اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو‘ ڈھائی دہائیوں کے دوران ہماری مسلح افواج‘ پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کو پسپا کرنے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا‘ لیکن یہ ناسور ابھی تک جڑ سے ختم نہیں ہو سکا۔انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء میں پاکستان کو 2025ء میں دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا۔ 2026ء کے گزشتہ سات ماہ کے دوران بھی ملک بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا تواتر سے دہشت گردی کی زد میں رہے ہیں۔ سکیورٹی مسائل سب سے زیادہ بلوچستان میں ہیں‘ جہاں دہشت گردی سے مجموعی اموات جون میں 109 کے مقابلے میں 241 فیصد اضافے کے ساتھ جولائی میں 372 تک پہنچ گئیں۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے اور اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے سب سے اہم صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر جولائی کے شروع سے سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ کارروائیاں پہلے ''شعبان‘‘ اور اب ''العزم‘‘ کے نام سے کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کے تحت جاری ہیں۔ ان آپریشنز میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے مطابق پانچ جولائی سے 15 جولائی تک 129دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ 31 جولائی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو پریس کانفرنس کی اس میں بلوچستان کے مسئلے کو تفصیلی طور پر ڈسکس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک بلوچستان میں 31 ہزار 80 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ہیں‘ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں آپریشنز کی تعداد سات ہزار 177 رہی۔ ترجمان پاک فوج کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر باہر نہیں پھینک دیا جاتا۔سکیورٹی امور سے متعلق ایک پاکستانی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی کا مہینہ خاص طور پر خونریز ثابت ہوا۔ اس مہینے میں دہشت گردی کے 71واقعات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جولائی میں 112 سکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہوئے۔ البتہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 401 دہشت گرد مارے گئے‘ جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں کسی ایک مہینے کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے 19 ارکان بھی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔جولائی میں خودکش حملوں کے کم از کم آٹھ واقعات رپورٹ ہوئے اور یہ بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی ایک مہینے میں ریکارڈ کیے گئے خودکش حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس رپورٹ میں آنے والے مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعات اب پھر سے ان علاقوں تک پھیلنے لگے ہیں جو اس سے پہلے پُرامن یا آپریشنز کے بعد دہشت گردوں سے پاک سمجھے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک افسوسناک واقعہ جمعہ‘ 24 جولائی کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پیش آیا جس میں فوج اور پولیس کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ حملہ کیا۔ اس حملے میں 15 اہلکارشہید ہوئے جن میں 12فوجی‘ دو پولیس اہلکار جبکہ ایک محکمہ جنگلات کا عہدیدار تھا۔29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس میں ایک ڈی ایس پی سمیت نو پولیس اہلکار شہید اور 26 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل بلوچستان میں ایک ڈی ایس پی اور ایک سیشن جج سمیت متعدد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ملک میں دہشت گردی کی اس اٹھتی ہوئی لہر‘ خاص طور پر بلوچستان کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کیا ہے جس کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور آخری دہشت گرد کے ختم ہونے تک یہ مہم جاری رہے گی۔ قوم کو اپنی سکیورٹی فورسز پر پورا اعتماد ہے اور وہ ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اس بات پر بھی ملک میں مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ جو عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ ان سے پوری قوت کے ساتھ نمٹنا چاہیے‘ مگر اس مقصد کیلئے عوام کا اعتماد حاصل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ عوام کی حمایت کے بغیر کوئی جنگ‘ خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ نہیں جیتی جا سکتی۔ دہشت گردی کے خلاف موجودہ حکمت عملی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں طاقت کے استعمال پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے‘ جو موجودہ حالات میں اگرچہ ناگزیر ہے مگر ایک جامع اور طویل حکمتِ عملی میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی ذرائع کا استعمال بھی لازمی ہے ۔
پاکستان‘ خاص طور پر بلوچستان میں جو نوجوان مرد اور خواتین دہشت گردی میں ملوث ہیں ان میں سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اس غلط راہ پر چل رہے ہوں۔ ان کے ساتھ رابطہ پیدا کر کے اور ڈائیلاگ کا طریقہ اختیار کر کے انہیں راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ مہینے کوئٹہ میں گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاتھا کہ بلوچستان کے وہ نوجوان جو دہشت گردوں کے گمراہ کرنے پر اُن کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں‘ ان کو قومی دھارے میں لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ بلوچستان میں تصادم کا باعث بننے والے تنازعات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔بلوچستان کے مسئلے سے جو لوگ واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے اور اسے صرف طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پرویز مشرف کہا کرتے تھے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف چند سرداروں کا پیدا کردہ ہے‘ اور 2005ء میں نواب اکبر بگٹی کو ختم کر کے سمجھ بیٹھے تھے کہ بلوچستان کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اب معاملہ صرف چند سرداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دہشت گرد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم نوجوانوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر تے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک پریس ریلیز میں بھی کہا گیا کہ گرفتار ہونے والے مشتبہ دہشت گردوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر کراچی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے اور چینیوں کو خودکش حملے سے ہلاک کرنے والی خاتون نہ صرف پڑھی لکھی تھی بلکہ ایک ماں بھی تھی۔ بی این پی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل کی رائے میں بلوچستان کا مسئلہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے گزر چکا لیکن ڈائیلاگ کے ذریعے اب بھی حل نکالاجا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شخصیات ہمت کریں اور دیگر حلقوں کو بھی قائل کر یں اور بلوچستان میں اپنے امن مشن کا آغاز کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments