ترسیلات ، سٹیبل کوائنز اور چینی کی برآمد

پاکستانی معیشت کیلئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی ترسیلات ہمیشہ سے بہت اہم رہی ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر پاکستان آتے ہیں اور یہ رقم ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے ساتھ لاکھوں خاندانوں کے اخراجات بھی پورے کرتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی‘ خاص طور پر سٹیبل کوائنز کے ذریعے اس رقم کو پاکستان لانے کی لاگت کم کی جا سکتی ہے۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے 11 ماہ‘ یعنی جولائی سے مئی تک پاکستان کو 38.1 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 34.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ تھیں۔ سعودی عرب سے 8.95 ارب ڈالر‘ متحدہ عرب امارات سے 8.02 ارب ڈالر اور برطانیہ سے 5.81 ارب ڈالر آئے۔ اگر پورے سال کی ترسیلاتِ زر تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے رقم بھیجنے کی لاگت میں محض ایک فیصد کمی آتی ہے تو تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ہو سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ترسیلاتِ زر کے اخراجات کم نہیں ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق دنیا بھر میں 200 ڈالر بھیجنے کی اوسط لاگت تقریباً 6.36 فیصد ہے‘ یعنی 200 ڈالر بھیجنے والے شخص کو اوسطاً 12 سے 13 ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی اس لاگت کو کم کر دے تو فائدہ براہِ راست بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کو پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں درمیانی اور چھوٹی صنعتیں (ایس ایم ایز) کاروباری سرگرمیوں کا تقریباً 90 فیصد حصہ رکھتی ہیں اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے‘ لیکن انہیں بینکوں سے مطلوبہ مالی سہولیات حاصل نہیں ہو پاتیں۔ اگر تجارتی واجبات اور دیگر اثاثوں کو ٹوکنائز کر کے سرمایہ کاروں سے جوڑا جا سکے تو ان کاروباروں کیلئے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں سب سے اہم فیکٹر احتیاط ہے۔ سٹیبل کوائن کوئی جادو کی چھڑی نہیں‘ اگر نظام کی نگرانی کمزور ہوئی تو منی لانڈرنگ‘ فراڈ‘ سائبر جرائم اور غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ایک نئی کوشش کے طور پر حکومت نے ریٹیلر سکیم ایپ لانچ کی ہے‘ جس کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا اور موبائل فون کے ذریعے رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کو آسان بنانا ہے۔ پاکستان میں چھوٹے دکانداروں کا شعبہ بہت بڑا ہے۔ ملک میں تقریباً 30 سے 40 لاکھ ریٹیلرز ہیں‘ جن کی بڑی تعداد اب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں آ سکی ہے۔ اس سکیم کے تحت 20 کروڑ روپے سالانہ تک کاروبار کرنے والے اہل ریٹیلرز اپنی مجموعی سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے جبکہ کم از کم ٹیکس 25 ہزار روپے سالانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جولائی 2026ء کے آخر تک ایف بی آر کے ساتھ صرف 13 ہزار 586 ریٹیلر انٹیگریشنز اور 37 ہزار 378 برانچز پی او ایس نظام سے منسلک تھیں۔ دستاویزی ریٹیل سیکٹر اور مجموعی ریٹیل مارکیٹ کے مابین اب بھی بڑا فرق موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایپ ماضی کی سکیموں سے مختلف ثابت ہو گی؟ حکومت اس سے پہلے تاجر دوست سکیم بھی متعارف کرا چکی لیکن اس کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ توسیع نہیں ہو سکی جس پر نئی فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی۔ ریٹیلر سکیم ایپ اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں دکاندار رضاکارانہ طور پر اس نظام میں شامل ہوں۔ حکومت نے ایک فیصد اور کم از کم 25 ہزار روپے کی حد مقرر کرکے نظام کو نسبتاً آسان بنایا ہے‘ اب اگلا مرحلہ دکانداروں میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔ اگر حکومت آسان ٹیکس‘ کم کاغذی کارروائی اور شفاف نگرانی کا وعدہ عملی طور پر پورا کر دیتی ہے تو یہ ایپ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی اہم کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔
ملکی معیشت میں زراعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں زرعی شعبے کی شرح نمو تقریباً 2.89 فیصد رہی‘ جبکہ مجموعی ملکی معیشت نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زرعی شعبے کو کم پیداوار‘ پانی کی کمی‘ موسمیاتی تبدیلی اور جدید تحقیق کی محدود رسائی جیسے مسائل کا سامناہے۔ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سنٹر (NARC) کے نئے ماسٹر پلان کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ این اے آر سی کو زرعی اضلاع میں منظم کیا جا سکتا اور اعلیٰ تحقیقی مراکز‘ جدید ریفرنس لیبارٹریاں‘ نئے تحقیقی مراکز‘ نجی شعبے کے لیے ریسرچ پارک‘ بین الاقوامی تعاون کا مرکز اور تحقیقی تجربہ گاہیں قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ادارہ ملک کا ایک بڑا زرعی تحقیقی مرکز ہے جہاں تقریباً 1400 ایکڑ کا تجرباتی فارم موجود ہے‘ 120 سے زائد زرعی اجناس پر تحقیق کی جا رہی ہے جبکہ مرکز میں 98 لیبارٹریاں بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بنیادی تحقیقی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے ضرورت اسے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تحقیقی اداروں سے جوڑنے کی ہے۔ زرعی تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداوار اب موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں فصلوں کے شعبے کی کارکردگی اتنی مضبوط نہیں رہی؛ اس کے مقابلے میں لائیو سٹاک نے زرعی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔ اس صورتحال میں بہتر بیج‘ بیماریوں سے محفوظ فصلیں‘ کم پانی میں زیادہ پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی برداشت کرنے والی فصلوں پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ این اے آر سی کا نیا ماسٹر پلان ایک تحقیقی ادارے کی تنظیم نو نہیں بلکہ پاکستان کی زراعت کو جدید بنانے کا موقع بن سکتا ہے۔ ملک کی زرعی بنیادیں مضبوط ہیں‘ اگر اس کو جدید جینیاتی تحقیق‘ موسمیاتی مزاحمت‘ پانی کے مؤثر استعمال‘ مصنوعی ذہانت اور برآمدی معیار کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ملکی زرعی پیداوار اور عالمی مسابقت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں چینی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس موجود ایک لاکھ آٹھ ہزار ٹن چینی عالمی ٹینڈر کے ذریعے برآمد کی اجازت دی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ چینی گزشتہ سال درآمد کی گئی تین لاکھ ٹن چینی میں سے باقی بچ جانے والا ذخیرہ ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی چینی پالیسی کے تضادات کو ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ سال مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے بڑی مقدار میں چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب درآمد شدہ حصہ ملکی مارکیٹ میں ضرورت سے زائد ہونے کے باعث برآمد کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا درآمد کے وقت طلب‘ پیداوار اور مستقبل کے ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا تھا؟ 31 جولائی 2026ء تک ملک میں چینی کا ذخیرہ تقریباً 31.71 لاکھ ٹن تھا‘ جبکہ ماہانہ اوسط کھپت تقریباً 5 لاکھ 64 ہزار ٹن ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حساب سے 15 نومبر تک ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد تقریباً 11.97 لاکھ ٹن اضافی چینی ہو سکتی ہے۔ اسی دوران 2026-27ء کے کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار 80 لاکھ ٹن سے زیادہ رہنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعدادو شمار حکومت کیلئے ایک مشکل مگر اہم سوال پیدا کرتے ہیں۔ جب ملک میں پہلے ہی تقریباً 12 لاکھ ٹن اضافی ذخیرے اور نئی فصل سے مزید 80 لاکھ ٹن چینی ملنے کا امکان ہے تو اضافی سٹاک کو برآمد کرنا معاشی طور پر قابلِ فہم نظر آتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چینی کی رسد اور طلب کے اعدادو شمار عین موقع پر اچانک بدل جاتے ہیں اور ہر سال برآمداور پھر درآمد کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ کھیل جاری ہے اور حکومت اب تک اس کا کوئی مؤثر بندوبست نہیں کر سکی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...