"AIZ" (space) message & send to 7575

تقویٰ کی اہمیت اور فوائد

انسان اپنی زندگی میں مختلف طرح کے کام کرتا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوف کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ انسان کی نظر بالعموم اپنے اہداف کی تکمیل اور فوائد کے حصول پر ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا بہت بڑا عمل ہے۔ شریعت میں ایسے اعمال کی بجا آوری جس میں دل‘ زبان اور اعمال کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کو مدنظر رکھ کر استعمال کیا جائے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچایا جائے‘ تقویٰ کہلاتا ہے۔ جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ تقویٰ کو اختیار کرنے کے بہت زیادہ فوائد ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ تقویٰ انسان کو معزز بناتا ہے: دنیا کا ہر انسان عزت کا طلبگار ہے۔ قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حقیقی عزت تقویٰ اختیار کرنے میں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔
2۔ تقویٰ مشکلات سے نکلنے کا راستہ: مصائب اور مشکلات سے پاک زندگی ہر انسان کو پسند ہے۔ قرآن مجید یہ بتلاتا ہے کہ تقویٰ کی وجہ سے مشکلات دور ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔ اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا‘‘۔3۔ تقویٰ کے ذریعے معاملات میں آسانی: ہر انسان اپنے امور میں آسانی چاہتا ہے۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 4 میں تقویٰ کے ساتھ خاص طور پر اللہ کی طرف سے آسانی پیدا کرنے کا ذکر ہے: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے‘ اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے‘‘۔
4۔ تقویٰ سے گناہ مٹتے اور اجر بڑھتا ہے: تقویٰ کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے گناہوں کو مٹا دیتے اور اس کے اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا‘ اللہ اس کی برائیاں اس سے دور کر دے گا اور اس کے لیے اجر کو بہت بڑا کر دے گا‘‘۔ 5۔ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے: جب انسان تقویٰ کو اختیار کرتا تو اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 128 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے ہیں‘‘۔
6۔ تقویٰ کی وجہ سے غم اور خوف دور ہو جاتے ہیں: اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ یونس کی آیات: 62 تا 63 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''سن لو! بیشک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے‘‘۔ ان آیات مبارکہ میں اولیاء اللہ کی دو علامات بتلائی گئی ہیں کہ وہ ایمان اور تقویٰ والے ہوتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے خوف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ اس سے اگلی آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی‘ یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔
6۔ تقویٰ ہی حقیقی کامیابی ہے: قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کامیابی کی اساس ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘۔
7۔ تقویٰ اخروی کامیابی کا سبب: تقویٰ کا سب سے بڑا نتیجہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیت: 133 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے‘ جو متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔
قرآن مجیدکی آیات مبارکہ کے ساتھ ساتھ احادیثِ طیبہ میں بھی تقویٰ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:1۔ تقویٰ کا مرکز انسان کا دل ہے: احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کا مرکز انسان کا دل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''تقویٰ یہاں ہے‘‘ اور آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا۔
2۔ تقویٰ کی وجہ سے انسان مشتبہ چیزوں سے بچ جاتا ہے: کتاب و سنت کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب متقی بن جاتا ہے تو وہ فقط حرام سے اجتناب نہیں کرتا بلکہ مشتبہ چیزوں سے بھی دور رہتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ''حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی عیاں ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اُس چرواہے کی ہے جو (محفوظ شاہی) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ قریب ہے کہ وہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے (اور شاہی مجرم قرار پائے)۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ (پس ان سے بچو اور) سن لو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں وہ بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے‘‘۔
3۔ تقویٰ ہر جگہ اختیار کرنا چاہیے: احادیثِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ ہر جگہ اختیار کیا جائے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو‘ برائی کے بعد (جو تم سے ہو جائے) بھلائی کرو‘ وہ برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئو‘‘۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ انسان تنہائی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ تنہائی میں جو شخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا‘ اس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے سنن ابن ماجہ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی سفید (روشن) نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے تو اللہ عزوجل ان (نیکیوں کو) بکھرے ہوئے غبار میں تبدیل کر دے گا‘‘۔ حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! ان کی صفات بیان فرما دیجیے۔ ان (کی خرابیوں) کو ہمارے لیے واضح کر دیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شامل ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے۔ آپﷺ نے فرمایا ''وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری جنس سے ہیں اور رات کی عبادت کا حصہ حاصل کرتے ہیں جس طرح تم کرتے ہو۔ لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ انہیں جب تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ گناہوں کا موقع ملتا ہے تو ان کا ارتکاب کر لیتے ہیں‘‘۔
مذکورہ بالا آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ طیبہ سے تقویٰ کی اہمیت اور فوائد واضح ہو جاتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو تقویٰ والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم دنیا وآخرت کی بھلائیوں کو سمیٹ سکیں‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...