ماچس، بزرگ اور کان

''اسلام آ باد (نیو ز ر پورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی‘ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘ چاروں شخصیات نے ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘‘۔
خبر آپ نے پڑھی۔ یقینا آپ بھی میری طرح الحمدللہ کہیں گے۔ اس لیے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ چار بڑے جو ملک چلانے کے ذمہ دار ہیں‘ اپنے فرائض سے غافل نہیں۔ ہم عوام‘ گھوڑے بیچ کر سو سکتے ہیں۔ چاروں بڑوں میں مکمل اتحاد اور فکری ہم آہنگی ہے۔ اختلاف کا امکان ہے نہ گنجائش۔ یہ چاروں بڑے نہ صرف ایک ہی صوبے سے ہیں‘ نہ صرف ایک ہی شہر سے ہیں‘بلکہ ایک ہی خاندان سے ہیں۔ یہی وہ عامل ہے جو عوام کے دلوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ملک پر ایک ہی خاندان کی حکومت ہو‘ اور حکومت کی کریم باپ بیٹی پر‘ بھائی بھائی پر‘ چچا بھتیجی پر اور سمدھی سمدھی پر مشتمل ہو تو یگانگت ملک کیلئے نیک فال ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی اجلاس خلجی خاندان‘ تغلق خاندان اور مغل خاندان منعقد کیا کرتے تھے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ان خاندانوں کی حکومت صدیوں رہتی تھی۔ ہمارے آج کے شاہی خاندان کی حکومت کو بھی نصف صدی ہونے کو ہے۔ اس نصف صدی کے دوران ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تو کم و بیش سارا عرصہ ہی اس خاندان کے پاس رہا۔ ہاں وفاق پر اس خاندان نے حکومت‘ گاہے گاہے‘ ایک اور خاندان کے ساتھ مل کر کی۔ پنجابی میں محاورہ ہے: رَل کھائیے تے کھنڈ کھائیے۔ یعنی جو شے باہمی مل کر کھا ئی جاتی ہے‘ وہ کھانڈ کی طرح میٹھی ہوتی ہے۔ دونوں خاندانوں نے‘ ماشاء اللہ اس معاملے میں‘ اس محاورے پر پوری طرح عمل کیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے یہ کالم نگار بھی نئے صوبوں کے حق میں تھا مگر دیکھ رہا ہوں کہ موجودہ پارلیمنٹ کے ارکان مراعات کے حوالے سے 'ھل من مزید‘ کے نعرے بلند کر رہے ہیں‘ تنخواہیں فربہ سے فربہ تر کر رہے ہیں۔ سرکاری پاسپورٹوں کا اجرا آئندہ نسلوں تک لے جانا چاہتے ہیں‘ اکثرو بیشتر عمدہ قسم کی ربڑ سٹمپ ثابت ہوتے ہیں‘ اور اجلاس اٹینڈ کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے صوبوں کی تشکیل کا سوچ کر لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اختیارات کو نیچے لایا جائے اور تحصیل اور ضلع میں مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ جنرل پرویز مشرف سے ایک یہی کام اچھا صادر ہوا کہ ضلعی حکومتوں کو قائم کیا تھا۔ (ن) لیگ اور پی پی پی نے آکر اس نوخیز پودے کو درانتی سے کاٹا اور جانوروں کے چارے کا حصہ بنا دیا۔ دونوں بڑی جماعتیں نئے صوبوں کے حق میں نہیں۔ ایک سندھ کو صوبوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہتی۔ دوسری پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف ہے۔ یعنی لاڈلا پن ملاحظہ ہو کہ نئے صوبے بھی نہیں منظور اور صوبے کے اندر مقامی حکومتیں بھی نہیں گوارا۔ چپڑی اور دو دو۔ صوبے کی ظاہری اور کاغذی حدود تو بھکر سے لے کر قصور تک اور رحیم یار خان سے لے کر اٹک تک چاہئیں۔ لیکن پیار محبت صرف سینٹرل پنجاب کے چار پانچ اضلاع تک!! ولی دکنی کا شعر یاد آ گیا:
عدو کو بادۂ خوش رنگ دے کے کہتے ہیں
ولی ولی ہے‘ ولی نے پیا‘ پیا‘ نہ پیا
دو بڑی پارٹیاں‘ جن کے پاس ملک کو چلانے کا ٹھیکہ غیر معینہ مدت تک ہے‘ اپنی بقا اور فیس سیونگ کیلئے بہتر ہے کہ مقامی حکومتوں کا ڈول ڈال لیں اور خانہ پُری کیلئے نہیں بلکہ خلوص سے!! فنڈز اور اختیارات مقامی حکومتوں کے حوالے کریں۔ ایسا نہ ہو کہ جو ہاتھ میں ہے اس سے بھی جائیں! کہ بقول فیض:
پاپوش کی کیا فکر ہے دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج‘ گزر جائے گی سر سے
نصف صدی سے حکومتوں پر قابض خاندانوں کو چاہیے کہ خطے کی ہمعصر تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ نیپال اور پاکستان کے عوام کا ذہنی اور سماجی ڈی این اے ایک ہی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہاں بھی کاکروچ یا چیونٹیاں یا شہد کی مکھیاں حملہ کر دیں‘ آنکھیں کھولیں۔ اگر نیپال کے عوام اس لیے اٹھ سکتے ہیں کہ حکمرانوں کے بچے امیر ملکوں میں گلچھرے اڑا رہے تھے تو یہاں بھی لوگ پوچھ سکتے ہیں اور پوچھیں گے کہ پوتے اور نواسے برطانیہ میں گالف کس حساب سے کھیل رہے ہیں اور ''وطنِ اصلی‘‘ لندن یا دبئی میں کیوں ہے؟ یہ خاندان یاد رکھیں:
یوں بھی ہوتا ہے کہ آندھی کے مقابل چڑیا
اپنے پر تولتی ہے
اک بھڑکتے ہوئے شعلے پہ ٹپک جائے اگر
بوند بھی بولتی ہے!
ناصر کاظمی نے صبر کی تلقین کی تھی:
تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
کوئی دن اور سہہ لے ستم‘ صبر کر صبر کر
یہ محلاتِ شاہی‘ تباہی کے ہیں منتظر
گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر کر
کہیں ناصر کاظمی کی بات نہ مانتے ہوئے لوگ شہزاد احمد کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چل پڑیں جس نے کہا تھا:
اپنا حق شہزادؔ ہم چھینیں گے‘ مانگیں گے نہیں!
اوپر نئے صوبوں اور مقامی حکومتوں کی بات ہوئی ہے۔ اس وقت ہمارے سیاستدانوں میں جناب نواز شریف سینئر ترین سیاستدان ہیں۔ ایک بڑی پارٹی انہیں اپنا قائد کہتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے اور وفاق میں کئی بار حکومتوں کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ وقت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ آگے بڑھتے۔ اس تنازعے کو سلجھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے اور حکمرانوں اور مقتدرہ کو ایک نکتے پر جمع کرتے مگر افسوس! وہ اُس بورڈ کے سربراہ بن گئے ہیں جو لاہور کی ثقافتی میراث کو سنبھالے گا! عمر بھر ہنگامہ پرور سیاست کرنے والے شورش کاشمیری نے جب ہفت روزہ چٹان نکالا تو کسی نے کہا تھا کہ طوفانوں سے لڑنے والا شورش ایک چٹان کا سہارا لے کر بیٹھ گیا ہے۔ میاں صاحب نے بھی یہی کیا ہے۔ کہاں وزارتِ عظمیٰ اور جلا وطنیاں اور پابندیاں! اور کہاں محض ایک شہر کی ثقافتی زندگی کی ذمہ داری!! ملک کے کچھ مسائل بظاہر لاینحل ہیں اور ملک کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں‘ جیسے زرعی اصلاحات جس کے حوالے سے ہم بھارت سے بہت پیچھے ہیں۔ سرداری نظام گُھن کی طرح کھا رہا ہے۔ لازم تھا کہ اس معاملے میں ایک بااختیار کمیشن بنتا اور بڑے میاں صاحب اس کے سربراہ ہوتے۔ کچھ کر کے دکھاتے! نظام تعلیم کی ابتری اور انارکی دور کرنے کیلئے بھی ایک بااختیار کمیشن بننا چاہیے۔ میاں صاحب اس کے بھی سربراہ بنیں۔ مگر مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان مسائل کے حل کیلئے گہرائی‘ گیرائی‘ مطالعہ اور ادراک کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک بزرگ تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ دانا ہیں۔ ان سے ایک طالبعلم نے پوچھا کہ حضرت! زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے؟ بزرگ کچھ دیر مراقبے میں چلے گئے۔ واپس آئے تو حکم دیا کہ ماچس لائی جائے۔ حسبِ حکم ماچس لائی گئی۔ سب تیلیاں نکالیں۔ پھر اندر ڈالیں۔ دیکھنے والے دم بخود! پھر سوچتے رہے۔ پھر ایک تیلی نکالی۔ مسالے والا حصہ توڑ کر پھینک دیا۔ جو باقی بچی اس سے کان کھجلانے لگے اور بولے: بیٹا مجھے کیا معلوم!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...