برآمدات، شمسی توانائی اور ایم ایل ون

ملکی معیشت میں برآمدات کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے اور اسے فروغ دینے کیلئے سرکاری سطح پر سہولتیں دیے جانے کی روایت بھی پرانی ہے۔ حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو برآمدی انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے تین ارب روپے کا رسک پول قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے کاروباری اداروں خصوصاً سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی رسائی برآمدی کریڈٹ انشورنس تک بہتر بنائی جائے گی۔ چھوٹے کاروباروں کیلئے یہ سہولت اس لیے اہم ہے کہ بیرونِ ملک مال فروخت کرتے وقت ادائیگی میں تاخیر یا عدم ادائیگی جیسے خطرات ان کیلئے بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ تین ارب روپے کا رسک پول بظاہر مجموعی معیشت کے مقابلے میں ایک معمولی رقم ہے لیکن اگر اس کے ذریعے نجی شعبے کو زیادہ برآمدی سرگرمیوں کی طرف لایا جا سکے تو اس کا معاشی اثر کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اگر انشورنس کی سہولت کاروباری اداروں کو پہلے سے زیادہ ایکسپورٹ آرڈر لینے میں مدد فراہم کرتی ہے تو اس سے پیداوار‘ ٹرانسپورٹ‘ پیکیجنگ اور روزگار سمیت کئی شعبے متحرک ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت برآمدات بڑھانے کیلئے صرف مالی معاونت ہی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ صرف تین ارب روپے کی رقم نہیں ہو سکتی‘ کامیابی کا درست حساب اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب یہ نتائج سامنے آئیں کہ اس سہولت سے کتنے برآمد کنندگان نے فائدہ اٹھایا‘ برآمدی حجم میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنے چھوٹے کاروبار عالمی منڈی میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات کو چند روایتی شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکسٹائل‘ زرعی مصنوعات‘ آئی ٹی‘ انجینئرنگ‘ کھیلوں کا سامان اور دیگر شعبوں میں نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ اگر ایس ایم ایز کو انشورنس‘ آسان قرضوں‘ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مہنگی توانائی کے باعث عوام کا رجحان شمسی توانائی کی طرف تیزی سے بڑھا ہے۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی جانب سے زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ درخواستوں کو نمٹانے کے فیصلے کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی 11 ہزار 695 زیر التوا درخواستوں کو حل کرنے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 16 ہزار 654 درخواستیں زیرِ التوا تھیں‘ اب 11 ہزار سے زائد کو حل کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یہ شرح تقریباً 70 فیصد بنتی ہیں‘ یعنی ہر 10 میں سے سات درخواستیں اب کلیئر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی نے کلیئر ہونے والی درخواستوں کے صارفین سے وٹس ایپ‘ اس ایم ایس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رابطہ شروع کر دیا ہے اور درخواستوں کی جلد منظوری یا مزید کارروائی کیلئے کسی فرد‘ ایجنٹ یا درمیانی شخص کو کوئی فیس یا رقم ادا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی عوامی معاملات میں اس سطح تک دلچسپی سے فراڈ کے امکانات کم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری صرف زیرِ التوا درخواستیں نمٹانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کو ایک ایسا نظام درکار ہے جو واضح‘ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہو۔ اگر قوانین بار بار تبدیل ہوتے رہیں یا درخواستوں کی کارروائی میں طویل تاخیر ہو تو عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ شمسی توانائی پاکستان کیلئے صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی کے درآمدی بوجھ کو کم کرنے‘ صارفین کو متبادل توانائی فراہم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کا ایک اہم راستہ بھی بن سکتی ہے۔
خلیجی ممالک پاکستان کیلئے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت اور بحرین کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں توانائی‘ خوراک‘ ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کا اہم کردار ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی) میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تقریباً 25 فیصد کم ہو کر تقریباً 1.2 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ برآمدات میں معمولی اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی ہے۔ اس عرصے میں پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات تقریباً تین فیصد بڑھیں جبکہ درآمدات میں تقریباً 20 فیصد تک کمی آئی۔ بظاہر یہ اعداد چھوٹے ہیں لیکن پاکستان کیلئے درآمدی بل میں کمی کا براہِ راست اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کیلئے ایک اہم منڈی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہاں پاکستانی برآمدات میں تقریباً آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کو برآمدات میں چھ فیصد جبکہ اردن کو برآمدات میں تقریباً 12 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستانی مصنوعات کیلئے ان منڈیوں میں مزید جگہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات میں تقریباً 20 فیصد کمی کی بڑی وجہ توانائی کی خریداری میں کمی ہے۔ توانائی کی درآمدات کے بل میں تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ مگر درآمدات کم ہونا ہمیشہ اچھی خبر نہیں ہوتا‘اگر درآمدات اس لیے کم ہوں کہ ملک میں توانائی کی طلب پوری ہو رہی ہے‘ مقامی پیداوار بڑھ رہی ہے یا متبادل توانائی استعمال ہو رہی ہے تو یہ مثبت تبدیلی ہے لیکن اگر درآمدات میں کمی کاروباری سرگرمیوں یا توانائی کی ضرورت کم ہونے کی وجہ سے ہو تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو صرف درآمدات میں کمی کے بجائے اس کمی کی وجہ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی طویل تاریخ ہے۔ ہر حکومت کچھ ایسے منصوبے پیش کرتی ہے جنہیں ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے۔ موٹرویزاور سی پیک کے بعد اب مین لائن ون منصوبہ قومی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کو جدید ریلوے نظام کی ضرورت ہے۔ ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک تقریباً 1872 کلومیٹر ریلوے لائن کی اَپ گریڈیشن کا منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان ریلوے کا سب سے اہم روٹ ہے جہاں سے ملک کی تقریباً 75 فیصد مسافر اور مال بردار ریلوے ٹریفک گزرتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹرینوں کی رفتار 65 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کرنے کی تجویز ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق نقل وحمل اور لاجسٹکس کے شعبے کی خامیاں پاکستان کی معیشت کو سالانہ جی ڈی پی کے چار سے چھ فیصد تک نقصان پہنچاتی ہیں۔ یعنی اگر ملکی معیشت کا حجم 410 ارب ڈالر تصور کیا جائے تو یہ نقصان سالانہ 16 سے 25 ارب ڈالر تک ہے۔ کئی سالوں سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن ایک بڑا مسئلہ لاگت میں تبدیلی ہے۔ منصوبے کی لاگت مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ کبھی اسے 6.8 ارب ڈالر تو کبھی 9.2 ارب ڈالر قرار دیا گیا۔ بعض تخمینوں میں یہ 9.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ پاکستان پہلے ہی 85 کھرب روپے سے زائد کے سرکاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جبکہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں صرف سود کی ادائیگیوں کیلئے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک اور بڑے قرضے کا متحمل ہو سکتا ہے وہ بھی ایک ایسے منصوبے کیلئے جس کے نتائج اور لاگت بھی واضح نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...