"KMK" (space) message & send to 7575

چھ سال پرانی ملاقات کی تازہ صورتحال…(3)

میں جب اپنے دوست کو ملتان سے اس کا پیٹ سکین کرانے کی غرض سے شیخ زاید ہسپتال سے منسلک انمول (انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ اونکالوجی لاہور) میں لے کر پہنچا تو وہاں میری ملاقات ڈاکٹر نُمیر سے ہوئی۔ گو کہ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی مگر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب میں وہاں سے اٹھا تو مجھے لگتا ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ میری پہلی ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے زیادہ اپنے شعبے کے ساتھ والہانہ محبت اور بے لوث وابستگی تھی۔ ملتان آ کر بھی میں اس پورے خطے میں پیٹ سکینر جیسی اہم اور ضروری سہولت سے محرومی پر فکرمند رہا۔ تاہم کچھ ہی دنوں بعد وزیراعلیٰ سے ہونے والی ملاقات کو میں نے اللہ کی طرف سے اس سلسلے میں ایک ذریعہ سمجھتے ہوئے پیٹ سکینر کیلئے کوشش شروع کی جو سراسر مخلوقِ خدا کی آسانی اور سہولت کیلئے تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اس فقیر کی خاص مدد فرمائی اور معاملات آگے چل پڑے۔ اس دوران جب میں نے پیٹ سکینر کی تنصیب کیلئے مینار کے بجائے نشتر ہسپتال کا سنا تو اس پر کالم بھی لکھا اور نوٹ لکھ لکھ کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موجود اپنے دوست کو بھی بھیجتا رہا۔ سچ پوچھیں تو میرا مسئلہ نہ تو نشتر ہسپتال تھا اور نہ ہی ''مینار‘‘ تھا۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ یہ ڈیڑھ دو ارب روپے کا پروجیکٹ ویسے ہی برباد نہ ہو جائے جیسے ہمارے ہاں بہت سی چیزیں صرف نااہل لوگوں کے ہاتھ میں جانے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ میں بدل جاتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ وڈیو گیم میں نہایت مہارت سے جنگی جہاز اڑانے والے کسی ٹین ایجر کو اس کی کمپیوٹر پر جہاز اڑانے کی صلاحیت کی بنیاد پر ایف سولہ جنگی جہاز کا پائلٹ منتخب کر لیں یا اپنی مرسڈیز گاڑی کو چلانے کیلئے کسی بیروزگار لیکن سفارشی سائیکل رکشے والے کو شوفر لگا لیں۔ میرا زور تو صرف اس بات پر تھا کہ دنیا بھر میں اس مشین کو چلانے کیلئے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن جبکہ اس کی دیکھ بھال‘ مرمت اور مینٹیننس کیلئے درکار تکنیکی عملہ نیوکلیئر انجینئرنگ اور نیوکلیئر فزکس کے ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے ماہرین نہ صرف یہ کہ نشتر ہسپتال میں میسر نہیں بلکہ ''مینار‘‘ میں یہ دونوں سہولتیں پہلے سے میسر ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ نشتر ہسپتال میں نصب پیٹ سکینر کی نسبت کہیں کم پیچیدہ اور حساس سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کی مشینیں اگر خراب ہو جائیں تو لاہور وغیرہ سے مرمت کیلئے آنے والے تکنیکی عملے کے انتظار میں کئی کئی ہفتے بند رہتی ہیں۔ ایسی صورت میں پیٹ سکینر جیسی انتہائی مہنگی مشین کو اناڑیوں یا کم علم کے حامل عملے کے سپرد کرنا اس کو برباد کرنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا میری تمام کوششیں صرف یہ تھیں کہ مشین درست ہاتھوں میں چلی جائے۔
ملتان میں پیٹ سکینر کی تنصیب کیلئے معاملات میں پیش رفت شروع ہوئی تو حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنا دی۔ یہ محض اتفاق ہے کہ انمول میں تعینات نیوکلیئر میڈیسن فزیشن ڈاکٹر نُمیر کو بھی اس کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔ اس کمیٹی کے ممبر کے طور پر ڈاکٹر نمیر نے کئی بار ملتان کا دورہ کیا‘ اپنی ذاتی گاڑی پر بغیر کسی ٹی اے‘ ڈی اے کلیم اور کسی ہوٹل میں رہائش کی فرمائش سے بالاتر ہو کر وہ صبح لاہور سے آتے‘ کھانا اپنے پلّے سے کھاتے‘ میٹنگ اٹینڈ کرتے اور رات ہونے سے پہلے واپس لاہور چلے جاتے۔ اپنے عملی تجربے کی روشنی میں وہ اس سلسلے میں جس حد تک مدد‘ مشورہ اور تکنیکی معاونت کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پیٹ سکینر ملتان نشتر ہسپتال میں پہنچ چکا ہے۔
پیٹ سکینر کے مکمل نظام کو چلانے کیلئے اضافی سہولتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔ سب سے اہم چیز سائیکلو ٹرون سے ریڈیو آئسوٹوپ تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو کیمسٹری لیبارٹری درکار ہے جہاں ان آئسو ٹوپس سے FDG اور دیگر ادویات بنائی جاتی ہیں۔ اس کیلئے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن‘ نیوکلیئر میڈیسن ٹیکنالوجسٹ‘ میڈیکل فزیسسٹ‘ ریڈیو فارماسسٹ یا ریڈیو کیمسٹ کے علاوہ تربیت یافتہ معاون عملہ‘ ریڈی ایشن سیفٹی‘ ریڈیو فارمیسی‘ کمپیوٹر سسٹم اور کوالٹی کنٹرول سسٹم کی سہولتیں درکار ہیں۔ پیٹ سکینر کو اس کے پروٹوکول کے مطابق چلانا پندرہ بیس لوگوں کی انتہائی تربیت یافتہ ٹیم کا کام ہے۔ نشتر ہسپتال میں صرف پیٹ سکینر ہی نہیں بلکہ سائیکلوٹرون بھی نصب کیا جا رہا ہے۔ پیٹ سکین کیلئے پہلے انسانی جسم میں ایک تابکار نیوکلیئر دوائی داخل کی جاتی ہے جو یہ سائیکلو ٹرون تیار کرتا ہے۔
میڈیکل سائیکلو ٹرون ایک چھوٹے پیمانے کے جوہری ری ایکٹر کی مانند ہوتا ہے جو ذرات (Particles) کو تیز رفتار دیتا ہے اور پی ای ٹی (PET) امیجنگ کیلئے مختصر عمر رکھنے والی تابکار نیوکلیئر ادویات تیار کرتا ہے۔ سائیکلو ٹرون برقی بار رکھنے والے ذرات (عموماً پروٹونز) کو دائرہ نما یا سپائرل راستے میں انتہائی تیز رفتار سے گردش کراتا ہے۔ یہ ایک مخصوص قسم کے پانی کو تابکار دوا میں تبدیل کرتا ہے جو پی ای ٹی سکین میں استعمال ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پروسٹیٹ اور دیگر اقسام کے سرطان اور کئی غیر سرطانی بیماریوں کی تشخیص کیلئے بھی متعدد نئی نیوکلیئر ادویات تیار کی جا چکی ہیں۔ سائیکلو ٹرون کے مؤثر طریقے سے کام کرنے کیلئے متعدد برقی اور میکینکل پرزوں کی ضرورت ہوتی ہے‘ جبکہ تابکاری سے تحفظ (Radiation Safety) کیلئے بھی خصوصی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ بعض جدید سائیکلو ٹرون بڑی مقدار میں تابکار دوا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نشتر ہسپتال میں لگنے والے سائیکلو ٹرون سے اتنی مقدار میں دوا تیار کی جا سکتی ہے کہ نشتر ہسپتال کے مریضوں کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک کے ذریعے ملتان اور قریبی شہروں میں قائم دیگر پیٹ سکینرز کو بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ میڈیکل سائیکلو ٹرون کو چلانے کیلئے ایک مکمل ماہر ٹیم درکار ہوتی ہے‘ کیونکہ اس کے تمام امور کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں ہوتا۔ مختلف ممالک کے ضوابط اور ادارے کے حجم کے مطابق ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس سہولت کو کامیابی سے چلانے کیلئے سائیکلو ٹرون انجینئر‘ سائیکلو ٹرون آپریٹر‘ ریڈیو کیمسٹ‘ ریڈیو فارماسسٹ‘ میڈیکل فزیسسٹ‘ نیوکلیئر میڈیسن فزیشن‘ پی ای ٹی‘ سی ٹی میں تربیت یافتہ ریڈیولوجسٹ اور تکنیکی عملے کی ایک مکمل ٹیم ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) سے پی ای ٹی‘ سی ٹی اور سائیکلو ٹرون کی تنصیب اور آپریشن کیلئے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔ میڈیکل فزیسسٹ اور سینئر نیوکلیئر میڈیسن فزیشن کی موجودگی کے بغیر اس سہولت کی منظوری نہیں دی جا سکتی۔
میڈیکل سائیکلو ٹرون چلانے والے عملے کو اس کی دیکھ بھال اور آپریشن‘ تابکاری سے تحفظ‘ گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس (GMP)‘ ریڈیو کیمسٹری‘ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار‘ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال‘ اور پی ای ٹی‘ سی ٹی سکین کی تشریح اور رپورٹ تیار کرنے کی مہارت کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس نازک کام کی انجام دہی کیلئے اگر اس مہارت کا حامل عملہ متعین نہ کیا گیا تو نہ صرف دو ارب کے لگ بھگ رقم ضائع چلی جائے گی بلکہ یہ سارا خطہ اس سہولت سے فائدہ بھی نہیں اٹھا پائے گا۔ نشتر ہسپتال کے ناقابلِ اصلاح حد تک بگڑے ہوئے انتظامی مسائل کے باعث مجھے خطرہ ہے کہ دو ارب روپے مالیت کے پیٹ سکینر نامی جے ایف 17 تھنڈر کی پائلٹ سیٹ پر کوئی چنگ چی کا ڈرائیور نہ بٹھا دیا جائے۔ اس قلمکار کے پاس سوائے کالم لکھنے کے اور کوئی ذریعہ نہیں جس کے زور پر ڈرائیونگ سے قطعی لاعلم ہیلپر کلینر کو مسافر بس کی ڈرائیوری سے روک سکے۔ (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...