"KMK" (space) message & send to 7575

پرندے‘ جانور‘ شکار اور سپر ٹسکر ہاتھی

آپ اسے ''چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے‘‘ سمجھ لیں یا تھوڑے مہذب الفاظ میں پنجابی کی اس کہاوت سے تعبیر کر لیں کہ عادتیں سروں کے ساتھ جاتی ہیں‘ یعنی عادتیں زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں اور مرنے پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہ مسافر شکار سے تقریباً ریٹائر ہو چکا ہے لیکن جانوروں‘ پرندوں‘ جنگلوں اور شکار حتیٰ کہ بندوقوں سے اس کی دلچسپی ہزار کوشش کے باوجود ختم نہیں ہو پا رہی؛ چنانچہ ان میں سے کوئی چیز کہیں دکھائی دے جائے تو قدم خود بخود رک جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کھلے عام تالابوں‘ جھیلوں اور ندی نالوں میں تیرتی یا کناروں پر چلتی پھرتی مرغابیاں‘ قاز (Goose) یا ہنس دکھائی دیں تو ہاتھوں میں کھجلی ضرور ہوتی ہے لیکن اب اس کھجلی پر کسی حد تک قابو پانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ اگرچہ امریکہ میں صرف ضبط ہی کافی نہیں بلکہ شکار کے سخت قوانین‘ لائسنس‘ پرمٹ اور سیزن کی پابندیاں بھی درمیان میں آ جاتی ہیں۔ ہزار بار دل کرتا ہے کہ سیزن میں یہاں آؤں‘ لائسنس حاصل کروں اور برادرِ عزیز کے پاس پڑی ہوئی اپنی 300 ونچسٹر میگنم رائفل سے شکار کروں۔ سینکڑوں بار سڑکوں سے گزرتے ہوئے سفید دم والے ہرن اپنی جھلک دکھاتے ہیں۔ برادرِ بزرگ کے گھر کے پچھلے صحن میں بنے ہوئے چھوٹے سے مچھلیوں کے تالاب پر پانی پینے آ جاتے ہیں۔ میری لینڈ میں بالٹی مور کے اندر اپنے دوست عرفان یعقوب کے گھر سے ذرا باہر نکلوں تو آٹھ آٹھ‘ دس دس ہرنوں کے غول چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دل مچلتا ہے‘ لیکن مجبوری بھی ہے۔
شکار میرا شوق تھا اور دوست بھی ایسے ملے جو شاید مجھ سے کہیں بڑھ کر اس لت میں مبتلا تھے۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ دوست بکھر گئے‘ جانور اور پرندے خطرناک حد تک کم ہو گئے۔ زندگی کی دیگر مصروفیات نے سر اٹھا لیا‘ نظر نے بھی دھوکا دینا شروع کر دیا اور اب گھٹنے بھی جواب دے رہے ہیں‘ اس لیے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ لیکن دل کم بخت آج بھی ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو مچل اٹھتا ہے۔
شکار کے علاوہ جانوروں سے میری دلچسپی بچپن ہی سے رہی ہے۔ شاید میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ گرمیوں کی چھٹیاں لاہور میں گزرتی تھیں۔ ماموں محمود اللہ صدیقی کے لوہاری دروازے کے اندر واقع گھر سے میں چڑیا گھر کے ٹکٹ کے پیسے لے کر پیدل نکلتا‘ نئی انارکلی سے گزرتا‘ مال روڈ پر چلتے ہوئے چڑیا گھر پہنچ جاتا۔ دو‘ تین یا چار گھنٹے وہاں گزارتا اور پھر پیدل ہی واپس ماموں کے گھر آ جاتا۔ اس زمانے میں تھکاوٹ نام کی کسی چیز سے ہماری کوئی واقفیت نہ تھی۔ میرا دوسرا پسندیدہ گھر شادباغ میں تایا نواز کا گھر تھا۔ اگرچہ وہ چڑیا گھر سے کافی فاصلے پر تھا لیکن ہر دوسرے یا چوتھے دن میں ضد پکڑ لیتا کہ مجھے چڑیا گھر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ تائی اقبال کو غریقِ رحمت کرے وہ کسی نہ کسی بچے کو ڈانٹ کر کہتیں کہ بچہ ملتان سے آیا ہوا ہے اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا؟ کبھی بھائی پرویز اور کبھی بھائی خالد کی ڈیوٹی لگتی کہ وہ مجھے چڑیا گھر دکھا کر لائیں۔ دونوں بھائی میری اس بار بار کی فرمائش سے تنگ آ چکے تھے لیکن بھائی پرویز اللہ تعالیٰ انہیں خوش رکھے‘ یہ کام بڑی خوش دلی سے کرتے جبکہ خالد بھائی سارا راستہ منہ پھلائے رہتے۔ بہرحال تائی کے حکم کے آگے کسی کو انکار کی مجال نہ تھی اور یوں اس چڑیا گھر کے شوقین کا کام چلتا رہتا تھا۔ یہی حال میں بہاولپور میں نانی اماں کے گھر کرتا۔ میری سگی نانی اماں کو تو میری والدہ مرحومہ نے بھی شاید ہوش میں نہیں دیکھا تھا۔ بہاولپور والی نانی اماں کی ایک بیٹی تھی جو خاندانی جائیداد کے چکر میں قتل کر دی گئی تھی۔ میری والدہ نے کبھی اپنی حقیقی والدہ کی شفقت نہیں دیکھی تھی۔ سو اب بہاولپور والی نانی اماں ہی ہماری نانی اماں تھیں جنہوں نے میری والدہ کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ سکول میں چھٹیاں ہوتیں تو میں دو چار دن کے لیے بہاولپور چلا جاتا۔ ہر روز صبح ان کا ملازم مجھے سائیکل پر بہاولپور کے چڑیا گھر میں چھوڑ آتا۔ سستا زمانہ تھا‘ نانی اماں روزانہ پانچ روپے علاوہ چڑیا گھر کے ٹکٹ کے‘ خرچ کے لیے دیتی تھیں۔ اس میں سے بیشتر پیسوں سے چڑیا گھر کے باہر بیٹھے ہوئے چنے والوں سے بندروں کے لیے چنے خریدے جاتے۔ دوپہرکے وقت نانی اماں کا ملازم آتا‘ پورے چڑیا گھر میں مجھے تلاش کرتا کسی درخت کے نیچے دستر خوان بچھاتا‘ ٹفن کیریئر کھول کے مجھے کھانا کھلاتا اور پھر وہ واپس چلا جاتا۔ پھر وہ دوبارہ چار بجے کے لگ بھگ‘ جب چڑیا گھر بند ہونے والا ہوتا‘ آتا اور مجھے واپس لے جاتا۔ میں بہاولپور سال میں دو تین بار جاتا‘ تین چار روز کے اس قیام کے دوران بلاناغہ چڑیا گھر جایا جاتا۔ پھر سب کچھ خواب وخیال ہو گیا۔
ادھر امریکہ میں بے شمار جانور ہیں‘ پرندے ہیں‘ بندوقیں ہیں اور سب سے بڑھ کر قانونی پابندیوں کے ساتھ ہمہ قسم کے مواقع ہیں۔ غرض پرانے شوق کی آبیاری کے لیے ہر چیز موجود ہے۔ جانوروں سے دلچسپی بلکہ محبت آج بھی برقرار ہے۔ یہاں جنگلی حیات کے تحفظ کے انتظامات دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ یہی ماڈل پاکستان میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ معدوم ہوتی جنگلی حیات کو نئی زندگی مل سکے۔ تاہم امریکہ میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کاوشوں کو سراہنے کے باوجود یہ حقیقت ذہن سے نہیں نکلتی کہ روئے زمین پر جنگلی حیات کو جتنا نقصان بندوق‘ بارود اور ان دونوں کو عروج پر لے جانے والے گوروں نے پہنچایا شاید ہی تاریخ میں کسی اور نے پہنچایا ہو۔ گوروں نے ٹرافی ہنٹنگ کے نام پر جانوروں کا ایسا قتلِ عام کیا کہ خدا کی پناہ۔ امریکی بائسن کے بارے میں چند روز پہلے لکھ چکا ہوں۔ چند روز پہلے خبر ملی کہ کینیا کے امبوسیلی نیشنل پارک میں موجود ایک اور سپر ٹسکر ہاتھی جس کا نام ''ون ٹن ٹسکر‘‘ تھا‘ مر گیا ہے۔ اس ہاتھی نے باون برس کی عمر پائی اور خوش قسمتی سے کسی شکاری کا نشانہ بننے کے بجائے طبعی موت مرا۔
ایک زمانہ تھا جب افریقہ کے جنگلوں میں شاید سینکڑوں سپر ٹسکر ہاتھی موجود تھے۔ ٹسک کی اردو 'باہر نکل ہوا دانت‘ ہے۔ ہاتھی کے علاوہ والرس اور وارتھوگ کے دانت کو بھی ٹسک کہا جاتا ہے۔ سپر ٹسکر ان ہاتھیوں کو کہا جاتا ہے جن کا ہر بیرونی دانت سو پاؤنڈ‘ یعنی تقریباً 45کلو گرام سے زیادہ وزنی ہو۔ ایسے دانت اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ تقریباً زمین کو چھونے لگتے ہیں۔ یہ ہاتھی جینیاتی اعتبار سے بھی عام ہاتھیوں سے کسی حد تک مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی یہی خوبی‘ یہی شاندار اور دیوہیکل دانت‘ ان کے لیے سب سے بڑی مصیبت بن گئے۔
ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کرنے والے شکاریوں نے اور اس سے پہلے قانونی طور پر ٹرافی ہنٹنگ کرنے والوں نے ان سپر ٹسکر ہاتھیوں کا اس بے رحمی سے شکار کیا کہ آج دنیا بھر میں سخت ترین حفاظتی اقدامات کے باوجود ان کی تعداد شاید ایک یا دو درجن سے زیادہ نہیں رہی۔ ون ٹن ٹسکر بھی انہی نایاب سپر ٹسکر ہاتھیوں میں شامل تھا جو پانچ جولائی کو کینیا میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس سے پہلے اسی امبوسلی نیشنل پارک میں مقیم دنیا بھر میں مشہور سپر ٹسکر‘ کریگ‘ چون برس کی عمر گزارنے کے بعد تین جنوری 2026ء کو اپنی طبعی موت مرا۔
تحفظِ جنگلی حیات کے حلقوں میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کم از کم یہ دونوں سپر ٹسکر ہاتھی اپنی طبعی موت مرے‘ جبکہ ماضی میں کئی سپر ٹسکر‘ ہاتھی دانت کی ناجائز تجارت کرنے والے شکاریوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ 2014ء میں تساوو نیشنل پارک کینیا میں غیر قانونی شکاریوں نے سپر ٹسکر ساتاؤ کو مار کر اس کے دانٹ کاٹ لیے‘ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے جمہوریت کے دانت کانٹ کر لے جاتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...