یورپی سمندروں میں ڈوبتے پاکستانی

ایک چراغ ہے جو شہر میں جل رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔ اور وہ ہے آپا کشور ناہید کا وجود!
جب بھی آپا کے دفتر میں جاتا ہوں دو چیزیں ضرور ملتی ہیں۔ عمدہ چائے اور ان کی شاعری کا تازہ مجموعہ!! علالت اور ضُعف کے باوجود ہر روز اپنی بوطیق میں ضرور آتی ہیں۔ ملاقاتیوں کیلئے یہ جگہ‘ ان کے گھر کی نسبت‘ آسان ہے۔ یہیں ان کے فین بھی آتے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر کام کرنے والے طلبہ اور طالبات بھی اور ان کے دوست بھی! مجھ جیسے نیازمند بھی! سوچتا ہوں عمر کے جس حصے میں مَیں ہوں‘ مجھے تم کہہ کر مخاطب کرنے والے‘ ڈانٹنے والے کتنے رہ گئے ہیں!! ظفر اقبال صاحب کو فون کروں تو بسم اللہ کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ دادی جان یاد آ جاتی ہیں۔ جب بھی گاؤں‘ گھر میں داخل ہوتے تھے‘ بسم اللہ بسم اللہ کہنا شروع کر دیتی تھیں۔ آپا کے دفتر میں جیسے ہی قدم رکھتا ہوں‘ کہتی ہیں ''تم نے تو پچھلے ہفتے آنا تھا‘ کہاں رہ گئے تھے؟‘‘۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانے میں شریک کر تی ہیں۔ اب ان میں وہ ہمت نہیں رہی ورنہ اس شہر میں جتنی ضیافتیں ہم نے ان کی قیام گاہ پر اڑائی ہیں اور کہیں بھی نہیں میسر آئیں! شب دیگ اور دیگر پکوان اپنے ہاتھ سے پکاتی تھیں۔ روٹیاں پودینے والی‘ کبھی پیاز والی‘ کبھی پالک والی! احباب سے ملاقات بھی ہو جاتی تھی۔ ادبی گفتگو بھی ہوتی تھی۔ شاعری بھی سنتے اور سناتے تھے۔ پہلے فراق کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں! 88‘89ء کا زمانہ نہیں بھولتا۔ وہ ماہنامہ ماہِ نو کی ایڈیٹر تھیں۔ رفیق خاور کے بعد ماہِ نو نے کوئی سنہری دور دیکھا ہے تو وہ یہی دور تھا۔ ڈانٹ کر شاعری اور نثر لکھواتی تھیں اور محبت سے چھاپتی تھیں۔ دو جلدوں میں ضخیم نمبر نکالا جو ماہِ نو میں چھپنے والی گزشتہ تخلیقات کے انتخاب پر مشتمل تھا۔ لکھنے والوں کی ہینڈ رائٹنگ کے نمونے بھی اس میں شامل تھے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میری تحریر کا عکس بھی اس میں موجود ہے۔کشور ناہید افتادگانِ خاک کیلئے ہمیشہ لکھتی رہیں۔ اب بھی لکھ رہی ہیں۔ ان کا تازہ مجموعہ کلام ''عمر مجھے لکھتی ہے‘‘ اُن نظموں سے بھرا ہے جو انہوں نے فلسطین اور غزہ کے مقتولوں اور بے کس پاکستانیوں کیلئے کہی ہیں۔ چند نظمیں دیکھیے۔
مسلم اُمّہ!
آج سے آدھا برس پہلے؍ غزہ کے بچے؍ دھوپ میں نہاتے؍ اور چاندنی میں کھیلتے تھے؍ اب تو قلم کو بھی حجاب آتا ہے؍ یہ دیکھتے اور لکھتے ہوئے؍ کہ دن رات کفن اور بے کفن؍ خون آشام شب و روز!؍ یہ وہ وادی ہے جسے فیض نے وادیٔ سینا کہا تھا؍ فیض نے تو فلسطینی بچوں کو لوریاں بھی دی تھیں؍ اب چنیدہ بچ جانے والوں کو تو فرصتِ نوحہ گری بھی نہیں؍ اب نہ پرندوں کی چہچہاہٹ نہ بچوں کی گلکاریاں نہ منبر نہ مسجد نہ کوئی دہلیز؍ ساری دنیا میں ساری نسلوں کے لوگ سلامتی کونسل کو جھنجھوڑ رہے ہیں؍ مگر فرعون‘ یاہو اور امریکی مہرہ من مانی کر رہے ہیں؍ اب تو خود اسرائیل کے نوجوان بچی کھچی انسانیت کو بچانے کیلئے سڑکوں پر ہیں؍ ستائیس رمضان کو سب مرد و زن مسجد اقصیٰ میں سجدہ ریز ہیں؍ دیکھو یاسر عرفات! تم علیحدہ فلسطینی مملکت کا نقشہ بناتے‘ بار بار‘ مصالحتی ورقوں کو سنبھالتے؍ سورج کے ساتھ غروب ہو گئے ہو؍ مگر ارضِ فلسطین کے بیٹے بیٹیاں محمود درویش کے اشعار دہراتے؍ اپنی سرزمین کو ہمیشہ کیلئے زندہ رکھیں گے
نوم چومسکی! آپ کہاں ہیں؟
مجھے بار بار دریائے فرات جھنجھوڑ رہا ہے؍ وہاں بھی ظالموں نے آلِ رسول پر پانی بند کیا تھا؍ اور اب آلِ رسول کے جان نثاروں پر غزہ میں‘ پانی کے ٹینکوں پر‘ بم گرائے جا رہے ہیں؍ کہ کہیں خشک لب تر نہ ہو جائیں؍ کہیں جاں بلب زخمی بچے زندگی میں واپس نہ آ جائیں؍ حاملہ عورتیں خدا سے اپنے ہونے والے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہیں؍ ظالم کے ٹینک آخر میں ہسپتالوں تک میں داخل ہو گئے ہیں؍ زخموں اور درد سے بلبلاتے بچوں کی مسیحائی کرتے ڈاکٹروں کو بھی خون میں نہلا دیا گیا ہے؍ غزہ کی ریت میں ہر طرف نوزائدہ بچوں کے قبرستان ہیں؍ یہاں نہ تو کوئی شجر نہ پرندہ نہ سایہ نہ وہ پیشانیاں؍ جو مسجد اقصیٰ کے صحن میں سجدہ ریز ہوں؍ جس وقت آلِ رسول پر ظلم کی انتہا کر دی گئی تھی؍ وہاں بھی بستیوں میں ایسی خاموشی تھی جیسے اربوں مسلمانوں کے بے روح اعلامیے سن کر؍ دنیا بھر میں ہر رنگ و نسل کے لوگ دہائی دے رہے ہیں؍ خدا نیتن یاہو اور ٹرمپ کی بربریت کو آسمان پر لکھ رہا ہے؍ اور فلسطینیوں کا نام نہاد رہبر مشورے کر رہا ہے
سمندروں میں ڈوبنے والے پاکستانی
(1) ارسطو نے تمہیں فتح یاب ہونے کے گُر سکھائے تھے؍ صدیوں پہلے تم نے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر کیا؍ اور سکندر اعظم کہلائے؍ پورس کو شکست دینے کے بعد نہ جانے تمہارے جی میں کیا آئی؍ پہلے تو پورس کو اس کی سلطنت واپس کی پھر اپنے جوانوں کو کوچ کا حکم دیا؍ تم بیمار تھے سپہ سالاروں کو کہا؍ میری وفات کے بعد میرے ہاتھ کفن سے باہر رکھنا کہ دنیا دیکھے؍ حکومت‘ دولت اور مسیحائی بے اعتباری کی منزلیں ہیں؍ تم مقدونیہ جاتے ہوئے سوچ رہے تھے شاید میں اپنی ماں سے ملنے تک زندہ نہ رہوں (2) سکندر اعظم! تم بتیس سال کی عمر میں سب کچھ حاصل کر کے بھی نامطمئن تھے؍ پاکستان کے غریبوں کے بچے کچھ بھی حاصل کیے بغیر؍ سب کچھ حاصل کرنے کے سراب میں؍ انسانی سمگلروں کے شکنجے میں پھنس گئے؍ ان کی بے تابی کو بڑھانے کیلئے وہ ملکوں ملکوں کی وڈیوز دکھاتے ہوئے؍ ہر دفعہ رقم بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں؍ قافلے کی گاؤں بھر میں اتنی گونج تھی کہ بچوں والوں نے بھی؍ بیوی کے زیور اور زمین بیچ دی؍ وہ خوابوں کا بستہ اٹھائے؍ اپنی سوچوں کی گھم گھیریوں میں لپٹے‘ بزرگوں کی دعائیں لینا بھول کر‘ چل پڑے (3) لیبیا کے ساحل پر کشتی بدلی؍ کھانا مانگا‘ پانی مانگا؍ نیا دلاسا‘ ابھی ملے گا؍ پیاسے سمندر میں چھلانگ لگا کر مچھلیوں کے ساتھ لاشیں بنتے دکھائی دیے؍ ساحل پر گورے کھڑے دیکھ رہے تھے اور کالوں کی بدحواسی پر ہنس رہے تھے؍ کوئی دلاسا تھا نہ سہارا (4) سب کے گھروں میں آیت کریمہ کا ختم اور زمین پر مصلّیٰ بچھا تھا؍ ہر گھر میں کئی دن سے کوئی جواب نہ آنے پر خوف کا دھواں بھرا تھا (5) اللہ میاں! تم نے تو ایک فرشتے کو شیطان کہا تھا؍ یہ بھی کہا تھا یہ تمہیں بہکائے گا؍ مگر انسانی ایجنٹوں نے شیطنت کے وہ گل کھلائے کہ اب؍ ہر گھر میں پھوہڑی پڑی ہے؍ ہماری موت کے سودا گر وطن میں ہیں؍ بے وطنوں کے گھروں میں انتظار سے آنکھیں پتھرا رہی ہیں؍ سکندر اعظم! تمہاری زمین نے؍ ہمارے جوانوں کو بے کفن مرنے دیا؍ اور تم خود کفن پہن کر بھی مقدونیہ نہ پہنچ سکے
کشور ناہید کی یہ ماتمی نظمیں پڑھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ان مرنے اور مارے جانے والوں کی خبریں ہمارے لیے معمول کی خبریں بن چکی ہیں! کتنے ہی پاکستانی ہر مہینے اور شاید ہر ہفتے‘ ہسپانیہ‘ لیبیا‘ اٹلی اور یونان کے سمندروں میں ڈوبتے ہیں! انہیں فریب دینے والے شیطانی عفریت اسی ملک میں دندناتے پھرتے ہیں! ریاست کہاں ہے؟ حکومت کیا کر رہی ہے؟ یہ کیسا ملک ہے جہاں کچھ افراد کا ایک قدم دبئی میں تو دوسرا لندن میں ہوتا ہے‘ نواسے اور پوتے شام برطانیہ میں تو صبح پاکستان میں گزارتے ہیں اور کچھ خوابوں کی گٹھڑی سر پر رکھے‘ غربت سے چھٹکارا پانے کی دھن میں‘ یورپ کے سمندروں میں مچھلیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا کنٹینروں میں دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں ! آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے؟ زمین الٹ کیوں نہیں جاتی؟
کب تک تری رہ دیکھیں اے قامت جانانہ!
کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی!!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...