امریکہ ایران معرکے میں‘ ایران کی حمایت کا مطلب کیا اس نظام کی تائید ہے جو اس وقت ایران میں نافذ ہے؟
یہ سوال‘ اس وقت اشتراکی حلقے میں زیرِ بحث ہے مگر میرا خیال ہے کہ اس کو کسی ایک نظریاتی دائرے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس بحث میں ہر وہ آدمی شریک ہو سکتا ہے جسے اس معرکے سے دلچسپی ہے۔ اشتراکی نظامِ فکر میں‘ اس حمایت کا محرک سلبی ہے۔ یعنی امریکی سامراج کی مخالفت۔ یہ حلقہ اسے ایک تاریخی عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو سرتاپا مادی ہے۔ اس تعبیر کے مطابق القاعدہ کی حمایت کا جواز بھی پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ امریکہ کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ اشتراکی نظامِ فکر میں کسی مذہبی حکومت کیلئے کوئی جگہ نہیں لیکن ایران امریکہ معرکے میں‘ اس فکر کے وابستگان معاملات کو اس زاویے سے نہیں دیکھ رہے۔ اشتراکیوں کی طرح‘ ہمارا مذہبی طبقہ بھی امریکہ کی مخالفت میں گرم جوش ہے۔ ان کے ہاں بھی امریکی مخالفت‘ کسی کی تائید کیلئے جواز بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض سنی جماعتیں بھی ایران کیساتھ کھڑی ہیں۔ کیا سوچ کا یہ انداز درست ہے؟ کیا عالمی سیاست کو اس نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟
اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھیے۔ ایران کی مذہبی حکومت شام میں بشار الاسد کی حامی تھی۔ شام کی خانہ جنگی میں ایران نے اس رجیم کی بھرپور نصرت کی۔ پاکستان تک سے فدائین کو جمع کیا گیا جو شام میں بشار الاسد کے ساتھ مل کر مخالفین سے لڑے۔ قاسم سلیمانی کا اس مہم جوئی میں جو کردار تھا‘ سب اس سے واقف ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بشار الاسد کے ہاتھوں لاکھوں شامیوں کا قتلِ عام ہوا۔ یہ سلسلہ ان کے والد حافظ الاسد کے دور سے جاری تھا۔ اس عمل کو ایرانی تائید میسر رہی۔ ایران کا یہ کر دار ان حلقوں میں کہیں زیرِ بحث نہیں آتا جو آج ایران کے حق میں سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا کہ حمایت و مخالفت کا پیمانہ ظلم نہیں۔ ایسا ہوتا تو ہر ظالم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی۔ یہ زاویہ نظر امتیازی ہے۔ ہم نے ہر ظلم کی مخالفت نہیں کرنی‘ ہمیں امریکی ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ کیا یہ سوچ درست ہے؟
یہ پیچیدہ سوالات ہیں۔ ان کو اخلاقی حوالے سے دیکھیں تو جو جواب سامنے آئے گا وہ اس سے مختلف ہو گا جو انہیں مادی و تاریخی عمل کے طور پر دیکھنے سے ملتا ہے۔ مسلمان کا زاویۂ نظر تو اخلاقی ہونا چاہیے۔ اسے یہ نہیں دیکھنا کہ اس کی رائے کی زد کس پر پڑتی ہے۔ اس کیلئے حکم یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی‘ اسے انصاف سے دور نہ کر دے۔ اسے انصاف کی بات کر نی چاہیے اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کہ اس کا فائدہ کسے پہنچتا ہے۔ اسلام اس گروہی عصبیت کو نہیں مانتا جو حق بات کہنے میں مانع ہو۔ یہاں اسلامی نقطہ نظر‘ اشتراکی نقطہ نظر سے اصولی طور پر مختلف ہو جاتا ہے۔ اشراکیت کے نزدیک سامراج کی مخالفت فی نفسہٖٖ مطلوب ہے۔ اسلام کا ورلڈ ویو اثباتی ہے‘ سلبی نہیں۔
میں اس رائے کے پس منظر میں کارفرما جذبے کو سمجھ سکتا ہوں جو غلط نہیں ہے۔ سامراجیت ایک برائی ہے۔ غلبے کی نفسیات نے زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا لازم ہے۔ نظریاتی اندازِ نظر کا مگر ایک مسئلہ ہے۔ اس میں صرف وہ سامراج قابلِ مذمت ہوتا ہے جو دوسرے نظریاتی پیراڈائم میں جنم لیتا ہے۔ مسلمان کا نقطہ نظر یہ ہونا چاہیے کہ غلبے کی اس نفسیات کا ظہور‘ جس طبقے‘ مذہب یا آئیڈیالوجی کو ماننے والوں کے ہاں ہو گا‘ قابلِ قبول نہیں۔ سامراج امریکی ہو یا روسی‘ عباسی ہو یا فرانسیسی‘ ہمارے نظامِ فکر میں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح ظلم‘ ظلم ہے۔ اس کا ارتکاب جو بھی کرے گا‘ قابلِ مذمت ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس اصول کا اطلاق ہم ایران امریکہ جنگ پر کیسے کر سکتے ہیں اور ایران کے داخلی معاملات کو کیا لازماً اس کا حصہ ہونا چاہیے؟
اس جنگ میں ایران کی حمایت کا ایک اخلاقی جواز موجود ہے۔ امریکہ ایران پر حملہ آور ہوا۔ اُس کے راہنما کو ان کے گھر جا کر قتل کیا۔ دنیا کا کوئی قانون‘ کوئی اخلاقی ضابطہ اس کی تائید نہیں کر سکتا۔ جب معاملہ اس جنگ تک محدود ہو گا تو یہ بحث غیر متعلق ہو جائے گی کہ ایران کا داخلی نظام کیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ وینزویلا کے سیاسی نظام سے قطع نظر‘ کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ اس کے صدر کو اس کے گھر سے اٹھا لیا جائے۔ لہٰذا اگر کوئی امریکہ کے مقابلے میں ایران کی حمایت کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایران میں قائم نظام کو بھی درست سمجھتا یا اس کی تائید کرتا ہے۔
نظریاتی پیراڈائم میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ کلی تائید چاہتا ہے یا کلی مخالفت۔ اس میں درمیانہ راستہ نہیں ہوتا۔ آئیڈیالوجی ایک تعصب کو جنم دیتی ہے۔ مذہب کو آئیڈیالوجی بنانے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب ہدایت کے بجائے عصبیت بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عملی زندگی میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ افراد‘ گروہوں یا نظریات کو آپ سیاہ اور سفید میں بانٹ سکیں۔ خیر اور شر کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اشتراکیت میں ایک خیر بھی چھپا ہوا ہے۔ اشتراکیت ہی نے سرمایہ داری کو لگام ڈالی اور انسانیت کو مارکس جیسا مفکر دیا۔ انسانی سماج کو متوازن بنانے میں‘ اس کا غیر معمولی حصہ ہے۔ اسی طرح سرمایہ داری نے سرمایے کے فطری بہاؤ کو جس طرح سماجی حقائق سے ہم آہنگ کیا‘ وہ بھی ایک خدمت ہے۔ نظریاتی سیاست میں جب لوگوں نے کوشش کی کہ ایک نظریے کی طے شدہ تمام حدود کی پابندی کی جائے تو کوئی قابلِ عمل نظام بن نہ سکا۔ سب کو پیوند لگانا پڑا۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو ویلفیئر سٹیٹ کا تصور لینا پڑا اور اشتراکیت کو بھی کھلی منڈی کیلئے جگہ بنانا پڑی۔ اس پر لینن اوردوسرے اشتراکی مفکرین نے لکھا ہے۔
'اسلام پسندوں‘ کو بھی اس امتحان سے گزرنا پڑا۔ جب انہوں نے جمہوریت‘ انتخابی نظام‘ سرمایہ داری‘ اشتراکیت‘ ہر چیز کو 'جاہلیتِ جدیدہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تو ان کیلئے قدم اٹھانا دوبھر ہو گیا۔ انہیں اب راستہ نکالنا تھا۔ اس کیلئے 'حکمتِ عملی‘ کے دائرے میں اس جاہلیت کیلئے جگہ پیدا کی گئی۔ جیسے دو برائیاں سامنے ہوں تو کم تر کو قبول کرنا چاہیے۔ مولانا مودودی نے اس پر عالمانہ بحث کی ہوئی ہے جو 'تفہیمات‘ حصہ سوم میں موجود ہے۔ اس پر مولانا امین احسن اصلاحی کی تنقید بھی اہم ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ یہ بحث حکمتِ عملی کی نہیں‘ آئیڈیالوجی کی ہے۔ انسان ساختہ سر گرمی‘ علمی ہو یا عملی‘ غلطی سے خالی نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں ہمارے دین کی تلقین یہ ہے کہ ہمیں حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے‘ کسی خاص گروہ کے ساتھ نہیں۔ اس میں فطری عصبیتوں کی رعایت موجودہے اور ان سے وابستگی کا دائرہ بھی بتا دیا گیا ہے۔
امریکی جارحیت کے خلاف ایران کی حمایت کے ساتھ‘ ہم ایرانی حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیں گے اور اس کے غلط یا صحیح ہونے پر اپنی رائے دیں گے۔ ایک معاہدے نے اس کیلئے جو امکانات پیدا کیے تھے‘ اگر انہیں ضائع کیا جائے گا تو اس پر تنقید ہوگی۔ اسی طرح اگر عرب ممالک سے چھیڑ چھاڑ جاری رہے گی تو اس کے مضر اثرات پر بھی بات ہو گی۔ یہ ایران کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے اور حق پرستی کا بھی۔ نظریاتی دائروں میں سوچنے والوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments