"DRA" (space) message & send to 7575

امریکہ ایران مذاکرات پس و پیش کا شکار

امریکی صدر کے حکم پر ایران پر نئے فضائی حملوں‘ دھمکیوں اور پھر یکایک پیچھے ہٹ جانے کو ٹرمپ کی ایک اور سفارتی قلابازی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 10 جون کو ایران پر حملوں سے دو روز قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل پر دستخط ہونے میں محض دو یا تین دن باقی رہ گئے ہیں۔ سی این این کے مطابق اسی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے پر آمادہ نہیں۔
بدھ‘ 10جون کی رات امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز کے قرب و جوار میں واقع ایران کے فضائی دفاعی نظام کی تنصیبات اور چند سول انفراسٹرکچر کے مراکز‘ جن میں میٹھے پانی کے ذخائر بھی شامل تھے‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگلے حملوں میں امریکہ نے ایران کے وسیع علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے فوجی اور غیر فوجی دونوں نوعیت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کے خلاف امریکہ کے پہلے حملے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے تھے جبکہ ایک روز بعد ہونے والے حملوں کا جواز صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی شرائط پر مبنی ڈیل پر دستخط کرنے میں تاخیر کو قرار دیا۔ حالانکہ امریکی صدر خود متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ حتمی ڈیل کی انہیں جلدی نہیں اور وہ ہفتوں تک اس کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں ''اس قسم کے معاملات طے ہونے میں وقت لگتا ہے‘‘۔
ان حملوں سے ایک روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بات چیت کے دوران ایران کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ڈیل مکمل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس نے بڑی معقول تجاویز پیش کی ہیں‘ تاہم انہیں حتمی شکل دینے میں ہفتے نہیں بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ لیکن ثابت ہوا کہ ٹرمپ اپنی طبیعت کی بے صبری کے باعث اتنا عرصہ انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں اور انہوں نے ایران پر محض یہ الزام عائد کر کے کہ اس نے ڈیل پر دستخط کرنے میں بہت دیر لگا دی ہے‘ حملوں کا حکم دے دیا۔ ان کے بقول ایران کو اس تاخیر کی قیمت چکانا پڑے گی اور یہ قیمت ڈونلڈ ٹرمپ بمباری کی صورت میں وصول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے پر بھی دیگر امور کی طرح ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف اسی سانس میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران امریکی شرائط پر مبنی ڈیل پر دستخط نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس طرح اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے گا؟
امریکہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور سابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ جنرل (ر) مارک کیمٹ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اپنی بے صبری کی وجہ سے سفارتی ذرائع سے وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جو وہ چاہتے تھے کیونکہ ایرانیوں نے نہایت ماہرانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ اب وہ انہی مقاصد کو طاقت کے بل پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل کیمٹ نے کہا کہ اگرچہ تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب ایک طاقتور حریف نے اپنے نسبتاً کمزور مدمقابل کو طاقت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کی ایک مثال ویتنام جنگ کے آخری برسوں میں امریکہ کی جانب سے شمالی ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی اور ملک کے دیگر علاقوں کو کارپٹ بمبنگ کا نشانہ بنا کر جنیوا مذاکرات (1973ء) میں شرکت پر آمادہ کرنے کی صورت میں موجود ہے‘ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ 53 سال پرانے طریقۂ کار کو آج بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ ان میں صبر‘ استقامت اور برداشت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور انہوں نے ذہنی طور پر خود کو اس صورتحال کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تیسرے دن دو سے تین مرتبہ یہ کہہ کر کہ ڈیل تقریباً تیار ہے اور اس پر دستخط ہونے والے ہیں‘ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اچانک حملہ دنیا کے لیے تو باعثِ حیرت ہو سکتا ہے مگر ایرانیوں کے لیے نہیں۔ کیونکہ آٹھ اپریل سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں متعدد خلاف ورزیوں نے ایران کو ٹرمپ کے بارے میں چوکنا کر رکھا ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران پر دوبارہ حملے سے حیران نہیں ہوئے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ حملے کسی بھی وقت ہو سکتے تھے‘ اس لیے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق ان کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رکھی تھی۔
جمعرات 11 جون کو بھی ٹرمپ نے ایران پر بڑے حملے کرنے کا اعلان کیا مگر بعد ازاں حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ تیار ہے‘ وقت اور جگہ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ساڑھے تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ کس سمت جائے گی اور اس کا انجام کیا ہو گا۔ دوسری جانب اگر ایران امریکی کارروائیوں کا جواب نہیں دیتا تو یہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو گا‘ جو ایران کیلئے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ اس لیے جنگ میں وقفے کے باوجود جنگ کے دوبارہ آغاز کا خدشہ برقرار رہے گا‘ کیونکہ امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکہ نے اب اپنا مقصد سفارتی زبان کے بجائے بموں کی زبان میں حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر امریکہ جنگ بندی ختم کر کے ایران پر حملے کرتا ہے تو اسرائیل بھی دوبارہ ایران پر حملہ آور ہو سکتا ہے جبکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس مرتبہ جنگ کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہو گا۔ ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ کم سے کم وقت میں اپنا مقصد حاصل کیا جائے‘ اور اس کے لیے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کی جائے۔ اگر ایران ہمسایہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر شدت سے حملے کرتا ہے اور وہاں سے امریکی طیاروں کو ایران پر حملہ آور ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو اسرائیل بھی کسی نہ کسی بہانے جنگ میں کود پڑے گا اور اسرائیل کی شرکت سے جنگ کی نوعیت میں خطرناک تبدیلی آ جائے گی اور یہ جنگ یقینا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ابھی تک خوش آئند بات یہ ہے کہ فریقین میں سے کسی نے بھی سفارتی سطح پر بات چیت کے عمل سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے ان سے رابطہ قائم کر کے بمباری روکنے کا کہا۔ اگرچہ ایران نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے مگر تہران میں ایک قطری وفد موجود ہے جو ایران اور امریکہ کے مابین اختلافات کی خلیج پاٹنے کی غرض سے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ پاکستان اپنی مصالحانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے ایران کو دوبارہ حملوں کا جو نشانہ بنایا ہے‘ اس سے دونوں ممالک کے مابین بداعتمادی کی وہ خلیج‘ جو پہلے ہی خاصی وسیع تھی‘ مزید گہری ہو گئی ہے۔ نتیجتاً امریکہ اور ایران میں جوہری مسئلے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔بے یقینی کی اس صورتحال کے باعث نہ صرف خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ اس سے ملحقہ خطوں‘ یعنی جنوبی اور وسطی ایشیا میں بھی کشیدگی‘ غیر یقینی اور تصادم کے خدشات موجود رہیں گے جو خطے کے تمام ممالک میں امن‘ استحکام اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں