"DRA" (space) message & send to 7575

ایران کیلئے آبنائے ہرمز اہم کیوں ہے؟

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے خاتمے اور مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کیلئے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں 18 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم اویو) پر ڈیجیٹل دستخط ہوئے تھے۔ اس کے بعد 21 جون سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ ایم او یو میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ اسی عمل کو نتیجہ خیز بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع اور مستقل معاہدہ طے کرنے کیلئے 60 دن کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ اس روڈ میپ کے طے پانے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کو ایران امریکہ تصادم سے جو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے‘ انہیں دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے حالات اس کے برعکس رخ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی ساحلی علاقوں میں واقع دفاعی تنصیبات پر حملے کیے اور انہیں تباہ کر دیا۔ جواباً ایران نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی بحری اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر 18 جون کو طے پانیوالے ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے تھے۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنیوالے بحری جہازوں‘ جن میں آئل ٹینکرز اور کارگو جہاز شامل ہیں‘ کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس کے جنوبی ساحلی علاقوں پر کیے جانے والے امریکی فضائی حملے ایم او یو کی صریح خلاف ورزی ہیں جنہیں ایران کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
ہوا یوں کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ایرانی حصے کے متبادل کے طور پر سلطنتِ عمان کے علاقائی سمندر سے گزرنے والی ایک نئی بحری گزرگاہ استعمال کرتے ہوئے کمرشل جہازوں کو وہاں سے گزارنے کی کوشش کی۔ اس پر ایران نے اس متبادل راستے کو استعمال کرنے والی تمام بحری کمپنیوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایم او یو میں آبنائے ہرمز سے کمرشل جہازوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرنے کیلئے طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور اگر انہوں نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو اپنے ہر قسم کے نقصان کی خود ذمہ دار ہوں گی۔ اسی دوران پاناما کے پرچم بردار ایک کمرشل جہاز نے ایرانی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ اس پر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی پر مامور ایرانی گارڈز نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے جہاز کو نقصان تو پہنچا‘ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور وہ جہاز اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ اسکے بعد اسی نوعیت کی کوشش کرنیوالے دیگر جہازوں پر بھی‘ امریکہ کے بقول‘ ایران نے ڈرون حملے کیے جن میں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تین ڈرون مار گرائے گئے جبکہ ایک ڈرون ایک جہاز کے ڈیک کے اوپری حصے سے ٹکرا گیا جس سے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے طیاروں نے ایران کے جنوبی ساحل پر واقع بندر عباس اور جزیرہ قشم میں موجود ایرانی دفاعی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ ایران نے تکنیکی مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اگر امریکہ طے شدہ روڈ میپ کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایم او یو میں درج شرائط پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ ان شرائط میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختار حقوق کو تسلیم کرے۔
ایرانی حکام‘ جن میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں‘ متعدد مواقع پر اپنے بیانات میں واضح کر چکے کہ آبنائے ہرمز ایران کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہ اس پر اپنے خودمختار حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتے ہیں‘ جہاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ متعدد کنونشنز اور قراردادوں کے مطابق ہر تجارتی اور بحری جہاز کو بلا روک ٹوک اور کسی بھی قسم کا محصول ادا کیے بغیر گزرنے کا حق حاصل ہے۔ آخر ایران آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور وہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے پر کیوں مُصر ہے؟ اس سوال کا جواب نہایت واضح اور سادہ ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کیلئے کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر اور طاقتور تزویراتی ہتھیار ہے۔ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اور تباہ کن حملوں کے سلسلے کو ناکام بنانے میں جس ہتھیار نے سب سے اہم کردار ادا کیا‘ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش تھی۔ اس اقدام کے نتیجے میں بین الاقوامی آئل مارکیٹ میں تیل کی رسد میں 20 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہو گئی۔ عالمی منڈی اس شدید جھٹکے کیلئے بالکل تیار نہیں تھی۔ بالخصوص چین‘ جاپان‘ بھارت اور جنوبی کوریا جیسے ممالک‘ جن کی معیشتوں کا انحصار بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے درآمد ہونے والے تیل اور گیس پر ہے‘ ان کیلئے توانائی کی سپلائی کا اچانک متاثر ہونا ناقابلِ برداشت صورتحال اختیار کر گیا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ‘ جسکے بارے میں صدر ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک جنگ کے میدان میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ اس کے علاوہ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی اپنی توانائی کی برآمدات کیلئے بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کو 1973-74ء کے آئل ایمبارگو سے تشبیہ دی جا سکتی ہے‘ جس نے نہ صرف پورے یورپ بلکہ امریکہ کو بھی تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بہت سے ماہرین اور بین الاقوامی امور کے مبصرین کی رائے ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت اور کنٹرول سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا‘ کیونکہ اس کے نزدیک خطے میں جنگ دوبارہ کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لبنان کی صورتحال ہے جہاں جنگ بندی کو ایم او یو کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی سے منسلک کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اسرائیل نہ صرف جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حال ہی میں واشنگٹن میں امریکہ‘ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے بھی انکار کر چکا ہے۔لبنان ایک ایسا حساس معاملہ ہے جو کسی بھی وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے کیونکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا کہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اگرچہ ایم او یو پر دستخط ہو چکے اور ایران و امریکہ کے درمیان ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا جا چکا‘ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بدستور بہت گہری ہے۔ صدر ٹرمپ کی لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی پالیسی‘ غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے مسلسل حملے‘ نیز پورے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو کسی نئی جنگ کے خدشے کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ایران اس بات پر آمادہ نظر نہیں آتا کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی ممکنہ نئے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے سب سے مؤثر تزویراتی ہتھیار‘ یعنی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے آپشن‘ سے دستبردار ہو جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں