بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو

میں پہلے مذہبی اور مسلکی مسائل علما سے سیکھتا تھا۔ میرے لیے تمام مکتب ہائے فکر کے علما قابلِ احترام تھے‘ اس لیے کہ ان کے پاس علم تھا۔ قوتِ برداشت تھی۔ نرم گفتار تھے۔ شفقت سے پیش آتے تھے۔ ان میں سنی تھے‘ شیعہ تھے‘ دیوبندی تھے‘ بریلوی تھے‘ اہلِ حدیث تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے کہ اپنا مؤقف بیان کرتے مگر دوسروں پر تنقید کرتے نہ ان کی تنقیص کرتے‘ نہ ان کی تردید کرتے‘ نہ کسی پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ علما جب ایک دوسرے سے ملتے تو پورے احترام اور خلوص سے ملتے۔
لیکن اب مجھے مسلکی اور مذہبی مسائل زبردستی سکھائے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔ میرے دونوں ہاتھ باندھ کر میرا منہ بزور کھول کر‘ مسائل میرے منہ میں ٹھونسے جا رہے ہیں۔ یہ سکھانے‘ پڑھانے اور ٹھونسنے والے کون ہیں؟ یہ عالم ہیں نہ علامے‘ مجتہد ہیں نہ آیت اللہ! ان میں کوئی دودھ بیچنے والا ہے‘ کوئی ریڑھی بان ہے‘ کوئی مستری ہے‘ کوئی مزدور۔ کسی نے چار کتابیں رٹ رکھی ہیں‘ کوئی بارہ جماعت فیل ہے‘ کوئی بیروزگار ہے اور وقت گزاری کے لیے فرقہ واریت پھیلا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ان کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ انہیں مسجد اور امام بارگاہ میں کوئی مؤذن یا ماشکی بھی نہ لگائے مگر سوشل میڈیا پر یہ عالم فاضل بنے ہوئے ہیں۔ جو مسائل پندرہ سو سال سے غیر حل شدہ چلے آ رہے ہیں‘ انہیں یہ افلاطون زادے‘ سوشل میڈیا پر ایک لحظے میں حل کرنا چاہتے ہیں!
ان نیم خواندہ ملاؤں اور نام نہاد مسٹروں کی محبوب ترین تختۂ مشق فیس بک ہے۔ ہائے بیچاری فیس بک! ہائے بیچارہ مارک زکر برگ! جس نے فیس بک ایجاد کی۔ ایک طرف فیس بک کا موجد اور اس کی بیوی ہے جو اربوں ڈالر خرچ کر کے دنیا سے بیماریاں ختم یا کم کرنا چاہتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ہم پاکستانی ہیں جو اسی فیس بک کے ذریعے قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ ملکی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زور اس بات پر نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ ہم سنی ہیں‘ ہم شیعہ ہیں‘ ہم دیوبندی ہیں‘ ہم اہلِ حدیث ہیں‘ ہم بریلوی ہیں‘ ہم حیاتی ہیں‘ ہم مماتی ہیں! مارک زکر برگ خود کیا کہتا ہے‘ سنیے: ''جو دنیا ہم چاہتے ہیں‘ وہ ہم فوراً تو حاصل نہیں کر سکتے لیکن ہم آج سے اس پر کام کرنا تو شروع کر سکتے ہیں‘‘۔ یہ ہے وہ دنیا جو فیس بک کا بانی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر ہم کون سی دنیا چاہتے ہیں؟ غراتی ہوئی‘ چنگھاڑتی ہوئی۔ جس کے گلے کی رگیں سرخ ہوں۔ جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہو۔ جس کے ایک ہاتھ میں تلوار ہو‘ دوسرے میں بم! جس کے کندھے پر بندوق ہو۔ جس کی کمر سے خنجر لٹک رہا ہو۔ جس کا نعرہ تکفیر ہو۔ فلاں مشرک ہے‘ فلاں بدعتی ہے‘ فلاں گستاخ ہے‘ فلاں جہنمی ہے‘ فلاں فلاں کا دشمن ہے‘ فلاں فلاں کا مخالف ہے! الامان والحفیظ! اے بدقسمت زکر برگ!! آ کر دیکھ! تیری فیس بک کس طرح استعمال ہو رہی ہے۔ مجھے ڈر ہے وہ خودکشی نہ کر لے۔ کپڑے پھاڑ کر جنگل کو نہ نکل جائے۔ بال بکھیر کر سینہ کوبی نہ شروع کر دے۔ کنویں میں چھلانگ نہ لگا دے۔ خود سوزی نہ کر لے۔ کنپٹی پر پستول رکھ کر گولی نہ چلا دے۔
میں فیس بک کھولتا ہوں۔ سامنے ایک سیاستدان‘ جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے ایک کشتی چھوڑ کر دوسری کشتی میں پناہ لی تھی‘ ایک مولانا کو وارننگ دے رہے ہیں کہ چوبیس گھنٹوں میں معافی نہ مانگی تو تھانے میں درخواست دے دوں گا۔ سکرول کرتا ہوں۔ ایک لمبا چوڑا مضمون یا بیان‘ اس بارے میں ہے کہ فلاں قسم کا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ اور نیچے جاتا ہوں۔ ایک پوسٹ پر لکھا ہے کہ فلاں مسلک اپنے سوا سارے جہان کو کافر سمجھتا ہے۔ اور یہ کہ اگر یہ سچ ہے تو فلاں پر لازم ہے کہ فلاں پر لعنت بھیجے۔ اور اگر جھوٹ ہے تو پھر فلاں پر لعنت بھیجے۔ مزید سکرول کرتا ہوں۔ پندرہ صدیوں پہلے کے حالات پر دھواں دار گفتگو بلکہ مناظرہ ہو رہا ہے۔ فریقین ایک ہی مسلک‘ ایک ہی گروہ سے وابستہ ہیں مگر کشتوں کے پشتے لگ رہے ہیں۔ مزید نیچے جاتا ہوں۔ پوسٹ پر لکھا ہے فلاں کو کس نے قتل کیا؟ یاد رہے کہ یہ قتل صدیوں پہلے ہوا تھا۔ اس کے بعد والی پوسٹ میں یقین سے اطلاع دی جا رہی ہے کہ فلاں فلاں عقیدے پر یقین رکھنے والوں کے لیے نجات ''سراسر ناممکن‘‘ ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ میں کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں اور آنکھیں بند کر کے بستر پر دراز ہو جاتا ہوں۔
یہ تو فیس بک کا حال ہے۔ یوٹیوب جس مصیبت سے گزر رہی ہے‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔ پے پال ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں ترسیلِ زر کا کام کرتی ہے۔ اس کے تین ملازموں نے مل کر یوٹیوب کی بنیاد ڈالی۔ ان تین میں ایک بنگالی نژاد جاوید کریم بھی تھا۔ جاوید کریم (اُس وقت) کے مشرقی جرمنی میں پیدا ہوا۔ باپ بنگلہ دیشی تھا جبکہ ماں جرمن! مشرقی جرمنی میں نسلی تعصب کی وجہ سے یہ خاندان مغربی جرمنی چلا گیا۔ وہاں بھی یہی حال تھا۔ پھر یہ کنبہ امریکہ چلا آیا۔ یوٹیوب کے دوسرے دو بانیوں میں ایک سٹیو چَین تھا اور تیسرا چاڈ ہرلے! یوٹیوب پاکستان میں جس اذیت سے گزر رہی ہے‘ ان تینوں بانیوں کو ڈھونڈ رہی ہے کہ کیا اسے اس لیے پیدا کیا تھا کہ مولوی صاحبان کے ہتھے چڑھ جائے؟ اور اس کی چیخیں نکل آئیں۔ ''یو ٹیوبر مولوی صاحبان‘‘ کا ایک پورا سلسلہ ہے جس نے دھومیں مچائی ہوئی ہیں۔ ان مولوی صاحبان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر جو چاہیں کہہ لیں‘ کوئی ان سے سوال نہیں کر سکتا۔ سوال کرنا چاہے تو کہاں کرے گا؟ وہ تو مورچوں میں چھپ کر گولا باری کر رہے ہیں! ان گولہ باری کرنے والوں میں ہر مسلک‘ ہر فرقے‘ ہر گروہ کے ''مردانِ کار‘‘ شامل ہیں! یہ حضرات قوم کو اور امت کو مسلسل‘ تقسیم در تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار رہے ہیں۔ ساتھ تجوریاں بھی بھر رہے ہیں۔ اپنے اپنے حصے کے بے وقوف سب کو ملے ہوئے ہیں۔ وقت پاکستانیوں کے پاس وافر ہے۔ جس قوم کے سپوت دو گاڑیوں کے جائے حادثہ پر گھنٹوں کھڑے ہو کر ''تماشا‘‘ دیکھ سکتے ہیں‘ وہ یوٹیوب پر پہروں بیانات‘ مناظروں‘ مجادلوں‘ فقہی جھگڑوں سے محظوظ کیوں نہیں ہو سکتے! کچھ یوٹیوبر‘ مذہب کا لبادہ اوڑھے‘ ملک سے باہر براجمان ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ریشمی نرم گود میں بیٹھ کر اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ایران اسرائیل‘ امریکہ کی جنگ میں کھل کر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد مؤقف تبدیل کر لیتے ہیں اور برملا تبدیل کر لیتے ہیں! ملک کے اندر‘ ایک یوٹیوبر صاحب کی سوئی‘ اللہ انہیں سلامت رکھے‘ شادیوں پر اٹکی ہوئی ہے۔ زیادہ شادیاں کرو‘ زیادہ اولاد پیدا کرو‘ مسلمانوں کی آبادی بڑھاؤ۔ اس مہم میں کامیابی کے گُر بھی بتاتے ہیں: مثلاً یہ کہ پہلے گھر میں جھوٹ بولو کہ دوسری (یا تیسری یا چوتھی) شادی کر لی ہے۔ اس سے طوفان اُٹھے گا۔ اگر طوفان سنبھال لو‘ تو بس پھر شادی کر لو۔ اگر نہ سنبھلے تو نہ کرو۔ نوٹ کیجیے کہ اس گُر کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ ایک اور یوٹیوبر صاحب برملا‘ فخر سے‘ سینہ تان کر‘ دعویٰ کرتے ہیں کہ ''ہم تو بات ہی اختلافی مسائل پر کرتے ہیں‘‘۔ ماشا اللہ! کسی گروہ‘ کسی مسلک‘ کسی مکتب فکر کو معاف نہیں کرتے۔ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں!! زبان بھی کافی تیز اور لہجہ جارحانہ پایا ہے۔ ایک دن اقبال پر برس رہے تھے کہ فلاں شعر غلط ہے۔ بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...