوں کی پیداوار 57.01 فیصد‘ ٹرانسپورٹ آلات :40.22 فیصد‘ تمباکو: 35.82 فیصد اور تیار ملبوسات کی پیداوار 22.03 فیصد بڑھی اور امید کی جا رہی ہے کہ ستمبر کی رپورٹ میں مزید بہتری سامنے آئے گی۔ ملکی برآمدات میں تقریباً 17.5 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ حکومت اس اضافے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بلاشبہ برآمدات میں اضافہ کسی بھی ملک کیلئے خوش آئند خبر ہوتی ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے‘ صنعتوں کو فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن صرف ایک پہلو دیکھ کر معیشت کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کہاں کھڑی ہیں اور ملک کا مجموعی تجارتی توازن کس سمت جا رہا ہے۔ رواں سال ستمبر میں ملکی برآمدات 2.94 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 2.50 ارب ڈالر کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہیں۔ بظاہر یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے‘ تاہم اسی دوران درآمدات 5.85 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.49 ارب ڈالر ہو گئیں اور درآمدی بل میں 11 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ 3.35 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.56 ارب ڈالر ہو گیا‘ یعنی سالانہ بنیاد پر تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا۔ اگر پہلی سہ ماہی کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک ملکی برآمدات گزشتہ سال کی 7.59 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.42 ارب ڈالر رہیں‘ یعنی ان میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 9.37 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.79 ارب ڈالر ہو گیا‘ یعنی خسارے میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ برآمدات میں اضافے کے فوائد کو درآمدات کا بڑھتا حجم متاثر کر رہا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں تقریباً گیارہ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ایک وارننگ ہے۔ اگر یہی رفتار رہی تو مالی سال کے اختتام تک تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات زرمبادلہ کے ذخائر‘ روپے کی قدر اور مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر پڑ سکتے ہیں۔
ستمبر 2026ء میں ملک میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘ جو سٹیٹ بینک کے پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگست 2026ء میں مہنگائی 11.1 فیصد تھی‘ ستمبر میں اس میں معمولی کمی ضرور آئی لیکن قیمتوں میں اضافے کی رفتار اب بھی ڈبل فگر میں ہے۔ جولائی اور اگست کے دوران اوسط مہنگائی تقریباً 10.2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ شرح تقریباً 3.6 فیصد تھی۔ ایک سال کے دوران مہنگائی کے دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک نے ستمبر میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے حالانکہ عالمی اداروں کی جانب سے شرح سود بڑھانے کیلئے دباؤ موجود تھا۔ شرح سود شاید اس لیے نہیں بڑھائی گئی تاکہ مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھنا ضروری ہے اور دوسری طرف بلند شرح سود معاشی سرگرمیوں کو محدود کر سکتی ہے۔ پہلے ہی اگست میں خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 13.9 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی 20.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جب خوراک‘ ٹرانسپورٹ‘ بجلی‘ گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو تو صرف یہ کہنا کہ مجموعی مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے‘ عوام کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔
رواں سال کے شروع میں کپاس کی فصل کے بارے میں اچھی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔ جولائی اور اگست میں جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 27 فیصد زیادہ تھی جس سے توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال پیداوار میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ستمبر کے آخر تک یہ امیدیں کمزور پڑ گئیں کیونکہ 30 ستمبر تک کپاس کی 32 لاکھ گانٹھیں جننگ فیکٹریوں تک پہنچیں۔ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 30 لاکھ گانٹھیں آئی تھیں۔ اس طرح یہ اضافہ صرف 5.39 فیصد رہا۔ یعنی ایک ماہ پہلے جو اضافہ 27 فیصد کے قریب تھا وہ ستمبر کے آخر تک صرف 5.39 فیصد رہ گیا۔ 16 سے 30 ستمبر کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ 19 ہزار گانٹھیں کپاس جننگ فیکٹریوں تک پہنچ پائیں جبکہ اس مدت میں تقریباً گیارہ لاکھ گانٹھوں کی آمد متوقع تھی۔ یعنی توقع سے تقریباً دو لاکھ 80 ہزار گانٹھیں کم آئیں۔ شدید گرمی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ کپاس کی آمد میں کمی کا اثر اس کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ 30 ستمبر تک جنرز کے پاس غیر فروخت شدہ تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار گانٹھیں موجود تھیں جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں تھی۔ اگر آئندہ چند ہفتوں میں نئی کپاس کی آمد یونہی کم رہی تو ملوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ادھرآبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے عالمی منڈی کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس بحران کے دوران رکن ممالک اب تک اپنے سٹرٹیجک ذخائر سے تقریباً 325 ملین بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات جاری کر چکے ہیں جبکہ مارچ میں مجموعی طور پر 400 ملین بیرل جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یعنی اعلان کردہ ذخائرکا 80 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے اور اس کے باوجود عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ برقرار ہے۔ اب جی سیون ممالک نے عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر مزید 100 ملین بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اگلے چار ماہ کے دوران مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ڈیزل کی ایک بڑی مقدار پہلے 20 دن میں جاری کی جائے گی۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کیلئے بھی ایک مثبت پہلو موجود ہے۔ اگر عالمی توانائی ایجنسی اور جی سیون کے ہنگامی ذخائر سے تیل مارکیٹ میں آتا ہے تو عالمی سپلائی کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ لیکن مسئلے کا مستقل حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی عالمی ترسیل بحال نہیں ہوتی۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا زیادہ خطرناک پہلو ایل این جی ہے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی ایل این جی کا تقریباً 19 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش اپنی ایل این جی درآمدات کا تقریباً دو تہائی اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں گیس سے چلنے والے پلانٹس کا حصہ 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ سرد موسم میں گیس کا استعمال مزید بڑھ جاتا ہے‘ اس لیے ہرمز کی بندش گیس کی قیمت مزید بڑھا سکتی ہے اور بجلی کی پیداوار‘ صنعتی سرگرمیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر پر بھی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments